آئس لینڈ کا طنز: اگر پاکستان نے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا تو کیا ہو گا؟

آئس لینڈ نے لکھا ہے کہ پاکستان جلد ورلڈ کپ میں شمولیت کا فیصلہ کرے کیوں کہ ان کے کپتان، جو کہ بیکر ہیں، کو تیاری کے لیے وقت چاہیے۔

آئی لینڈ کے کرکٹ کھلاڑی برفانی ماحول میں کھیلتے ہوئے (آئس لینڈ کرکٹ)

سوشل میڈیا پر اپنی حسِ مزاح کے لیے مشہور آئس لینڈ کرکٹ بورڈ اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے فیصلے میں تاخیر کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔

26 جنوری کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے کے لیے دو فروری تک کا وقت لینا ان کی ٹیم کے ساتھ ’ناانصافی‘ ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے لکھا: ’ہمارے کپتان ایک پروفیشنل بیکر (نانبائی) ہیں اور اگر ہمیں پاکستان کی جگہ اچانک ورلڈ کپ کھیلنا پڑا تو انہیں تیاری کے لیے چھٹیاں لینے میں وقت درکار ہو گا۔‘

یہ تو مذاق تھا، مگر اس نے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے: اگر پاکستان واقعی فروری 2026 میں انڈیا اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرتا ہے، تو ان کی جگہ کون لے گا؟

قوانین کے مطابق اس کا جواب آئس لینڈ نہیں، بلکہ افریقی ملک یوگنڈا ہے۔

اس کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں آئی سی سی کی موجودہ ٹی 20 رینکنگ پر نظر ڈالنا پڑے گی۔ یہاں سکاٹ لینڈ 14ویں نمبر پر براجمان ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ دنیا کی ٹاپ 20 ٹیموں میں واحد ٹیم ہے جو اس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے آگے موجود تمام ٹیمیں پہلے ہی ٹورنامنٹ کا حصہ ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ یورپین ریجنل کوالیفائر راؤنڈ میں جگہ نہ بنا سکی، جہاں سے اٹلی اور نیدرلینڈز نے بازی مار لی۔

اصولی طور پر رینکنگ میں سب سے اوپر ہونے کی وجہ سے سکاٹ لینڈ کو پہلا حقدار تھا، اس لیے جونہی بنگلہ دیش کی ٹیم باہر ہوئی، اسے موقع مل گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انڈیا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، اور مطالبہ کیا تھا کہ اس کے میچ سری لنکا منتقل کر دیے جائیں، تاہم آئی سی سی نے ایسا نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوگنڈا: پاکستان کا ممکنہ متبادل

اگر پاکستان ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، تو قوی امکان ہے کہ یوگنڈا وہ ٹیم ہو گی جو سابق عالمی چیمپیئن پاکستان کی جگہ لے گی۔

اس صورت میں یوگنڈا کو گروپ اے میں شامل کیا جائے گا، جس میں عالمی چیمپیئن انڈیا کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ جیسی ٹیمیں شامل ہیں۔

یہ یوگنڈا کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہو گا، جنہوں نے 2024 میں امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی تھی، البتہ وہ گروپ سٹیج سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔

یوگنڈا کرکٹ: 1914 سے 2026 تک کا سفر

یوگنڈا کی کرکٹ ہسٹری خاصی دلچسپ اور طویل ہے۔ اس خطے میں کرکٹ کی جڑیں 1914 تک جاتی ہیں جب یوگنڈا نے ’ایسٹ افریقہ پروٹیکٹوریٹ‘ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا تھا۔ تاہم، باقاعدہ مسابقتی کرکٹ کا آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا جب انہوں نے اپنے علاقائی حریفوں کینیا اور تنزانیہ (اس وقت کا ٹانگانیکا) کے خلاف سیریز کھیلنا شروع کیں۔

1966 سے یوگنڈا کے کھلاڑی ایک مشترکہ ’ایسٹ افریقن ٹیم‘ کا حصہ رہے، جو بعد میں 1989 میں ’ایسٹ اینڈ سینٹرل افریقہ‘ ٹیم بن گئی۔ یوگنڈا نے اپنی الگ حیثیت میں پہلا آئی سی سی ٹورنامنٹ 2001 میں کینیڈا میں ہونے والی آئی سی سی ٹرافی میں کھیلا۔

چھ بار آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کوالیفائر میں شرکت کرنے کے بعد، بالآخر 2023 کے افریقہ کوالیفائر میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے انہوں نے 2024 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا اور تاریخ رقم کی۔

اب اگر 2026 میں پاکستان جیسا بڑا حریف میدان چھوڑتا ہے، تو یوگنڈا کے لیے یہ لگاتار دوسرے ورلڈ کپ میں شرکت کا غیر متوقع اور تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ