وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں 26 اگست کو ہونے والی آتش زدگی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں پمز اور متعلقہ اداروں کے آٹھ افسران کو معطل کر کے فوری طور پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
رپورٹ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے آج 29 اگست کو وزیراعظم کو واقعے سے متعلق عبوری رپورٹ پیش کی، جس میں اب تک جمع کیے گئے حقائق، واقعے کی دستیاب وڈیو اور عبوری سفارشات شامل تھیں۔
معطل کیے جانے والے افسران میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، شعبہ نیونیٹولوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیر رجسٹرار ڈاکٹر نگہام، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چوہدری وارث علی رضا، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل سی ای ایس ڈاکٹر عبدالرحمٰن اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان شامل ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق چارج نرس نسرین اور سکیورٹی گارڈ ماریہ کو بھی مزید احکامات تک ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان دونوں کے خلاف مزید کارروائی کا فیصلہ انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے وزارت قومی صحت اور پمز انتظامیہ کو میسرز بیلفورٹ سکیورٹی کے ساتھ معاہدے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
اس عبوری رپورٹ کے مطابق سکیورٹی کمپنی بظاہر اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ’اگر کمپنی کی مبینہ ناکامی کی تصدیق ہوگئی تو معاہدے کی شرائط کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور مزید کارروائی کے لیے وزارت داخلہ کو بھی ریفرنس بھیجا جائے گا۔‘
فائر سیفٹی میں سنگین خامیوں کا انکشاف
عبوری رپورٹ میں ہسپتال کے فائر سیفٹی نظام، ایمرجنسی ایگزٹ، ہنگامی اطلاع رسانی اور نومولود بچوں کے انخلا کے طریقہ کار میں بظاہر سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیٹی کے مطابق پمز میں مختلف انتظامی امور کے لیے ایس او پیز موجود ہیں، تاہم فائر ڈیٹیکشن، الارم فعال کرنے، بیرونی اداروں کو اطلاع دینے، واقعے کی کمان سنبھالنے، آکسیجن اور بجلی منقطع کرنے، ایمرجنسی راستے کھولنے اور ایسے نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے کوئی اسی سطح کا تفصیلی طریقہ کار سامنے نہیں آیا جو خود نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔
رپورٹ کے مطابق پمز محکمہ سکیورٹی کے 27 مئی 2023 کے ایس او پی میں فائر سیفٹی کو ادارہ جاتی ذمہ داری قرار دیا گیا تھا۔ اس میں سکیورٹی کو مریضوں، عملے، زائرین اور ہسپتال کے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی یقینی بنانے جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی کو فائر ایگزٹس کی دستیابی، فائر فائٹنگ آلات کی فعالیت اور متعلقہ عملے کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
کمیٹی کے مطابق پمز نے سانحے سے قبل فائر سیفٹی کی خصوصی تربیت کے لیے اہلکار بھی نامزد کیے تھے۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ انتظامی سطح پر فائر کے خطرے کو تسلیم کیے جانے کے باوجود مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسری میں ذمہ داریاں اور تربیت عملی تیاری میں کیوں تبدیل نہیں ہو سکیں۔
سی ای ایس کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں بھی فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور متاثرہ قرار دیا گیا۔ ہے۔ ’رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی ایگزٹس اور فرار کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، سکیورٹی نے ابتدائی کارروائی کے بعض حصوں میں رکاوٹ ڈالی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔‘
کمیٹی کے مطابق فائر فائٹرز کو بعض بند فائر ایگزٹ دروازے اور دیگر راستے زبردستی کھولنے پڑے۔ لیکن کمیٹی متعلقہ دروازوں کی حیثیت اور جگہ کی مزید تصدیق کر رہی ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جولائی میں پمز کے خواتین نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ، جو موجودہ واقعے سے تقریبا سات ہفتے قبل پیش آئی تھی، انتہائی اہم ہے۔ اس واقعے کی انکوائری میں بھی دھوئیں کا پتہ لگانے والے نظام، خودکار الارم، ہنگامی وارننگ، فائر ڈرلز، فائر سیفٹی معائنوں، ایمرجنسی لائٹنگ، فرار کے راستوں، فائر ایکسٹنگوشرز، بجلی کے معائنوں اور تحریری ایمرجنسی رسپانس پلان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کمیٹی کے مطابق جولائی کا واقعہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ اگست میں آگ کس وجہ سے لگی، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں فائر سیفٹی کا خطرہ پہلے ہی ایک معلوم اور دستاویزی مسئلہ بن چکا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینئر انتظامی سطح پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ لیکن کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی افسر کو محض عہدے کی بنیاد پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ تعین ضروری ہے کہ متعلقہ افسر کی ذمہ داری کیا تھی، اسے خامی کا علم تھا یا نہیں، اس کے پاس کارروائی کا اختیار اور موقع تھا یا نہیں اور اس کی مبینہ غفلت کا واقعے کے نتائج سے کیا تعلق تھا۔
نرس کے لیے ستارہ خدمت کی منظوری
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے آتش زدگی کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کو ستارہ خدمت سے نوازنے کی منظوری بھی دی۔
انہوں نے وارڈ میں موجود ایک دوسری نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے افراد کی فوری اور ایک ساتھ تعیناتی کی ہدایت کی۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی، جسے وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔
فائر کی وجہ تاحال حتمی نہیں
کمیٹی کے مطابق آگ لگنے کی اصل تکنیکی وجہ بھی ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آئی۔ مختلف بیانات میں اے سی، انکیوبیٹر/وارمر یا برقی شارٹ سرکٹ اور پلگ پر اوور لوڈنگ کو ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
آئیسکو کے ریکارڈ میں بیرونی فیڈر میں کسی خرابی یا ٹرپنگ کی نشاندہی نہیں ہوئی، جس کے بعد تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی برقی نظام، ساکٹس، پلگ، وائرنگ اور منسلک آلات کی جانب ہو گیا ہے۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ بعض انکیوبیٹرز کی حال ہی میں مرمت اور سروسنگ کے ریکارڈ موجود ہیں، تاہم ان ریکارڈز سے آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ سرکٹ کی برقی حفاظت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ کے پہلے شعلے کی وجہ اور آگ کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان میں تبدیل ہونے کی وجوہات الگ الگ سوالات ہیں۔ آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہ ہونے کے باوجود ان حفاظتی نظاموں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جو ابتدائی آگ کو بڑے سانحے میں تبدیل ہونے سے روک سکتے تھے۔
فرنٹ لائن عملے نے ریسکیو کی کوشش کی
سی سی ٹی وی شواہد کے مطابق موقع پر موجود عملے نے فوری طور پر نومولود بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، سکیورٹی گارڈ ماریہ متاثرہ حصے میں داخل ہوئی، جبکہ سٹاف نرس رضیہ نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی۔
کمیٹی کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ عمومی الزام درست نہیں کہ فرنٹ لائن طبی اور نرسنگ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ تاہم انفرادی طور پر ریسکیو کی کوششوں اور ادارہ جاتی سطح پر فائر ایمرجنسی کی تیاری کی ذمہ داری کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔
ایمرجنسی اطلاع میں تاخیر کی تحقیقات جاری
کمیٹی کے مطابق سی سی ٹی وی سے آگ کا ہنگامی واقعہ تقریبا چھ بج کر 38 منٹ پر سامنے آتا ہے، جبکہ سی ای ایس کے ریکارڈ کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال تقریبا چھ بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، فائر سروس تقریبا سات بج کر پانچ منٹ پر پہنچی جبکہ ایک اور کال تقریبا سات بج کر ایک منٹ پر ریکارڈ ہوئی۔
تاہم کمیٹی نے فی الحال کسی فرد یا ادارے کو 16 منٹ کی تاخیر کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ ٹیلی فون ریکارڈ، پمز کنٹرول روم کا ریکارڈ، سی ای ایس کال ریکارڈنگ اور سی سی ٹی وی کے اوقات کو ملا کر یہ طے کیا جائے گا کہ پہلی کال کس نے کی، سی ای ایس کو مؤثر اطلاع کب ملی اور آیا کوئی قابلِ اجتناب تاخیر ہوئی یا نہیں۔
کمیٹی کے مطابق سی ای ایس کو اطلاع ملنے کے بعد اس کی تقریباً چھ سے سات منٹ میں آمد ریکارڈ پر ہے، اس لیے فی الحال زیادہ اہم سوال اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو کی تاخیر کے بجائے آگ کا بروقت پتہ لگانے، الارم، اندرونی اطلاع رسانی اور بیرونی ایمرجنسی سروس کو کال کرنے کے نظام کا ہے۔
فوجداری تحقیقات کی گنجائش
انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ دستیاب ریکارڈ میں ایسے بظاہر سنگین حالات موجود ہیں جن پر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے ممکنہ مجرمانہ غفلت کے تحت تحقیقات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
خاص طور پر اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بند یا رکاوٹ زدہ دروازے لازمی ایمرجنسی ایگزٹس تھے اور ذمہ دار افراد نے جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث انہیں فوری ہنگامی استعمال کے لیے دستیاب نہیں رکھا، تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا۔
اسی طرح اگر یہ ثابت ہو کہ جولائی کی آگ کے بعد متعلقہ افسران کو فائر سیفٹی خامیوں کا علم تھا، ان کے پاس انہیں دور کرنے کا اختیار اور مناسب وقت موجود تھا لیکن انہوں نے بغیر جواز ضروری اقدامات نہیں کیے اور یہی خامیاں بعد ازاں نومولود بچوں کی ہلاکتوں میں مؤثر ثابت ہوئیں تو فوجداری تحقیقات کے لیے معاملہ بن سکتا ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ حتمی ذمہ داری عائد کرنے سے پہلے متعلقہ افسران کی ذمہ داری، علم، اختیار، موقع، مبینہ کوتاہی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے درمیان تعلق کا تعین کیا جانا ضروری ہے۔