’ہم نے تاریخ لکھ دی‘ کپتان افغان ویمن فٹ بال ٹیم

فیفا سربراہ نے ویڈیو کال پر اٹلی موجود افغان ویمن یونائیٹڈ کی کپتان کو فاطمہ حیدری کو بتایا کہ ان کی ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہے۔

افغان ویمنز یونائیٹڈ فٹ بال ٹیم کی کھلاڑی 24 اکتوبر 2025 کو کاسابلانکا میں راجا کلب ایتھلیٹک اکیڈمی آمد کے بعد (اے ایف پی)

فاطمہ حیدری اٹلی میں اپنے گھر بیٹھی میں تھیں جب انہیں فیفا کے سربراہ جیانی انفنٹینو کی ویڈیو کال موصول ہوئی۔

 سکرین پر افغان خواتین فٹبال ٹیم کی کپتان کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات اور براعظموں میں بکھری ہوئی ان کی ساتھی کھلاڑیوں کے چہرے بھی تھے، وہ خواتین جو اپنے پسندیدہ کھیل کی وجہ سے اپنے وطن سے جلا وطن ہو چکی تھیں۔

اچانک اعلان انفنٹینو نے ہی کیا اور کھلاڑیوں کو بتایا کہ فیفا انہیں جلا وطنی میں قومی ٹیم کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے، اور وہ بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے کی اہل ہوں گی۔ 

طالبان کے مسلح قبضے کے بعد جب بہت سے لوگ افغانستان سے نکل گئے، تقریباً پانچ سال بعد فاطمہ حیدری نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ یہ خبر سن کر جذبات کا سیلاب امڈ آیا۔

افغان ویمن یونائیٹڈ کی 24 سالہ کپتان فاطمہ حیدری نے کہا کہ ’جب انہوں نے ہمیں بتایا تو ہم سب دور رہ کر بھی سے رو رہے تھے۔‘ فیفا نے 29 اپریل کو اس فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اپنے قواعد میں ترمیم کرے گی تاکہ کابل میں طالبان حکومت کے اعتراضات کے باوجود نئی قومی ٹیم کی تشکیل کی اجازت دی جا سکے۔

فاطمہ حیدری، جنہوں نے نوعمری میں قدامت پسند ہرات میں نیٹو کی حمایت یافتہ گذشتہ افغان حکومت کے دور میں بھی، چھپ کر تربیت حاصل کی، کے لیے یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں 10 سال سے زیادہ عرصے کی جدوجہد کے بعد حقانیت ثابت ہوئی۔ وہ کہتی ہیں، ’یہ صرف خبر نہیں ہے۔ ہم نے تاریخ رقم کی ہے۔‘

2013 کی بات ہے، افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے بہت پہلے، جب 12 سالہ حیدری نے اپنے والد سے فٹ بال کھیلنے کی اجازت مانگی۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ ’میں نے دو تین لڑکیاں دیکھیں اور وہ گیند دیکھی جسے وہ اپنے پاؤں سے کھیل رہی تھیں۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں نے ایسا دیکھا، کیوں کہ افغانستان میں آپ اس کے عادی نہیں ہوتے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ گھر سے باہر نکلیں اور لڑکوں کے ساتھ بس کھیلنا شروع کر دیں۔ میرا مطلب ہے، یہ معمول کی بات نہیں۔‘

فاطمہ حیدری نے لڑکیوں سے پوچھا کہ ’کیا میں آپ کے ساتھ شامل ہو سکتی ہوں؟ کیا میں آپ کے ساتھ کھیل سکتی ہوں؟'

انہوں نے جواب دیا، ’ہاں۔‘

اس وقت فاطمہ حیدری کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ہرات میں نئی نئی ایک فٹ بال فیڈریشن قائم ہوئی ہے جو لڑکیوں کو فٹ بال کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔

اس کے بعد کی ہر بات ایک خواب کی طرح تھی۔ فاطمہ حیدری کہتی ہیں کہ ’میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتی جب میں نے اپنے ابو کو بتایا۔ میں نے ان سے پوچھا، کیا میں جا سکتی ہوں؟ اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا، چلو جا کر دیکھتے ہیں۔‘

وہ لمحہ جو دنیا کے بہت سے حصوں میں بالکل عام سا لگ سکتا ہے، افغانستان میں ہرگز عام نہیں تھا۔ نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں بھی فٹ بال کسی لڑکی کی ’بچپن کی معمول کی خواہش‘ نہیں سمجھا جاتا تھا اور تربیت اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر ہوتی تھی۔ فاطمہ حیدری کے بقول: ’ہم ہر وقت چھپتے رہتے تھے۔ ایسی جگہ جہاں معاشرے میں کوئی مرد ہمیں دیکھ نہ سکے۔‘

پھر بھی، کچھ بدل رہا تھا۔ خواتین کی لیگز کا آغاز ہوا۔ ٹورنامنٹ منعقد ہوئے۔ 2014 تک، ان کی جیسی ٹیمیں قومی سطح پر مقابلہ کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں، ’ہمارے پاس سب کچھ تھا، ہم تاریخ رقم کر رہے تھے۔‘

پھر، جسے وہ ’دو سے تین دن‘ کا عرصہ قرار دیتی ہیں، ان کی دنیا تباہ ہو گئی۔ جب 2021 میں نیٹو افواج کو باہر نکالنے کے بعد طالبان کابل میں داخل ہوئے تو یہ تبدیلی فوری اور مکمل تھی۔ فاطمہ حیدری کہتی ہیں، ’آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے سب کچھ کھو دیا ہے۔‘

اس کے بعد وقت کے خلاف ایک دوڑ شروع ہو گئی۔ کھلاڑیوں نے بیرون ملک اپنے رابطوں کو کال کی۔ صحافی، سابق ساتھی کھلاڑی، کارکن، ہر کوئی باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔ ہرات میں موجود حیدری کے لیے پیغام واضح تھا کہ فوراً کابل پہنچو۔

وہ کہتی ہیں، ’ہم نے 36 گھنٹے سے زیادہ کا سفر کیا، بغیر کھائے، بغیر سوئے، صرف وہاں پہنچنے کے لیے۔‘

کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کا راج تھا۔ سینکڑوں افغان باشندے طیاروں میں بھرے ہوئے تھے اور طالبان سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکی فوج نے، جو 20 سال بعد ملک چھوڑنے کے آخری گھنٹوں میں تھی، اپنے اتحادیوں اور اب تباہ ہونے والی گذشتہ حکومت کے ارکان کو نکالنے کے لیے ایئرپورٹ کو کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دیا تھا۔

اس وقت لرزہ خیز مناظر دیکھنے میں آئے جب ہزاروں مایوس لوگ ایئرپورٹ پر جمع ہو گئے، جو امریکی، برطانوی اور دیگر یورپی افواج سے منتیں کر رہے تھے کہ وہ انھیں باہر نکالیں، جن کے لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کام کیا تھا۔ کچھ لوگوں نے اڑان بھرنے والے طیاروں کے بیرونی حصوں کو بھی پکڑ لیا جس کے بعد وہ گر کر ہلاک ہو گئے۔

فاطمہ حیدری کہتی ہیں، ’سب نے وہ تصاویر دیکھی ہیں۔ آپ صرف زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ بس باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

فاطمہ حیدری اطالوی فوج کی مدد سے فرار ہوئیں، جو ہرات میں تعینات تھی اور نیٹو کے باقی دستوں کے ساتھ جا رہی تھی۔

وہ اب اٹلی کی رہائشی ہیں اور وہاں کی فٹ بال لیگز میں کھیلتی ہیں۔ ان کی ساتھی کھلاڑی یورپ، آسٹریلیا اور شمالی امریکہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔

ان میں سے بہت سی کھلاڑیوں کو 2021 میں افغانستان سے فرار ہونے کی کوششوں میں مغربی حکومتوں اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ فیفا کی جانب سے بھی مدد ملی۔

اگرچہ کچھ کو پناہ مل چکی ہے، لیکن دیگر کو غیر یقینی قانونی حیثیت کا سامنا ہے۔ ایک طویل عرصے تک، قومی ٹیم کے طور پر ان کی شناخت صرف یادوں میں ہی زندہ تھی۔

سابق کپتان خالدہ پوپل، جنہوں نے کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے انخلا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے چھ ممالک کے حکام کے ساتھ رابطے میں اہم کردار ادا کیا تھا، کہتی ہیں: ’پانچ سال تک، ہمیں بتایا گیا کہ افغان خواتین کی قومی ٹیم کبھی دوبارہ مقابلہ نہیں کر سکتی کیوں کہ جن مردوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا ہے وہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

اس کی وجہ سیاسی کے ساتھ ساتھ انتظامی بھی تھی. فیفا کے قواعد کے تحت ٹیم کا افغانستان فٹ بال فیڈریشن سے تسلیم شدہ ہونا ضروری تھا، ایک ایسا ادارہ جو طالبان کے زیر انتظام خواتین کے فٹ بال کی حمایت نہیں کرے گا۔

گذشتہ ماہ یہ صورت حال اس وقت تبدیل ہو گئی جب فیفا نے ٹیم کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے اپنے قوانین میں ترمیم کی، جس سے جلاوطن فٹ بالرز کو اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کی اجازت مل گئی۔

اگرچہ اب ٹیم کے لیے برازیل میں 2027 کے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا وقت گزر چکا ہے، لیکن وہ لاس اینجلس میں 2028 کے اولمپکس کے کوالیفائنگ مرحلے میں حصہ لے سکتی ہیں۔

فیفا کا یہ فیصلہ کھلاڑیوں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی برسوں کی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے اور یہ 2025 میں شروع کیے گئے ایک پائلٹ پروگرام کی کڑی ہے جس کا مقصد بے گھر ہونے والی کھلاڑیوں کے لیے ٹریننگ کیمپ اور دوستانہ میچز کا انعقاد کرنا تھا۔

23 کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ نے اس سے قبل اکتوبر اور نومبر 2025 کے درمیان چاڈ، تیونس اور لیبیا کے ساتھ دوستانہ ٹورنامنٹس کھیلے تھے۔

اس نئی حیثیت کے بعد افغان کھلاڑی آفیشل میچوں میں دوبارہ اپنے ملک کے نام والی کٹ پہن سکیں گی، جو انھوں نے 2018 کے بعد سے نہیں پہنی ہے۔

فاطمہ حیدری کے بقول: ’یہ موقع میرے لیے سب کچھ ہے۔ یہ فٹ بال سے بڑھ کر ہے، یہ افغان خواتین کی آواز بننے اور دنیا کو یہ دکھانے کے بارے میں ہے کہ کوئی چیز ہمیں خاموش نہیں کر سکتی۔ اپنے ملک کی دوبارہ نمائندگی کرنا سب سے بڑا اعزاز ہے۔‘

افغانستان کے اندر خواتین پر کھیلوں میں حصہ لینے پر عملی طور پر پابندی ہے، اور انھیں رسمی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے دور رکھا گیا ہے۔

فیفا کی حکمت عملی اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش ہے۔ فٹ بال کی عالمی باڈی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کے پروگرام کے تین حصے ہیں۔

 انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کے ذریعے افغانستان کے اندر موجود خواتین اور لڑکیوں کی محدود مدد؛ پابندیاں نرم کرنے کے مقصد سے سفارتی رابطے؛ اور ٹریننگ کیمپوں، کوچنگ اور ذہنی صحت کی خدمات کے ذریعے جلاوطن کھلاڑیوں کی براہ راست مدد۔

چوں کہ کھلاڑی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، اس لیے فیفا انفرادی طور پر کھلاڑیوں کو ٹریننگ اور مدد فراہم کرتا ہے۔ ’فیفا کی جانب سے فراہم کیے جانے والے امدادی پیکیج کے حصے کے طور پر، مقامی کلبوں میں ٹریننگ اور کھیلنے کے مواقع کے علاوہ سلیکشن کے عمل میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کے لیے انفرادی کوچنگ کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔‘

یہ ادارہ ’افغان خواتین کے فٹ بال کے لیے فیفا کی وسیع اور مخصوص حکمت عملی کے حصے کے طور پر افغان ویمن یونائیٹڈ کے لیے ٹیم آپریشنز کے مجموعی اخراجات اٹھاتا ہے۔

’فیفا جون میں شیڈول میچوں کے سلیکشن کے عمل میں حصہ لینے والی تمام 90 کھلاڑیوں کے لیے ایک سپورٹ پیکیج بھی فراہم کرتا ہے۔‘

افغان ویمن یونائیٹڈ کے لیے میچز پولین ہیمل کی قیادت میں ان کی کوچنگ ٹیم اور فیفا کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ ’دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی سکیورٹی کو میچز اور ممکنہ میزبان رکن ایسوسی ایشنز کے لیے ایک اہم پہلو سمجھا جاتا ہے۔‘

فاطمہ حیدری کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی میچ کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں، تو ڈریسنگ روم میں اپنی ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو بیک وقت عام اور یادگار ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’جب آپ ڈریسنگ روم میں ہوتے ہیں، تو آپ صرف کھیلنے کے بارے میں سوچتے ہیں، اور، آپ اپنا ماضی دیکھتے ہیں، آپ اپنا مستقبل دیکھتے ہیں، آپ آنے والی نسل کو دیکھتے ہیں، اس لمحے آپ کو سب کچھ نظر آتا ہے، اور آپ خود کو دیکھتے ہیں، اور یہ ایک بہت اہم لمحہ ہوتا ہے۔‘

وہ اصرار کرتی ہیں کہ یہ بوجھ تاریخ کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ مجھ پر افغان خواتین کی آواز بننے کی ذمہ داری ہے۔‘

مقصد کا یہ احساس پورے سکواڈ میں پایا جاتا ہے۔ گول کیپر الہیٰ صفدری ٹیم کو ’ان افغان خواتین اور لڑکیوں کی آواز قرار دیتی ہیں جنھیں بنیادی انسانی حقوق تک رسائی حاصل نہیں ہے،‘ جو نہ صرف اپنے لیے کھیل رہی ہیں بلکہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے بھی کھیل رہی ہیں۔

اگرچہ حیدری نے حالیہ برسوں میں بیرون ملک اپنے خاندان سے ملاقات کی ہے، لیکن وہ اپنے وطن واپس نہیں جا سکیں۔ ہو سکتا ہے وہ کبھی واپس نہ جا سکیں۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے اب بھی یہ خوف ہے۔ چند لمحوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

’میں ایک دن اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہوں۔ وہاں میری 19 سال کی یادیں ہیں اور میرے دوست اب بھی میرا انتظار کر رہے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ میں ایک دن واپس آ سکتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ فٹ بولر بننے کے اپنے فیصلے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’کھیل کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ محض ہماری آزادی حاصل کرنے کے لیے ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ خواتین کا بھی کوئی وجود ہے۔‘

فوری طور پر توقع ہے کہ ٹیم بین الاقوامی دوستانہ میچز اور 2028 کے اولمپکس کے لیے ممکنہ کوالیفائنگ میچز کھیلے گی۔

فی الحال، کامیابی ٹکڑوں میں مل رہی ہے: انگلینڈ میں ایک ٹریننگ کیمپ، مراکش میں ایک ٹورنامنٹ، بین الاقوامی مقابلوں سے برسوں دور رہنے کے بعد لیبیا کے خلاف پہلی جیت۔

فیفا کی جانب سے تسلیم کیے جانے پر حیدری اور ان کی ساتھی کھلاڑیوں کو وہ چیز مل گئی ہے جو وہ برسوں سے کھو چکی تھیں۔ کھیلنے کے لیے ایک پرچم، ایک ایسا نام جو انھیں ایک قوم سے جوڑتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری خواہش ہے کہ میں فٹ بال کی اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کروں اور فخر کے ساتھ افغانستان کی نمائندگی کروں۔ فٹ بال سے ہٹ کر، میں کاروبار میں اپنا کریئر بنانا چاہتی ہوں اور خواتین کے حقوق کی حمایت جاری رکھنا چاہتی ہوں۔‘

ان سب کا مطلب سیاست یا پالیسی سے ہٹ کر کسی خاموش چیز کی طرف لوٹتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ محبت کے بارے میں ہے۔ محبت اور جذبہ، اور دنیا کو یہ دکھانے کے بارے میں کہ ہم اب بھی یہاں موجود ہیں۔‘

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل