دہشت گردی کی آگ نہ روکی گئی تو پورا پاکستان لپیٹ میں آ سکتا ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود خیبر پختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی 26 ستمبر، 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکے کے بعد ایک ویڈیو بیان دیتے ہوئے(سکرین گریب)

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہفتے کو ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

آج ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ریسکیو 1122 کے مطابق 11 افراد جان سے گئے اور 30 زخمی ہوئے۔ 

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں اور عسکریت پسند پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

آج کے جان لیوا حملے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ دہشت گردی کی نئی لہر میں صوبے کے شہری، پولیس اہلکار اور فوجی جانیں گنوا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا گذشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے کے دوران صوبے میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کیے گئے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت بارہا پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے۔

’ہم نے وفاق کو صوبائی ایکشن پلان بھی دیا، جس کے ذریعے 100 دن میں امن کے لیے اقدامات کرنے کی صلاحیت کا اظہار کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ صوبائی ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر پولیس کو بجٹ سے ہٹ کر 35 ارب روپے فراہم کیے جبکہ پولیس کے لیے جدید اسلحہ، آلات اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے بھی اضافی وسائل دیے گئے۔

ان کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا گیا ہے، جو ان کے بقول 103 فیصد اضافہ ہے۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں، تاہم صوبائی پولیس کو تاحال مطلوبہ آلات اور بکتر بند گاڑیاں فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے اور اسے مطلوبہ سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا پاکستان کو اپنے مفاد میں سنجیدہ فیصلے کرتے ہوئے موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔

سہیل آفریدی نے وفاقی وزرا کے بعض بیانات پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ گفتگو ملک میں نفرت اور انتشار کو بڑھا سکتی ہے۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے جیسے بیانات انتہائی تشویش ناک ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی تنقید اداروں پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں پر ہے جن کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ وہ صوبے اور ملک کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

’ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا‘

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا جبکہ چار اکتوبر کو عوام پرامن طریقے سے اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کریں گے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن چار اکتوبر کو اسی حق کو استعمال کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی تھی، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے۔

پنجاب میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے دعوے بھی سامنے آئے تھے، تاہم حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومت کی جانب سے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور اہم مقامات پر نگرانی بڑھانے سمیت دیگر انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ حکام نے واضح کیا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

27 ستمبر کی کال کے بعد اب پی ٹی آئی نے چار اکتوبر کو دوبارہ احتجاج کی کال دی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جماعت کا احتجاج پرامن رہے گا اور عوام اپنے آئینی و قانونی حق کے تحت اس میں حصہ لیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست