بنگلہ دیش کو انڈیا میں ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار پر ڈیڈ لائن کا سامنا

آئی سی سی نے تاحال کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا، تاہم کرک انفو اور دیگر انڈین میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ڈھاکہ کو فیصلہ کرنے کے لیے بدھ تک کی مہلت دی گئی ہے۔

بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان 24 ستمبر 2025 کو دبئی میں ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کا میچ کھیلا گیا (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

رپورٹس کے مطابق کرکٹ کی عالمی تنظیم نے بنگلہ دیش کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ ماہ انڈیا میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے پر رضامند ہو، ورنہ ٹورنامنٹ سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا میں کھیلنے سے انکار کیا ہے اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے درخواست کی ہے کہ ان کے میچز کو شریک میزبان سری لنکا منتقل کیا جائے۔

بی سی بی نے ہفتے کے آخر میں ڈھاکہ میں آئی سی سی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے، مگر کوئی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

بی سی بی کے بیان میں کہا گیا، ’مذاکرات کے دوران بی سی بی نے اپنے میچز کو سری لنکا منتقل کرنے کی باضابطہ درخواست دوبارہ پیش کی۔‘

آئی سی سی نے تاحال کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا، تاہم کرک انفو اور دیگر انڈین میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ڈھاکہ کو فیصلہ کرنے کے لیے بدھ تک کی مہلت دی گئی ہے۔

آئی سی سی کے ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر بنگلہ دیش نے انکار برقرار رکھا تو ان کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے، جو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرنے والی ٹیموں میں سب سے زیادہ درجہ رکھتی ہے۔

ٹی20 ورلڈ کپ کا آغاز 7 فروری سے ہوگا، اور بنگلہ دیش کو انگلینڈ کے گروپ سی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے تمام میچز کلکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ بنگلہ دیش کی جگہ گروپ بی  کی ٹیم آئرلینڈ سے تبادلہ کر دیا جائے، جن کے میچز سری لنکا میں ہیں۔

بی سی بی کے مطابق، ’دیگر نکات کے علاوہ، اس امکان پر بھی غور کیا گیا کہ کم سے کم لاجسٹک تبدیلی کے ساتھ بنگلہ دیش کو کسی دوسرے گروپ میں منتقل کر کے معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔‘

پاکستان اپنی تمام میچز کولمبو میں کھیلے گا، جو بھارت کے ساتھ آئی سی سی کے اس معاہدے کے تحت ہے کہ دونوں ٹیمیں عالمی یا علاقائی مقابلوں میں نیوٹرل وینیو پر کھیلیں گی۔

یہ تنازع 3 جنوری کو شروع ہوا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو انڈیا کے بورڈ نے ہدایت دی کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مصطفیض الرحمان کو ٹیم سے نکال دیں، جس پر ڈھاکہ میں شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

انڈیا اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب 2024 میں ڈھاکہ میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اُس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ — جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں — اقتدار سے ہٹا دی گئیں۔

گذشتہ ماہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی کی مذمت کی۔

بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ تشدد کے پیمانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ