ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم: وزیر توانائی

وزیر توانائی اویس لغاری نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اويس لغاری یکم مئی 2026 کو ایک ویڈیو پیغام میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں (ویڈیو گریب/ریڈیو پاکستان)

وفاقی وزیر برائے توانائی اويس لغاری نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے اور صورت حال اب معمول پر آ رہی ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز ملک کو ایل این جی کی سپلائی موصول ہوئی ہے، جبکہ پن بجلی کی پیداوار بھی بڑھ کر چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جس سے بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

وزیر توانائی نے یاد دلایا کہ تقریباً پندرہ روز قبل ملک میں بجلی کی بندش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس وقت ایک پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی گئی تھی کہ لوڈشیڈنگ کسی غفلت، نظام کی خرابی یا پیداواری صلاحیت میں کمی کے باعث نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کی اصل وجہ گیس کی قلت تھی، جو اس لیے پیدا ہوئی کہ عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی، خاص طور پر امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں سپلائی چین میں رکاوٹیں آئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اويس لغاری نے مزید وضاحت کی کہ اگر حکومت لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ڈیزل یا فرنس آئل کے ذریعے بجلی پیدا کرتی، تو اس کی لاگت بہت زیادہ ہوتی، جس کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑتا۔ ان کے مطابق حکومت نے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار کی۔

انہوں نے ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ نہیں بلکہ تقریباً 32 ہزار میگاواٹ ہے اور اس حوالے سے غلط فہمیاں پائی جا رہی تھیں۔

آخر میں وزیر توانائی نے یقین دہانی کروائی کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی، تاکہ عوام پر مزید مالی بوجھ نہ پڑے۔

اس سے قبل ملک بھر سے صارفین روزانہ 10، 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی شکایت کر رہے تھے۔ پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس کے باعث حکام کو کئی علاقوں میں شام کے مصروف اوقات کے دوران لوڈ مینیجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کرنا پڑ رہا ہے۔

اس وقت وفاقی وزیر توانائی نے کہا تھا کہ ملک کو تقریباً 4 ہزار میگا واٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا ہے اور شہری اور دیہی علاقوں میں برابر کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کہ ایک ’عارضی‘ اقدام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈھائی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ ’خلیج کی صورت حال کی وجہ سے ہمارے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے۔ ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 6000 میگا واٹ ہے، جس میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور وہ بھی کول گیس سے جبکہ پن بجلی سے اس سال اپریل میں 1600 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔

’اگر ہمیں ایل این جی دستیاب ہوتی اور پن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو ہم اس قابل ضرور ہیں کہ ہم اس کمی کو پورا کر پاتے۔ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے جتنا فرق پڑ رہا ہے اس کو کم کرنے کے لیے ہم فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400 میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا تھا کہ 500 میگاواٹ کی قلت سے ایک گھنٹہ لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہے اور جب طلب 16 ہزار میگا واٹ سے بڑھ جاتی ہے تو تب ہی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر بجلی کی پیداوار پن بجلی سے بڑھ جائے تو لوڈ شیڈنگ میں دو گھنٹے کی کمی ہو جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت