تین ممالک کا روس پر کرونا ویکسین کی تحقیق ہیک کرنے کا الزام

تینوں حکومتوں نے کریملن کی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروپ یقینی طور پر روسی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہا ہے۔

برطانیہ  سمیت متعدد ممالک میں  کووڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائلز جاری ہیں (اے ایف پی)

برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے روسی ہیکرز پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کی لیباٹریوں میں کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین کی تیاری کے لیے جاری تحقیقات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تینوں حکومتوں نے کریملن کی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروپ یقینی طور پر روسی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان الزامات کے بعد ان تینوں ممالک کے ماسکو سے سفارتی تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

 ایک علیحدہ دعوے میں برطانیہ نے الزام لگایا کہ روسی ’سٹیٹ ایکٹرز‘ نے برطانیہ اور امریکہ کے مابین تجارتی دستاویزات کو افشا کر کے گذشتہ سال برطانیہ کے عام انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

دوسری جانب روس نے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر مسترد کردیا۔برطانیہ کے ’نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر‘ (این سی ایس سی) اور کینیڈا کی ’کمیونیکیشن سکیورٹی سٹیبلشمنٹ‘ (سی ایس ای) کا کہنا ہے کہ ’اے پی ٹی 29‘ ایک سائبر جاسوس گروپ ہے جو یقینی طور پر روسی انٹلیجنس سروس کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس جائزے کی تائید امریکی اداروں نے بھی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا: ’2020 میں اے پی ٹی 29 نے کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں کووڈ 19 کی ویکسین کی تیاری میں مصروف مختلف تنظیموں کو نشانہ بنایا اور غالباً اس روسی گروپ کا ارادہ کرونا کی ویکسین کی تیاری اور تحقیقات سے متعلق معلومات کو چوری کرنا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ہیکنگ گروپ کووڈ19 ویکسین کی تحقیق اور تیاری میں مصروف تنظیموں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا کیوں کہ روسی وبائی امراض سے متعلق انٹیلی جنس سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہے ہیں۔

ایک الگ بیان میں امریکی قومی سلامتی ایجنسی نے ان الزامات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’اے پی ٹی 29 انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے سرکاری، سفارتی، تھنک ٹینک، ہیلتھ کیئر اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد ٹولز اور تکنیک کا استعمال کرتی ہے۔‘

ماسکو پر 2018 میں روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی سکرپل کو قتل کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد سے روس اور برطانیہ کے تعلقات عدم اعتماد کا شکار ہیں۔

برطانیہ متعدد ممالک میں سے ایک ہے جہاں کووڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائلز جاری ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں جاری تحقیق کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے ہیں لیکن نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے کہا کہ ’قیمتی دانش ورانہ معلومات‘ چوری کی کوشش میں اس لیب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

این سی ایس سی کے آپریشنز کے ڈائریکٹر پال چیچسٹر نے کہا کہ معلوم اہداف میں برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا کی ویکسین کی تحقیق اور تیاری میں مصروف تنظیمیں شامل ہیں اور اس عمل میں میل ویئر سمیت دیگر تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اے پی ٹی 29 نے حکومتی، سفارتی، تھنک ٹینک اور توانائی کے گروپوں کو بھی ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا