لائیو: ٹرمپ کا ایران جنگ ’جلد ختم‘ ہونے کی طرف اشارہ، تیل کی قیمتیں گرنے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ ’جلد ختم‘ ہونے کے اشارے کے بعد تیل کی قیمتیں منگل کو گر گئیں اور حصص کی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 مارچ کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کر رہے تھے (روئٹرز)

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 11ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔


10ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


صبح نو بجے: پی ٹی آئی نے وزیر اعظم کے اعلانات کو ’کھوکھلا‘ قرار دے دیا

پاکستان تحریکِ انصاف نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران جنگ کے پیش نظر کفایت شعاری کے اعلانات کو ’کھوکھلا‘ قرار دیتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم کی جانب سے قوم سے خطاب میں کفایت شعاری کے اقدامات کے اعلان محض ایک رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

’ایک طرف حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت مسلسل ان پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔‘

بیان کے مطابق ’پیٹرولیم لیوی پہلے ہی تاریخی سطح تک پہنچ چکی تھی، مگر 6 مارچ کو اسے اچانک مزید بڑھا دیا گیا۔ اسے کم کرنے کے بجائے حکومت اسے مزید بڑھاتی جا رہی ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی تو پیٹرولیم لیوی میں کم از کم 21 روپے فی لیٹر کمی کر کے فوری ریلیف فراہم کر سکتی تھی۔ مگر اس کے برعکس عوام کو مہنگائی کی ایک نئی لہر برداشت کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔‘

’موجودہ صورتحال کوئی عوامی صحت کا بحران نہیں جیسا کہ کووِڈ-19 تھا، بلکہ یہ ایک معاشی مسئلہ ہے۔ دفاتر، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند کرنے سے اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ لوگ پہلے ہی سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور دفاتر بند کرنے سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ لہٰذا اس طرح کی بندش کا کوئی خاطر خواہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔‘


صبح 8 بج کر 20 منٹ: تیل کی قیمتیں گرنے لگیں

تیل کی قیمتیں منگل کو گرنے لگیں اور حصص کی منڈیوں میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل کی جنگ توقع سے پہلے ختم ہونے والی ہے۔

ٹرمپ نے سی بی ایس  نیوز کو فون پر بتایا کہ ’میرے خیال میں جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے پاس کوئی بحریہ نہیں، کوئی مواصلاتی نظام نہیں، اور ان کے پاس کوئی فضائیہ بھی نہیں ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزید کہا ’اگر آپ دیکھیں تو ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ فوجی لحاظ سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔‘

بعد میں انہوں نے فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ جلد ہی ختم ہونے والی ہے، اور اگر یہ دوبارہ شروع ہوئی تو انہیں اس سے بھی زیادہ سخت مار پڑے گی۔‘

سرمایہ کاروں نے ان تبصروں پر فوری ردِعمل دیا، جس کے نتیجے میں منگل کو خام تیل کی قیمتیں تقریباً 10 فیصد گر گئیں۔

یہ ایک دن بعد ہوا جب شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا، جس میں تیل 30 فیصد تک بڑھ کر فی بیرل 119 ڈالر سے زیادہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، اس کے بعد گر کر 84 ڈالر فی بیرل تک آ گیا ہے۔

ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی، جہاں سیئول میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور ٹوکیو میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ہانگ کانگ، شنگھائی، سڈنی، سنگاپور، ویلنگٹن، تائی پے، منیلا اور جکارتہ میں بھی اچھی خاصی بڑھوتری دیکھی گئی۔


 

صبح 08 بجے: ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کو روکنے کی کوشش پر ایران کے ساتھ جنگ کو بڑھانے کی دھمکی دی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ کی یہ وارننگ ایک ایسے دن کے اختتام پر آئی جب عالمی مالیاتی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں، اس خدشے کے باعث کہ ایران کا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پیچھے متحد ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پیش گوئی کی کہ یہ تنازع اس ابتدائی چار ہفتوں کے وقت سے بہت پہلے ختم ہو جائے گا جو انہوں نے مقرر کیا تھا، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فتح کی شکل کیا ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکر ٹریفک کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکی حملے تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا