اعصابی بیماری کے باوجود برطانوی خاتون کی 200 میراتھنز مکمل

میگن نے تقریباً 8,433 کلومیٹر کا فاصلہ کیا اور 2016 میں قائم ہونے والا ریکارڈ بھی توڑ دیا اور سابق رنر کے مقابلے میں 97 دن کم وقت میں یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

33  سالہ رنز نے اکتوبر میں انگلینڈ کے علاقے سائزویل بیچ سے اپنی طویل اور کٹھن مہم کا آغاز کیا (میگن باکسال/انسٹاگرام)

برطانیہ کی ایک خاتون رنر نے ملٹی پل سکلروسیس (ایم ایس) جیسی پیچیدہ بیماری کے باوجود 204 دنوں میں 200 میراتھن مکمل کر کے برطانیہ کے پورے ساحل کے گرد دوڑنے کا منفرد ریکارڈ قائم کر دیا۔

33  سالہ میگن باکسال نے اکتوبر میں انگلینڈ کے علاقے سائزویل بیچ سے اپنی طویل اور کٹھن مہم کا آغاز کیا۔

اے او ایل نیوز ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے ساحلی علاقوں پر مشتمل تقریباً 8,433 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور مختلف شہروں اور قصبوں سے گزرتے ہوئے بالآخر اسی مقام پر واپس پہنچیں جہاں سے انہوں نے سفر شروع کیا تھا۔

اپنے اس غیر معمولی سفر کے دوران میگن نے کلاکٹن، بلیک پول، ڈنڈی اور نیو کاسل سمیت متعدد علاقوں میں دوڑ لگائی۔ انہوں نے یہ چیلنج نہ صرف مکمل کیا بلکہ 2016 میں قائم ہونے والا ریکارڈ بھی توڑ دیا اور سابق رنر کے مقابلے میں 97 دن کم وقت میں یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

اس مہم کا ایک اہم مقصد فلاحی کام بھی تھا۔ میگن نے اپنی دوڑ کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے کے لیے 57 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کی۔

ان کا کہنا ہے کہ بیماری کی تشخیص کے بعد اسی ادارے نے مشکل وقت میں ان کی مدد کی، جس کے باعث وہ دوسروں کے لیے بھی آگاہی پیدا کرنا چاہتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میگن کو دوڑنے کا شوق اپنے پالتو کتے کے ساتھ جاگنگ سے پیدا ہوا جب کہ وہ اپنے چچا سے بھی متاثر ہوئیں جو برطانیہ کے ساحل کے گرد پیدل سفر کر چکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں شدید سردی، تیز ہواؤں اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ان کے بقول اس تجربے نے انہیں سکھایا کہ مثبت سوچ کے ذریعے بڑی سے بڑی مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

میگن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس مہم کا یہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے لیکن وہ اسے اپنے سفر کا اختتام نہیں سمجھتیں۔ ان کے بقول، وہ مستقبل میں بھی ایسے چیلنجز کا حصہ بنتی رہیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل