بنگلہ دیشی حکومت نے انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کی جانب سے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو ٹورنامنٹ سے باہر نکالنے کے فیصلے کے ردعمل میں ملک میں ’آئی پی ایل 2026‘ کی نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت اطلاعات و نشریات نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئندہ 26 مارچ 2026 سے منعقد ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیشی سٹار کھلاڑی جناب مستفیض الرحمان کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی ٹیم سے باہر نکالنے کی ہدایت نوٹس میں آئی ہے۔
’انڈین کرکٹ بورڈ کے اس طرح کے فیصلے کی کوئی منطقی وجہ معلوم نہیں ہے اور ایسے فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کو رنجیدہ، صدمہ دیا ہے اور مشتعل کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسی صورت حال میں تا حکمِ ثانی انڈین پریمیئر لیگ کے تمام کھیلوں اور پروگراموں کی تشہیر/نشریات بند رکھنے کی ہدایت کے ساتھ درخواست کی جاتی ہے۔‘
یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے کسی بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل ہفتے کو آئی پی ایل فرینچائز کولکتہ نائیٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمٰن کو بی سی سی آئی کی ہدایت پر مزید کوئی وضاحت کیے بغیر ٹیم سے نکال دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں انڈیا اور بنگلہ دیش کے حالات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ اسی کشیدگی کے دوران انڈیا کی بعض مذہبی اور سیاستی شخصیات کی جانب سے مستفیض کی شمولیت پر تنقید کی تھی۔
دوسری جانب بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ اس کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ انڈیا سے باہر منتقل کیے جائیں، کیوں کہ اس کے کھلاڑیوں کو انڈیا میں سلامتی کا خطرہ ہے۔
بنگلہ دیش میں کھیل اور نوجوانوں کے امور کے عبوری مشیر آصف نذرل نے اتوار کو کہا تھا کہ اگلے ماہ ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا میں کروانے کی درخواست کی جائے گی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق آصف نذرل نے کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت میں بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے۔‘
تاہم آئی سی سی نے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ورلڈ کپ کے موجودہ شیڈیول کے مطابق بنگلہ دیش کا پہلا میچ سات فروری کو کولکتہ میں طے ہے۔