آرٹیمس ٹو کے خلابازوں نے جمعے کو بحرالکاہل میں لینڈنگ کر کے نصف صدی سے زائد عرصے بعد انسان کا چاند کی جانب پہلا سفر مکمل کر لیا۔
اس دوران انہوں نے انتہائی شاندار انداز میں چاند کے قریب نئے ریکارڈز قائم کیے۔
یہ ایک ایسے مشن کا ڈرامائی اور عظیم الشان اختتام تھا جس نے نہ صرف چاند کے اس دور دراز حصے کو عیاں کیا جسے اس سے قبل انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا تھا، بلکہ ایک مکمل سورج گرہن، سیاروں کی قطار اور خاص طور پر خلا کی لامتناہی تاریکی کے پس منظر میں چمکتی ہوئی ہماری اپنی زمین کے مسحور کن مناظر بھی دکھائے۔
اپنی پرواز مکمل کرنے کے بعد ان چاروں خلابازوں نے محض دو سال میں ایک اور عملے کی چاند پر لینڈنگ اور اسی دہائی کے اندر چاند پر باقاعدہ بیس کے قیام کی خاطر خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے لیے راہ ہموار کر دی۔
چاند کا یہ کامیاب سفر کرنے والے کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہین سن، سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب سمندر میں ہچکولے کھاتے اپنے کیپسول سے نکل کر باہر دھوپ میں آئے۔
ناسا کے ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرنے والے ایک منظر میں، فوجی ہیلی کاپٹروں نے کیپسول کے ساتھ جڑی ہوا بھری کشتی سے خلابازوں کو ایک ایک کر کے فضا میں اٹھایا اور انہیں ایک مختصر سفر کے بعد بحریہ کے منتظر ریکوری بحری جہاز یو ایس ایس جان پی مرتھا پر پہنچا دیا۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے ریکوری جہاز سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ستاروں کی جانب انسانیت کے سفیر تھے جنہیں ہم نے خلا میں بھیجا، اور میں اس سے بہتر عملے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔‘
انٹیگریٹی (Integrity) نامی ان کے اورین کیپسول نے آٹو پائلٹ پر واپسی کا تمام سفر مکمل کیا۔
چاند کی طرف والا یہ کروزر میک 33 یعنی آواز کی رفتار سے 33 گنا زیادہ کی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ کرہ ہوائی میں داخل ہوا۔
یہ ایک ایسی برق رفتاری تھی جو 1960 اور 1970 کی دہائی کے اپالو مشنز کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔
مشن کنٹرول میں اس وقت تناؤ بڑھ گیا جب کیپسول شدید ترین حرارت کے دوران انتہائی گرم سرخ پلازما میں گِھر گیا اور طے شدہ پروگرام کے تحت اس کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
اس دوران سب کی نظریں کیپسول کی زندگی بچانے والی ہیٹ شیلڈ پر جمی تھیں جسے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوتے وقت ہزاروں ڈگری کا درجہ حرارت برداشت کرنا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تقریباً 3,200 کلومیٹر کی دوری سے اس سنسنی خیز عمل کو دیکھنے والے سینکڑوں پرجوش کارکن سمندر میں کامیاب لینڈنگ کا جشن منانے کے لیے مشن کنٹرول میں اکٹھے ہو گئے۔
خلابازوں کے اہل خانہ ایک ویونگ روم میں جمع تھے، جہاں کیپسول کے چھ منٹ کے بلیک آؤٹ سے باہر آنے اور پھر سمندر میں اترنے پر خوشی سے نعرے گونج اٹھے۔
آخری بار ناسا اور محکمہ دفاع نے 1972 میں اپالو 17 کے عملے کی چاند سے واپسی کے موقع پر مل کر کام کیا تھا۔
آرٹیمس ٹو کے بارے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ 36,170 فٹ (11,025 میٹر) فی سیکنڈ یا 24,661 میل فی گھنٹہ (39,668 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی انتہائی تیز رفتاری سے واپس آئے گا جو ایک ریکارڈ سے ذرا ہی کم تھی، جس کے بعد اس کی رفتار 19 میل فی گھنٹہ (30 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک کم ہوئی اور اس نے سمندر میں لینڈنگ کی۔