وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی موت کے واقعے میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پر آٹھ ملازمین کو فوری معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جان سے چلے گئے۔
اس واقعے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا اور وزیراعظم نے معاملے کی تہہ تک جانے کے لیے تحقیقاتی کیمٹی قائم کر کے اسے حقائق سامنے لانے کی ذمہ داری دی تھی۔
جمعے کو شہر کی انتظامی اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات ناکافی اور ہنگامی اخراج کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت پمز واقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔
رپورٹ میں جن افراد کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ان میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز فوجداری کارروائی کی جائے جبکہ سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدے داران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا تربیت موجود نہیں تھی۔
پمز کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر پایا گیا جبکہ واقعے کے وقت سپروائزری عملہ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے وقت وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر موجود تھے جبکہ آگ لگنے سے پورا وارڈ جلنے تک صرف دو منٹ کا وقت لگا۔
وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا جبکہ نیونیٹل وارڈ میں آگ سے متعلق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔
ایمرجنسی ردعمل پر بھی سوالات
تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا گیا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔
بریفنگ کے مطابق ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص افسر موجود نہیں تھا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ قبل جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی۔
نرس کے لیے ستارہ خدمت کی منظوری
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے آتش زدگی کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینے کی منظوری بھی دی۔
انہوں نے وارڈ میں موجود ایک دوسری نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے افراد کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت کی۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی، جسے وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں قرارداد منظور
اس سے قبل پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعے کو واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں ’قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار‘ کرتے ہوئے حکومت سے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری کی پیش کردہ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ’غفلت یا حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کے ذمہ دار کسی بھی فرد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔‘
قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ’وفاقی حکومت کے ہسپتالوں، بالخصوص نوزائیدہ بچوں اور اطفال کے یونٹس میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔‘
اس معاملے پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا ’میں کوئی اگر مگر کی بات نہیں کروں گا، وزیر اعظم نے اس حوالے کمیٹی بنا دی ہے۔ اور اس واقعے کا شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔‘
وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا واقعہ بہت تکلیف دہ ہے۔
’ایسے حادثات پوری زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں، حادثے کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے وزیراعظم نے کمیٹی بنائی۔‘
وزیر قانون مصطفی کمال نے کہا ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں بھی ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو پمز ہسپتال کی بہتری کے حوالے رپورٹ پیش کرے گی۔