انڈین میدیا کے مطابق فلمی ستارے سے سیاست دان بننے والے سی جوزف وجے نے انڈین ریاست تمل ناڈو کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے، جس کے ساتھ ہی کئی دنوں سے جاری سیاسی غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق 51سالہ وجے کی نئی قائم کردہ جماعت تملگا ویٹری کژگم (TVK) نے گذشتہ ہفتے ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں 108 نشستیں حاصل کیں۔
جس کے نتیجے میں وہ 234 رکنی اسمبلی میں اکثریت سے 10 نشستیں کم رہ گئے۔
انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے، جس کے پاس پانچ نشستیں ہیں، نتائج کے چند گھنٹوں کے اندر حمایت کا اعلان کر دیا۔ تاہم ریاست کے گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکر نے اس بات پر زور دیا کہ TVK حکومت بنانے کے لیے درکار 118 ارکانِ اسمبلی کی حمایت کے ثبوت پیش کرے۔
ہفتہ کی رات، اداکار کو اس وقت تقرری کا خط موصول ہوا جب انہوں نے کئی چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کر لی۔
اب TVK کو چار جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (CPI-M)، ودوتھلائی چِرتھائیگل کچی (VCK) اور انڈین یونین مسلم لیگ (IUML)شامل ہیں۔
ان چاروں جماعتوں کے پاس اسمبلی میں دو دو نشستیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اب TVK کو 120 ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔
تقریب میں کئی ممتاز سیاست دانوں نے شرکت کی، جن میں اتحادی کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما راہل گاندھی بھی شامل تھے جو اس تقریب کے لیے دہلی سے پرواز کر کے آئے۔ فلمی شخصیات اور صنعت کار بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اتوار کے روز چنئی کے جواہر لعل نہرو انڈور سٹیڈیم میں وجے کے پہلے کابینہ میں ایک اور اداکار نے تمل ناڈو کے وزیرِ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
انڈین اداکار وجے دو سال سے بھی کم عرصے میں وزارت اعلیٰ تک کیسے پہنچے؟#India #Election #IndependentUrdu pic.twitter.com/4S8LqVd5zo
— Independent Urdu (@indyurdu) May 9, 2026
ان کا نام راجموہن، یا جیسا کہ وہ عام طور پر کہلاتے ہیں، ’پُٹ چٹنی راجموہن‘۔
راجموہن اروموگم ایک اداکار ہیں جو بنیادی طور پر سوشل میڈیا اور تمل فلموں میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک فلم “Ba Ba Black Sheep” کی ہدایت کاری بھی کی ہے۔
انڈیا ٹی وی نیوز کے مطابق اتوار کو تمل ناڈو کی حلف برداری کی تقریب کے دوران ایک لمحہ اُس وقت عوامی توجہ کا مرکز بن گیا جب نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سی جوزف وجے کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف اٹھاتے ہوئے سینئر رہنما کے اے سینگوٹائین کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔
یہ لمحہ چنئی کے جواہر لعل نہرو انڈور سٹیڈیم میں اس وقت پیش آیا جب گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکر 78 سالہ سینئر سیاست دان کو عہدے کا حلف دلا رہے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حلف اٹھانے کے بعد ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے سی جوزف وجے نے کہا کہ ’میں آپ سے یہ کہہ کر جھوٹے وعدے نہیں کروں گا کہ میں یہ کروں گا یا وہ کروں گا۔ میں صرف وہی کروں گا جو ممکن ہو۔‘
ٹی وی کے کے قیام کے صرف دو سال بعد اس اداکار نے اس ہفتے اپنی پہلی سیاسی کامیابی حاصل کی۔
سماجی انصاف اور بدعنوانی کے خاتمے کا وعدہ کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ ایم کے سٹالن کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی، جو ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیاسیات کے ماہر رامو منیوانن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی فتح یہ ثابت کرتی ہے کہ نوجوان نسل ایک نئے چہرے کو دیکھنا چاہتی تھی۔ بطور اداکار وجے کو خواتین میں بھی وسیع حمایت حاصل ہے، ان سب عوامل نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔‘
انڈین سینیما کے سب سے کرشماتی اداکاروں میں شمار کیے جانے والے سی. جوزف وجے کو تمل زبان میں ’تھلاپتی‘ یعنی سپہ سالار کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بچپن ہی میں 1984 میں اپنے والد کی ہدایتکاری میں بنی فلم سے کیا۔
2010 کی فلم ’سورا‘ میں انہوں نے ایک ایسے جواں ہمت نوجوان کا کردار ادا کیا جو ایک بدعنوان سیاستدان کو چیلنج کرتا ہے، اور سیاست میں قدم رکھنے کے بعد سے وہ اس کردار کی یاد کو مسلسل تازہ رکھتے آئے ہیں۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ ہر عوامی جلسے میں ہزاروں افراد کو جمع کرنے میں کامیاب رہے، باوجود اس کے کہ ستمبر میں ان کے ایک جلسے میں ہجوم کی بھگدڑ سے کم از کم 40 افراد جان سے گئے تھے۔
سیاست میں نووارد سی جوزف وجے، جنہیں بعض حلقے پہلے سے قومی سطح کی سیاسی خواہشات رکھنے والا سمجھتے ہیں، اب 80 ملین سے زائد آبادی والے اس اہم خطے کی روزمرہ انتظامی حقیقتوں سے دوچار ہوں گے۔
تمل ناڈو اپنی متعدد آٹوموبائل اور الیکٹرانکس فیکٹریوں کے ساتھ انڈین صنعت کا ایک اہم انجن ہے، اور یہی وہ واحد انڈین مقام ہے جہاں امریکی فون ساز کمپنی ایپل کا کارخانہ موجود ہے۔