حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج کے باعث پاکستان زیر انتظام کشمیر میں گرمائی سیاحت کا سیزن ایک بار پھر شدید متاثر ہوا ہے۔ مسلسل تیسرے سال پیک سیزن کے دوران احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے باعث سیاحتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور سیاحت سے وابستہ کاروبار کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
مظفرآباد، جسے کشمیر کی سیاحت کا گیٹ وے کہا جاتا ہے، اس وقت مکمل طور پر سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں سے وادی نیلم، جہلم ویلی، لیپہ، پیر چناسی اور دیگر سیاحتی مقامات کا سفر شروع ہوتا ہے، تاہم سات جون کے بعد سے شہر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام جاری ہے۔
احتجاج کے باعث انٹرنیٹ، پیٹرول پمپس اور بینک بھی دو ہفتوں سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ حکومت نے احتجاج شروع ہونے سے قبل ہی سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی تھی، جس کے بعد سیاحتی علاقے تقریباً خالی ہو گئے۔
سال 2024 میں بھی گرمائی سیاحت کے عروج کے دوران اس وقت کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی نشستوں، بجلی اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کیا گیا تھا، جس کے باعث مختلف اضلاع اور بالخصوص مظفرآباد کی جانب آنے والے راستے بند رہے۔
محکمہ سیاحت کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں مجموعی طور پر 29 لاکھ سیاح کشمیر آئے، تاہم جون اور جولائی میں گرمائی سیاحت معمول سے کہیں کم رہی، جس کی ایک بڑی وجہ احتجاج اور ٹرانسپورٹ کی بندش قرار دی گئی۔
2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی کشیدگی اور مختصر جنگ کے باعث لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں، خصوصاً وادی نیلم، جہلم ویلی اور پونچھ ڈویژن میں سیاحتی سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئیں۔ محکمہ سیاحت کے مطابق اس سال صرف 21 لاکھ سیاح کشمیر کا رخ کر سکے، جو گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔
رواں سال 2026 میں سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کو بہتر کاروبار کی امید تھی، تاہم مئی کے آخر میں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔ حکومت نے سیاحوں کی حفاظت کے پیش نظر انہیں کشمیر سے نکل جانے کی ہدایت جاری کی، جبکہ چھ جون کو حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں اب تک چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
محکمہ سیاحت کے مطابق رواں سال عید کے موقع پر صرف 65 ہزار سیاح کشمیر پہنچے، جبکہ اس کے بعد پیک سیزن میں متوقع سیاحوں کی آمد بھی احتجاج کے باعث نہ ہو سکی۔
اس وقت وادی نیلم کے شاردہ، کیل، رتی گلی، تاوبٹ، اپر نیلم اور اڑنگ کیل، وادی جہلم کے لیپہ اور قاضی ناگ، جبکہ پونچھ ڈویژن کے تولی پیر، بنجوسہ، حویلی، باغ اور لس ڈنہ سمیت متعدد سیاحتی مقامات پر ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز خالی پڑے ہیں۔
وادی نیلم سے تعلق رکھنے والے سیاحتی وی لاگر اور صحافی امیر الدین مغل نے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں سے وادی نیلم کی گرمائی سیاحت مسلسل زوال کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو برس سے جاری احتجاج، ملکی حالات اور حالیہ موسمی واقعات، خصوصاً کلاؤڈ برسٹ جیسے حادثات نے بھی سیاحت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ہوٹل مالکان اور سیاحت پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما محفوظ انقلابی کے مطابق چند برس قبل پیک سیزن میں ہزاروں سیاح مظفرآباد سے وادی نیلم، جہلم ویلی اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں احتجاج کے باعث سیاحوں کی آمد تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔