کچھ ملاقاتیں انٹرویو نہیں رہتیں۔
آپ سوالات کی ایک فہرست لے کر جاتے ہیں، سامنے بیٹھے شخص کے جواب سننے اور ریکارڈ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذہن میں ایک ترتیب ہوتی ہے کہ کون سا سوال پہلے پوچھنا ہے، کس طرح واقعے کی نئی تفصیل لینی ہے اور آخر میں اس پوری گفتگو کو چند اقتباسات اور چند پیراگرافوں میں کیسے سمیٹ دینا ہے۔
لیکن کبھی کبھی سامنے بیٹھا انسان آپ کے تمام سوالوں سے بڑا ہو جاتا ہے، بہت بڑا۔
گذشتہ دنوں ایک ڈھلتی شام میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں رضیہ نورین کے سامنے بیٹھا تھا۔ انگریزی اخبار ’عرب نیوز‘ کے لیے ان کا انٹرویو کرنا تھا۔ میرے ذہن میں صحافت کی وہی معمول کی ترتیب تھی، مگر رضیہ کی کہانی سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ کچھ کہانیاں لکھی نہیں جاتیں، انہیں بس سنا جاتا ہے اور پھر کچھ دیر خاموش رہا جاتا ہے۔
رضیہ نورین نرس ہیں۔ 21 برس سے۔
کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (کے این آئی سی یو) سے شروع ہونے والا ان کا سفر ایمرجنسی، ایچ ڈی یو اور پھر پمز اسلام آباد کی نرسری تک پہنچا۔ 21 برس میں کتنے بچے ان کے ہاتھوں سے گزرے، کتنی ننھی سانسیں انہوں نے سنبھالیں اور کتنی راتیں ان بچوں کے پاس جاگ کر گزاریں، شاید اس کا کوئی حساب نہیں۔
ہسپتال کی فائلوں میں یہ سب شاید ڈیوٹی، شفٹ اور سروس کے خانوں میں درج ہو۔
لیکن کچھ رشتے فائلوں میں درج نہیں ہوتے۔ وہ کینولا لگاتے ہوئے بنتے ہیں۔ آکسیجن کی نالی سیدھی کرتے ہوئے بنتے ہیں۔ رات کے کسی پہر بچے کے رونے پر اسے اٹھا لینے سے بنتے ہیں اور کبھی کبھی زندگی اور موت کے درمیان چند سیکنڈوں میں بن جاتے ہیں۔
وہ دن بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ پمز ہسپتال کی چارج نرس رضیہ نورین دوا تیار کر رہی تھیں۔ الماری کھولی، دوا نکالی اور پلٹیں تو سامنے آگ کا الاؤ تھا۔ ایسی آگ، جس کے سامنے آدمی کے پاس سوچنے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ ایک طرف باہر جانے کا راستہ تھا۔ دوسری طرف شعلے۔ ایک طرف اپنی جان، دوسری طرف وہ بچے، جو اپنی مدد کے لیے خود ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔
رضیہ نے شعلوں کی طرف قدم بڑھا دیا۔
کہانی یہاں تک پہنچی تو میں نے پوچھا، ’اس لمحے ذہن میں کیا تھا؟‘
وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔ پھر آنکھوں میں نمی آ گئی، کہنے لگیں: ’ایک ماں کیا کرتی ہے؟ پہلے اپنی جان بچاتی ہے یا اپنے بچے کی؟‘
یہ بچے ان کے نہیں تھے۔ ان کی کوکھ سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ان کے گھروں کے پتے شاید انہیں معلوم بھی نہ ہوں، لیکن ہسپتال کی نرسریوں میں بعض اوقات خون کے رشتے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ وہاں ایک نرس کسی بچے کی نبض پکڑتے پکڑتے اس کی ماں بن جاتی ہے۔ وہ بچے جن کو جنم دینے والی ماؤں نے انہیں ابھی تک چھوا نہیں ہوتا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رضیہ نے کہا: ’یہ کام ایک ماں ہی تو کرتی ہے۔‘
پھر وہ جملہ آیا، جس نے اس پوری کہانی کا مطلب بدل دیا۔ وہ اس لمحے وہاں کوئی ڈیوٹی نرس نہیں تھیں۔ آنکھوں میں چمک کے ساتھ کہنے لگیں: ’میں ان بچوں کی پہلی ماں تھی۔‘
ان بچوں میں ایک بچہ صرف 1050 گرام کا تھا۔ ایک کلو سے ذرا سا زیادہ۔ اتنا چھوٹا کہ اسے دیکھ کر شاید کوئی یہ یقین نہ کرے کہ اس ننھے سے جسم کے اندر زندگی اتنی ضد کے ساتھ موجود ہے۔
وہ انکیوبیٹر میں تھا۔ آکسیجن کی نالیاں لگی تھیں۔ مشینیں اس کی سانسوں کی حفاظت کر رہی تھیں، لیکن اس وقت پروٹوکول اور زندگی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ نالیاں ہٹانا خطرناک تھا، مگر وہاں رک جانا اس سے بھی زیادہ جان لیوا تھا۔
رضیہ نے بچے کو اٹھایا۔ آگ اور دھوئیں کے بیچ اسے اپنے سینے سے لگایا اور باہر کی طرف دوڑیں۔ باہر پہنچ کر بچے کو دوسرے ہاتھوں میں دیتے ہوئے کہا: ’اسے فوراً این آئی سی یو لے جاؤ۔ آکسیجن دو۔ میں باقی بچوں کو لینے جا رہی ہوں۔‘
اور وہ واپس مڑ گئیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ایک عام آدمی شاید اپنی جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹتا ہے۔
رضیہ آگ کی طرف واپس گئیں، کیونکہ اندر ابھی بچے تھے۔ ان میں ایک عفیفہ کا بچہ تھا اور دوسرا علی، دونوں آکسیجن سپورٹ کے بغیر تھے جن کو نکالنا نسبتاً آسان تھا۔ علی سرکاری ریکارڈ میں شاید ایک ’میڈیکو لیگل کیس‘ تھا، مگر رضیہ کے لیے وہ صرف ایک کیس نہیں تھا۔ وہ علی تھا۔
رات کے تین بجے اسے گود میں لینے والی عورت کے لیے وہ ایک نام تھا، ایک چہرہ تھا، ایک ننھا سا وجود تھا، جسے وہ دودھ پلاتی تھیں، جس کی شرارتیں سہتی تھیں۔ رضیہ کے موبائل میں اس کی ویڈیو بھی محفوظ تھی۔ سرکاری کاغذ پر وہ ایم ایل سی تھا۔ رضیہ کی نظر میں وہ علی تھا۔
پھر ایک دھماکہ ہوا۔ دھوئیں نے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ رضیہ اور ڈیوٹی پر ڈاکٹر رمشا نے موبائل کی ٹارچ روشن کی۔ دونوں زمین پر جھک کر، دھوئیں کی تہہ کے نیچے سے رینگتے ہوئے اندر جانے کی کوشش کرتی رہیں۔ مگر ہر بہادری کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ زہریلا دھواں سانس لینے نہیں دے رہا تھا۔ راستہ بند تھا اور وقت ان کے خلاف تھا۔
کہانی سناتے سناتے میں نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو کہنے لگیں: ’کاش مجھے ایک منٹ اور مل جاتا۔‘
بس۔ نہ کوئی دعویٰ، نہ اپنی بہادری کا ذکر، نہ کوئی شکوہ۔ صرف ایک منٹ کی خواہش۔ ایک ایسا منٹ، جو شاید دو زندگیاں بدل سکتا تھا۔
حکومت نے اعزازات دیے۔ میڈیا نے خبریں بنائیں۔ لوگوں نے داد دی، لیکن رضیہ نے خود کسی کو یہ نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ایک بچے کو آگ سے نکالا ہے۔ سی سی ٹی وی سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ دھوئیں کے اندر بار بار جانے والی وہ عورت کون تھی۔ انکوائری میں پوچھا گیا: ’یہ کون کر رہا تھا؟‘ بتایا گیا: یہ رضیہ تھیں۔
شاید یہی اس واقعے کی سب سے بڑی بات ہے۔ جو کام ہمارے لیے ہیرو ازم تھا، رضیہ کے لیے وہ ڈیوٹی بھی نہیں تھی۔ وہ ماں کا کام تھا۔ اور ماں اپنے بچے کو بچا کر اعلان نہیں کرتی۔ وہ انعام نہیں مانگتی۔ وہ تصویر کے لیے نہیں رکتی۔
’کبھی کسی ماں کو انعام کی ضرورت ہوتی ہے؟‘ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔
انٹرویو ختم ہوا تو میرے اندر کا صحافی چند لمحوں کے لیے پیچھے ہٹ گیا۔ میں عام طور پر تصاویر کے معاملے میں بہت محتاط رہتا ہوں مگر اس دن رضیہ کو دیکھ کر میں نے کہا: ’رضیہ صاحبہ، آج میں ایک اصلی سپر سٹار کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا ہوں۔‘
وہ مسکرائیں۔ گلابی پرنٹڈ سوٹ، گلے میں بے ترتیب سا دوپٹہ، ہاتھ میں ایک عام سا موبائل فون۔ دیکھنے میں وہ بالکل ایک عام ورکنگ ویمن تھیں۔ تھکی ہوئیں۔ سادہ سی عورت، جن کے ہاتھ میں کینولا لگا ہوا تھا، لیکن اس سادگی کے پیچھے چند دن پہلے کی وہ صبح کھڑی تھی، جب ایک عورت نے اپنی زندگی اور کئی ننھی زندگیوں کے درمیان انتخاب کیا تھا۔ وہ یقیناً سپر سٹار تھیں۔
سپر سٹار کے ساتھ میری تصویر بن گئی۔ ہم دونوں ایک فریم میں کھڑے تھے۔ ایسے میں مجھے وہ بچہ یاد آیا۔ وہ 1050 گرام کا بچہ، جس کی سانسیں رب کی منشا کے بعد رضیہ کے بہادرانہ فیصلے کی محتاج تھیں۔ وہ شاید اس وقت کسی انکیوبیٹر میں سو رہا ہوگا۔ شاید اسے کچھ معلوم نہیں کہ ایک دن ایک عورت آگ میں داخل ہوئی تھی۔
شاید اس بچے کو کبھی معلوم بھی نہ ہو۔ وہ بڑا ہوگا، اپنی زندگی جیے گا، اپنے لوگوں کو پہچانے گا اور شاید کبھی یہ نہ جان سکے کہ اس کی زندگی کے پہلے دنوں میں ایک ایسی عورت بھی تھی، جس نے اسے جنم نہیں دیا تھا، مگر اسے مرنے نہیں دیا۔
رخصت ہوتے ہوئے رضیہ نے ایک بات کہی۔
شاید وہ بچہ جب بڑا ہوگا تو اسے میڈیا سے یہ معلوم ہو کہ اس کی جنم دینے والی ماں کے علاوہ بھی ایک اور ماں ہے، وہ رضیہ نورین ہے۔
