جنوبی کوریا میں انٹرنیشنل سافٹ ٹینس ٹورنامنٹ میں انڈیا کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا ہے کہ ہم نے یہ کامیابی اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر انچیون میں منعقد ہونے والے سالانہ کوریا کپ انٹرنیشنل سافٹ ٹینس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مکسڈ ٹیم نے انڈیا کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
محدود وسائل کے باوجود پاکستان کے کھلاڑیوں نے 12 ممالک کے درمیان ہونے والے اس مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
15 سے 22 جون تک جاری رہنے والے ٹورنامنٹ میں فلپائن نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔
پاکستانی ٹیم تمام کھلاڑی کراچی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے سرکاری سرپرستی سے زیادہ ذاتی محنت اور اپنے وسائل شامل تھے۔
’اپنی مدد آپ کے تحت یہ کامیابی حاصل کی‘
پاکستانی مکسڈ ٹیم کے کپتان حمزہ سعید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوریا کپ ہر سال منعقد ہونے والا بین الاقوامی ایونٹ ہے، جس میں اس مرتبہ 12 ممالک نے حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ٹورنامنٹ میں مردوں، خواتین اور مکسڈ ٹیموں کے الگ الگ مقابلے ہوتے ہیں۔ ہماری مکسڈ ٹیم نے انڈیا کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، جو ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔‘
حمزہ سعید کے مطابق ٹیم نے یہ کامیابی زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’جب انڈیا کے خلاف فیصلہ کن میچ جیتا تو خوشی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔ البتہ میدان میں ہم نے ہمیشہ انڈین ٹیم کو صرف ایک حریف ٹیم کے طور پر دیکھا اور مکمل سپورٹس مین سپرٹ کے ساتھ کھیلے۔
’لوگ کہتے تھے لڑکی ہے، کیا کر لے گی‘
کراچی سے تعلق رکھنے والی سوشیالوجی کی طالبہ فاطمہ زیدی بھی اس کامیاب ٹیم کا حصہ تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کی والدہ مس تحسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی تین بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں، لیکن فاطمہ نے اپنی کارکردگی سے پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ انہوں نے کہا: ’جب معلوم ہوا کہ میری بیٹی نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔‘
فاطمہ زیدی کے مطابق کھیل کے آغاز میں انہیں اکثر یہ جملہ سننا پڑتا تھا کہ ’لڑکی ہے، کیا ہی کر لے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی۔ مسلسل محنت کرتی رہی اور جب انڈیا کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے میری برسوں کی محنت اور خواب ایک ساتھ پورے ہو گئے ہوں۔‘
’پاکستان کے پرچم کی نمائندگی سب سے بڑا اعزاز ہے‘
ٹیم میں شامل کراچی کی رہائشی اور گھریلو خاتون سیدہ ایرج بتول نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے کسی بھی اعزاز سے بڑھ کر ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اگر جذبہ مضبوط ہو اور مقصد پاکستان کی نمائندگی کرنا ہو تو تمام مشکلات آسان لگنے لگتی ہیں۔‘
ان کے مطابق جب وہ قومی پرچم کے ساتھ مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں تو یہی احساس انہیں مزید محنت کرنے اور بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب دیتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہماری خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی سافٹ ٹینس کو دیگر کھیلوں کی طرح سرکاری سرپرستی اور سہولیات ملیں تاکہ مزید نوجوان بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔‘