پاکستان، توانائی کے بحران سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

تصور کریں اگر پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب نہ آتا تو آج پاکستان میں توانائی کا بحران کتنا شدید ہوتا اور لوڈ شیڈنگ کتنی بڑھ چکی ہوتی۔

دو جولائی 2025 کی تصویر میں ایک ٹیکنیشن کراچی میں ایک فیکٹری کی چھت پر سولر پینلز کے لیے سپورٹ ڈھانچے کو ویلڈ کر رہا ہے (آصف حسن / اے ایف پی)

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی شہ رگ ثابت ہوئی ہے۔ جب سے یہ بحران شروع ہوا ہے اس وقت سے تیل کی قیمتوں کا گراف تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ ہفتے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے تیل کی درآمدات کی مالیت دُگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

یہ درآمد جو جنگ شروع ہونے سے پہلے 300 ملین ڈالر تھی اب بڑھ کر 800 ملین ڈالر فی ہفتہ ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے تیل کا درآمدی بل 1.2 ارب ڈالر تھا جو کہ اب 3.2 ارب ڈالر فی ماہ تک پہنچ چکا ہے۔

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو اس کا اثر پاکستانی معیشت پر مزید کس قدر  شدید ہو سکتا ہے۔ یعنی ہر ماہ تقریباً دو ارب ڈالر اس مد میں اضافی خرچ کرنے پڑیں گے۔

آبنائے ہرمز سے دنیا  کی مجموعی ضرورت کے 25  فیصد تیل اور 30 فیصد ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگ سے پہلے یہاں سے سو کے قریب تیل اور گیس بردار جہاز روزانہ گزرتے تھے جن کی تعداد اب دس پر آ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کا حالیہ بحران ستر کی دہائی کے بحران سے بھی بڑا ہے کیونکہ تب تیل کی ترسیل میں صرف 5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ موجودہ کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں شدید ہچکولے کھا رہی ہیں۔

وہ ممالک میں جو خلیجی ممالک سے اپنی ضروریات کا تیل وگیس درآمد کرتے ہیں پاکستان ان ممالک میں ایل این جی میں تیسرے اور تیل کی درآمد میں پانچویں نمبر پر ہے۔

پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں ان کے لیے یہ صورت حال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے انرجی بحران سے نمٹنے کے لیے رات آٹھ بجے سے مارکیٹیں بند کرنے اور ہفتے میں تین دن ورک فرام ہوم کا ضابطہ جا ری کر رکھا ہے۔ اگر یہ بحران جاری رہتا ہے تو مزید سخت اقدامات کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

18 ارب ڈالر کے سولر پینلز

بیشتر ایشیائی ممالک تیل کی ضروریات پر خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں جو ان کی مجموعی ضرورت کا 85 فیصد تک ہے۔ تیل کی یہ ترسیل گذشتہ ماہِ اپریل میں کم ہو کر 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو اکتوبر2015 کے بعد سب سے کم ترین سطح ہے۔

بنگلہ دیش جو توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ روزانہ 10 گھنٹوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس نے بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے495  میگا واٹ کے سولر پینلز لگانے کے لیے ٹینڈر طلب کر لیا ہے۔ ایک میگا واٹ کے سولر پینل لگانے ہوں تو اس پر لاگت تقریباً دس لاکھ ڈالر آتی ہے یعنی بنگلہ دیش تقریباً پانچ ارب ڈالر کے سولر پینلز ہنگامی بنیادوں پر لگانے جا رہا ہے۔

توانائی پر تحقیق کرنے والے ادارے رنیوایبل فرسٹ اور کراچی سکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ نے گذشتہ دنوں ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے پانچ سالوں کے دوران18  ارب ڈالر کے سولر پینلز درآمد کیے جن کی پیداواری صلاحیت 50  گیگا واٹ ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کی اس حیرت انگیز ترقی میں کسی حکومت کی منصوبہ بندی شامل نہیں بلکہ جب مارکیٹ میں بجلی کی قیمتیں صارفین کی قوتِ خرید سے باہر ہوئیں تو انہوں نے از خود فیصلہ لیا کہ وہ متبادل انرجی میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت نے نیٹ میٹر کی پالیسی منظور کی اور شمسی توانائی کے پینلز و آلات پر عائد ڈیوٹیوں میں چھوٹ دی تو اس سے شمسی توانائی کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درآمدی بل میں12 ارب ڈالر کی بچت

2018 میں سولر پینلز کی درآمدات جو 1 گیگا واٹ پر تھیں وہ 2026 میں بڑھ کر51  گیگا واٹ سالانہ پر پہنچ چکی تھیں جو کہ دنیا بھر میں توانائی کے ذرائع کی منتقلی کا ایک ریکارڈ بن چکا ہے یعنی کسی بھی ملک نے اپنی مجموعی کھپت میں شمسی توانائی کی یہ شرح حاصل نہیں کی جو پاکستان نے صرف پانچ سال میں حاصل کر لی جو کہ اس وقت مجموعی کھپت کا ایک چوتھائی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 2022 سے 2024 کے دوران اس کی تیل اور گیس کی درآمدات میں40  فیصد کمی نوٹ کی گئی کیونکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے جو پاور پلانٹ فرنس آئل اور ایل این جی پر چلانے پڑتے تھے اب ان کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔ چین میں سولر پینلز کی پیداوار بڑھنے سے ان کی قیمتوں میں کافی کمی ہوئی تو پاکستان میں ان کی طلب بڑھ گئی۔ متوسط طبقے کی چھتوں پر سولر پینلز دھڑا دھڑ لگنے لگے۔ یہ نہیں تھا کہ پاکستان میں انرجی کی کھپت میں کمی ہوئی بجلی کی کھپت بڑھی لیکن یہ طلب شمسی توانائی نے پوری کی۔

رابعہ بابر جو کہ رنیوایبل فرسٹ سے وابستہ ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان نے شمسی توانائی کی وجہ سے فروری 2026 تک تیل و گیس کی درآمدات کی مد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کی ہے۔ توانائی کا موجودہ بحران جاری رہا تو اس سال کے اختتام تک اس بچت میں 6.3 ارب ڈالر کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔

 یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل این جی درآمد کے جو معاہدے کر رکھے ہیں وہ اب پاکستان کی ضرورت سے زیادہ ہو چکے ہیں اس لیے ان کا رخ عالمی منڈیوں کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ حکومت ان معاہدوں پر نظر ثانی بھی کر رہی ہے کیونکہ اب ملک میں ایل این جی کی کھپت گر چکی ہے۔

تصور کریں اگر پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب نہ آتا تو آج پاکستان میں توانائی کا بحران کتنا شدید ہوتا اور لوڈ شیڈنگ کتنی بڑھ چکی ہوتی۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک چین، انڈیا، جنوبی کوریا اور بیشتر ایشیائی ممالک نے ایل این جی کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے جبکہ پاکستان میں یہ کم ہو گئی ہیں۔

پاکستان نے اگلے چار سالوں میں اپنی انرجی ضروریات کا60  فیصد تک متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کا عزم کر رکھا ہے تاکہ درآمدی تیل پر انحصار کو کم سے کم کیا جا سکے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ