امریکہ کی خواتین کی آئس ہاکی ٹیم نے امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سالانہ خطاب میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صدر نے مذاقاً کہا تھا کہ اگر انہوں نے خواتین ٹیم کو مدعو نہ کیا تو شاید ان کا مواخذہ ہو جائے۔
امریکہ میں صدر کا سالانہ خطاب، جسے عموماً ’سٹیٹ آف دی یونین‘ کہا جاتا ہے، کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے ہوتا ہے۔ روایت کے مطابق ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان اس موقع پر خصوصی مہمان مدعو کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی امریکہ کی آئس ہاکی ٹیم کو بھی اس خطاب کے لیے مدعو کیا تھا۔
امریکی خواتین ٹیم نے جمعرات کو کینیڈا کو دو کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر 2018 کے بعد پہلی بار اولمپک طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آن لائن شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں صدر کو مردوں کی ٹیم سے سپیکر فون پر گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ انہیں خطاب میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں، ’ہمیں خواتین ٹیم کو بھی بلانا ہوگا، آپ جانتے ہیں نا؟‘ اس پر کھلاڑی ہنستے ہیں۔
صدر نے مزید کہا، ’میرا خیال ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو شاید میرا مواخذہ ہو جائے۔‘”
یہ واضح نہیں کہ مردوں کی ٹیم نے باضابطہ طور پر دعوت قبول کی یا نہیں، تاہم ویڈیو میں انہیں خوشی کا اظہار کرتے اور ’ہم شریک ہیں‘ کہتے سنا جا سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے مطابق خواتین ٹیم نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ کھلاڑی خطاب میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔
بیان میں کہا گیا، ’ہمیں اپنے طلائی تمغہ جیتنے والی امریکی خواتین ہاکی ٹیم کو دی گئی دعوت پر دلی مسرت ہے اور ہم ان کی غیر معمولی کامیابی کے اعتراف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم مقابلوں کے بعد پہلے سے طے شدہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث کھلاڑی اس تقریب میں شرکت سے قاصر ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس حوالے سے ٹیم سے مزید تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔