کارلوس الکاراز نے کہا ہے کہ یو ایس اوپن میں اپنے ٹائٹل کے دفاع سے قبل وہ خود کو ’100 فیصد‘ فٹ محسوس کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کلائی کی انجری کے باعث چار ماہ تک کھیل سے دور رہنے کے بعد وہ بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔
ہسپانوی کھلاڑی نے کہا کہ گرینڈ سلم سے قبل سخت پریکٹس سیشنز نے ان کا اعتماد بحال کیا ہے۔
انہوں نے پری ٹورنامنٹ میڈیا ڈے پر صحافیوں سے کہا: ’مجھے یہاں آ کر ان کھلاڑیوں کے ساتھ پریکٹس کرنے کی ضرورت تھی تاکہ میں دوبارہ مقابلے کا احساس حاصل کر سکوں، اور یہ واقعی ایک کڑا امتحان ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں اور ... اس نے مجھے یہ جاننے میں بہت مدد دی ہے کہ اس وقت سب کچھ صرف میرے ذہن میں ہے۔‘
23 سالہ الکاراز، جو جنوری میں آسٹریلیا میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کیریئر گرینڈ سلام جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے، 16 اپریل کے بعد سے سنگلز نہیں کھیلے۔ وہ دائیں کلائی کی انجری کے باعث بارسلونا اوپن سے دستبردار ہو گئے تھے اور بعد میں فرانسیسی اوپن اور ومبلڈن دونوں میں شرکت نہیں کی۔
الکاراز نے، جنہوں نے منگل کو یو ایس اوپن کے مکسڈ ڈبلز ایونٹ میں سرینا ولیمز کے ساتھ شراکت کی، جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کی کوچنگ اور معاونت کرنے والی ٹیم کو مکمل یقین ہے کہ وہ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا: ’مجھے اپنے لوگوں پر بھروسہ کرنا ہوگا جو مجھے بتاتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس لیے مجھے صرف 100 فیصد دینا ہے۔ میں بس اس خوف سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘
الکاراز اپنے دفاعی سفر کا آغاز روس کے تجربہ کار کھلاڑی رومن سفیولن کے خلاف کریں گے۔
اگر وہ اس رکاوٹ اور اس کے بعد کے دو میچز عبور کر لیتے ہیں تو چوتھے راؤنڈ میں ان کا مقابلہ ممکنہ طور پر ٹومی پال یا الیگزینڈر ببلک سے ہو سکتا ہے، جبکہ کوارٹر فائنل میں بین شیلٹن یا آرتھر فِلس میں سے کوئی ایک ان کا حریف بن سکتا ہے۔
عام حالات میں ہسپانوی سٹار کو نیویارک میں دوبارہ ٹائٹل جیتنے کا خودکار فیورٹ سمجھا جاتا، لیکن انجری نے 2026 میں ان کے امکانات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تاہم دیگر ٹاپ کھلاڑی الکاراز کے امکانات کو مسترد نہیں کر رہے۔
عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر موجود الیگزینڈر زویریف، جو عالمی نمبر ایک یانک سنر کی دستبرداری کے بعد ٹاپ سیڈ ہیں، نے کہا: ’میری توقع ہے کہ وہ پہلے یا دوسرے میچ میں کچھ حد تک فارم سے باہر نظر آئیں گے، لیکن جب وہ اس مرحلے سے گزر جائیں گے تو میرے خیال میں وہ یہاں یقیناً ٹائٹل کے مضبوط امیدوار ہوں گے۔‘
امریکی کھلاڑی اور نویں سیڈ ٹیلر فرٹز نے کہا کہ گرینڈ سلام میں واپسی، جہاں مردوں کے میچ پانچ سیٹس میں سے تین جیتنے کی بنیاد پر ہوتے ہیں، ’ضروری نہیں کہ آسان ہو۔‘
انہوں نے کہا: ’لیکن اگر آپ ابتدائی چند راؤنڈز عبور کر لیں تو آپ خود کو کافی اچھا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ وہ دوبارہ فارم حاصل نہ کریں اور بہترین کھیل کا مظاہرہ نہ کریں۔ کون جانتا ہے؟‘
سنر کے ساتھ مقابلے میں وقفہ
شائقین نے الکاراز اور ولیمز کی مختصر شراکت کو بے حد پسند کیا۔ سپرسٹار جوڑی نے اپنا پہلا میچ جیتا لیکن دوسرے راؤنڈ میں سوئٹزرلینڈ کی بیلنڈا بینچچ اور اٹلی کے فلاویو کوبولی کے ہاتھوں واضح شکست کھا گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ الکاراز نے بعض اوقات شان دار کھیل پیش کیا، لیکن کئی مواقع پر وہ مکمل ردھم میں نظر نہیں آئے۔ بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان کی سروس میں پہلے جیسی طاقت نہیں تھی۔
2025 میں الکاراز اور سنر نے چاروں گرینڈ سلام ٹائٹلز آپس میں بانٹ لیے تھے اور دونوں نے دو، دو جیتے تھے۔ نوجوان سپرسٹارز راجر فیڈرر، رافیل ندال اور نوواک جوکووچ کی نسل کے بعد سب سے قابل اعتماد چیمپیئن ثابت ہوئے ہیں۔ جوکووچ ان تین عظیم کھلاڑیوں میں واحد ہیں جو اب بھی کھیل رہے ہیں اور نیویارک میں ٹائٹل کے امیدوار ہیں۔
لیکن 2025 میں تین گرینڈ سلام فائنلز میں ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کے بعد، 2026 میں دونوں کا کسی بڑے ایونٹ میں آمنا سامنا نہیں ہوگا کیونکہ سنر گھٹنے کی انجری کی وجہ سے نیویارک سے دستبردار ہو چکے ہیں۔
الکاراز نے اپنے حریف کے بارے میں کہا: ’اب ہم تقریباً چھ یا سات ماہ تک ایک دوسرے کو نہیں دیکھیں گے، اس لیے سچ کہوں تو یہ ایک عجیب صورت حال ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’میں ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ امید ہے کہ وہ بہترین انداز میں صحت یاب ہوں گے اور دوبارہ اپنے بہترین کھیل کے ساتھ کورٹ پر واپس آئیں گے۔‘
الکاراز نے اعتراف کیا کہ مقابلوں سے دور رہنا مشکل تھا، خاص طور پر ابتدائی دنوں میں جب وہ اپنے بازو کا استعمال نہیں کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے اس وقفے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا: ’ساتھ ہی میں نے اپنے وقت کو خوب انجوائے کیا۔ میں نے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا اور گھر پر رہنے کا لطف اٹھایا۔‘
جولائی میں الکاراز ورلڈ کپ کے فائنل میں شرکت کے لیے نیویارک آئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے آبائی ملک سپین کو ارجنٹینا کے خلاف فتح حاصل کرتے دیکھا۔
ارینا سبالینکا کی گرتی ہوئی فارم سے متعلق خدشات
دریں اثنا، ارینا سبالینکا نے جمعے کو اپنی گرتی ہوئی فارم سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے یو ایس اوپن کا خواتین کا مسلسل تیسرا ٹائٹل جیتنے کی تیاری شروع کر دی۔
بیلاروس سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر ایک حالیہ مایوس کن نتائج کے بعد نیویارک پہنچی ہیں اور مارچ میں میامی اوپن جیتنے کے بعد سے کوئی ٹورنامنٹ نہیں جیت سکیں۔
تاہم چار مرتبہ کی گرینڈ سلام سنگلز چیمپیئن کا اصرار ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران فلشنگ میڈوز میں نئی شروعات کے لیے تیار ہیں، جہاں گذشتہ برسوں میں انہیں شان دار کامیابیاں ملی ہیں اور انہوں نے 2024 اور 2025 میں مسلسل ٹائٹل جیتے تھے۔
28 سالہ کھلاڑی نے اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں صحافیوں کو بتایا: ’میں ہمیشہ پُراعتماد رہتی ہوں۔‘
سبالینکا نے سال کا آغاز شان دار انداز میں کیا۔ انہوں نے برسبین میں ٹائٹل جیتا اور پھر آسٹریلین اوپن کے فائنل تک پہنچیں، جہاں انہیں تین سیٹس میں ایلینا ریباکینا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
اس شکست کے بعد انہوں نے واپسی کرتے ہوئے انڈین ویلز اور میامی میں کامیابیاں حاصل کیں اور 'سن شائن ڈبل' مکمل کیا، لیکن اس کے بعد سے کوئی ٹائٹل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
وہ فرانسیسی اوپن کے کوارٹر فائنل میں باہر ہو گئیں اور ومبلڈن کے چوتھے راؤنڈ میں نومی اوساکا نے انہیں شکست دی۔
ان شکستوں کے بعد اس ماہ کے آغاز میں کینیڈین اوپن اور سنسناٹی اوپن کے چوتھے راؤنڈ سے بھی ان کا سفر ختم ہو گیا، جس کے باعث نیویارک میں ان کے پاس خود کو ثابت کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
تاہم سبالینکا کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی خراب فارم پر قابو پا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ’کھیل کی خوبصورتی یہ ہی ہے۔ جتنے بھی سخت چیلنج میرے سامنے آئیں گے، میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آؤں گی۔‘
انہوں نے کہا: ’یہ میرا بہترین دور نہیں تھا۔ میں اپنا دفاع نہیں کرنا چاہتی، لیکن ظاہر ہے میں اس دور کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔ میں کئی معاملات سے نمٹ رہی تھی۔‘
’لیکن کسے پروا ہے؟ میں اپنی بہترین کارکردگی پیش نہیں کر سکی۔ یہ سخت سبق مجھے بہت زیادہ مضبوط بنائیں گے اور مزید محنت کرنے پر مجبور کریں گے۔‘
’میں نے اپنے کھیل کے ذہنی پہلو پر کام کیا۔ میں نے اپنے ذہن کو دوبارہ تازہ کرنے اور زیادہ مضبوط انداز میں واپس آنے کی کوشش کی، اس لیے یہ سب کچھ مجھے مزید مضبوط ہی بنائے گا۔ میرے لیے دوبارہ واپسی صرف وقت کی بات ہے۔‘
اگر سبالینکا نیویارک میں اپنے کیریئر کا پانچواں گرینڈ سلام ٹائٹل جیت لیتی ہیں تو وہ کرس ایورٹ اور سرینا ولیمز کے بعد مسلسل تین یو ایس اوپن جیتنے والی صرف تیسری خاتون بن جائیں گی۔
سبالینکا نے کہا: ’وہ سب سے عظیم کھلاڑیاں ہیں اور لیجنڈز ہیں۔ میں نے انہیں دیکھتے ہوئے کھیلنا سیکھا اور مجھے پسند تھا کہ وہ کس طرح ٹور پر حکمرانی کرتی تھیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر میں اپنا نام کسی حد تک ان کے ساتھ شامل کر سکوں تو یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔‘
