کھلاڑی انڈیا کے ساتھ تنازعے پر دباؤ نہ لیں: بنگلہ دیشی کپتان

انڈیا میں سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو میچز منتقل کرنے کی درخواست کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

گلادیش کے کپتان نجم الحسن شانٹو 18 ستمبر 2024 کو چنئی میں پریس کانفرنس کے دوران  گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)

بنگلہ دیش کے ٹیسٹ کپتان نجم الحسن شانٹو نے انڈیا کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹیم کے بارے میں کتنی ہی باتیں یا تنازعات کیوں نہ ہوں، بنگلہ دیشی کھلاڑی باہر سے آنے والا دباؤ ظاہر نہیں ہونے دیتے اور اپنا فطری کھیل جاری رکھتے ہیں۔‘

انڈیا میں سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو میچز منتقل کرنے کی درخواست کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

شانٹو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم کسی بھی ورلڈ کپ میں اچھا نتیجہ حاصل نہیں کر سکے۔ پچھلی مرتبہ (2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ) ہمارے پاس اچھا موقع تھا لیکن ہم کر نہیں پائے۔‘

انہوں نے کہا: ’آپ نوٹ کریں گے کہ ہر ورلڈ کپ سے پہلے کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے۔ اور ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر جس نے ایک یا دو بڑے ٹورنامنٹس کھیلے ہوں، میں بتا سکتا ہوں کہ یہ ہمیں متاثر کرتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’لیکن چونکہ ہم پروفیشنل کرکٹر ہیں، اس لیے ہم ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے کچھ بھی ہمیں متاثر نہیں کر رہا۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا ہم پر اثر ہوتا ہے۔ یہ آسان نہیں ہے۔ بہتر ہوتا کہ یہ چیزیں نہ ہوں۔ پھر بھی کھلاڑی کوشش کرتے ہیں کہ ہر مسئلے کو ایک طرف رکھ کر بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔‘

اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے تین میچ کولکتہ میں شیڈول ہیں۔

حال ہی میں انڈیا اور بنگلادیش کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ماہ نئی دہلی میں بنگلادیش ہائی کمیشن کے قریب سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا تھا۔

انڈیا میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے بنگلادیش کو بتایا ہے کہ انہیں ورلڈ کپ میچز انڈیا میں ہی کھیلنے ہوں گے ورنہ میچز ضائع تصور کیے جائیں گے۔

تاہم بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ایسی کسی دھمکی کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئی سی سی کے ساتھ مل کر قابل قبول حل نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔

شانٹو، جنہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، نے کہا: ’میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ تمام معاملات ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم آخرکار جہاں بھی ورلڈ کپ کھیلیں، میں سمجھتا ہوں کہ کھلاڑیوں کو پھر بھی ایسا ظاہر کرنا ہوگا کہ جیسے انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاکہ وہ ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھا سکیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ