چار خلاباز بدھ کو خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے بہت بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد طویل عرصے سے متوقع سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد انسانی عملے پر مشتمل پہلی پرواز ہے۔
ایک زوردار گرج کے ساتھ جس کی گونج لانچ پیڈ سے بہت دور تک سنائی دی۔ یہ دیوہیکل نارنجی اور سفید رنگ کا راکٹ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چھ بج کر 35 منٹ پر (22:35 جی ایم ٹی) فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز کو لے کر روانہ ہوا۔
جیسے ہی خلائی جہاز شعلے چھوڑتا ہوا روشن آسمان کی جانب بلند ہوا، ناسا کی ٹیمیں اور تماشائی یکساں طور پر خوشی سے نہال ہو گئے۔
اس ٹیم میں، جنہوں نے روانگی کے وقت نیلی دھاریوں والے چمکدار نارنجی سوٹ پہن رکھے تھے، امریکی خلاباز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ ساتھ کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔
ناسا کا آرٹیمس 2 مشن نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد چاند کے گرد پہلی انسان بردار پرواز بننے جا رہا ہے، اور ممکن ہے کہ یہ بدھ کو ہی روانہ ہو جائے۔
اے ایف پی نے یہاں اس نہایت متوقع مشن کے بارے میں وہ باتیں جمع کی ہیں جو جاننا ضروری ہیں، جو خلائی تحقیق کے ایک نئے باب کا آغاز کریں گی۔
مقصد
آرٹیمس ان اقدامات کا تسلسل ہے جو 2000 کی دہائی میں امریکی خلائی شٹل کے بعد کے دور کے لیے شروع کیے گئے تھے۔ یہ کوششیں کئی صدور کے ادوار سے گزرتی رہیں یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے وائٹ ہاؤس دور میں اس پروگرام کو باضابطہ طور پر قائم کیا۔
اس کا مقصد امریکیوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے تاکہ وہاں طویل مدتی موجودگی ممکن بنائی جا سکے اور مریخ تک آئندہ مشنز کی راہ ہموار ہو۔
آنے والا مشن تقریباً 10 دن جاری رہے گا اور یہ آرٹیمس کا پہلا انسان بردار سفر ہوگا۔
50 سال سے زائد عرصے بعد ناسا خلا بازوں کو چاند کے قریب بھیجنے جا رہا ہے۔ یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا، مگر مستقبل میں انسانوں کی واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔ ماہرین کے مطابق خلا کی دوڑ میں چین کا بڑھتا کردار بھی اس مشن کو اہم بنا رہا ہے۔
یہ دوسرا مرحلہ آرٹیمس ون مشن 2022 کے بعد آ رہا ہے، جب ایک بغیر انسان والا خلائی جہاز چاند کے گرد پرواز کر کے واپس آیا تھا۔
ناسا اب یہ تصدیق کرنا چاہتا ہے کہ خلائی جہاز اور راکٹ دونوں مکمل طور پر درست کام کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ چاند پر اترانے کی کوشش کی جائے، جو کہ اب آرٹیمس 4 مشن میں 2028 کے لیے مقرر ہے۔
اپالو پروگرام کے برعکس، جس کے تحت 1969 میں پہلی بار انسان چاند پر پہنچا، اس بار ناسا نجی صنعت اور دیگر ممالک، خاص طور پر یورپ، کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
اس میں سپیس ایکس اور بلیو اوریجن شامل ہیں، جو بالترتیب ارب پتی ایلون مسک اور جیف بیزوس کی قائم کردہ کمپنیاں ہیں، اور جنہیں چاند پر اترنے والے جہاز تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ٹیم
اس بڑے مشن میں چار خلا نورد پرواز کریں گے — تین امریکی اور ایک کینیڈین۔
ریڈ وائزمین، 50 سالہ سابق بحری ہوا باز اور تجرباتی پائلٹ، جو ناسا کے خلا نورد دفتر کے نائب سربراہ بھی رہ چکے ہیں، اس مشن کی قیادت کریں گے۔
وکٹر گلوور، 49، نے بھی امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ وہ خلائی جہاز کو چلائیں گے اور چاند تک جانے والے پہلے سیاہ فام فرد بھی بنیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انجینئر کی حیثیت سے تربیت یافتہ کرسٹینا کوخ، 47، چاند کے مشن میں حصہ لینے والی پہلی خاتون بنیں گی۔
کینیڈین جیریمی ہینسن، 50 سالہ سابق لڑاکا پائلٹ، چاند کے گرد پرواز کرنے والے پہلے غیر امریکی ہوں گے۔
الٹی گنتی کا آغاز
عملہ اورین خلائی جہاز میں سفر کرے گا، جو ناسا کے طاقتور ایس ایل ایس راکٹ کے اوپر نصب ہوگا۔
یہ نارنجی اور سفید راکٹ 98 میٹر (321 فٹ) بلند ہے، جو اپالو دور کے سیٹرن فائیو راکٹ سے تقریباً 10 میٹر چھوٹا ہے۔
یہ کینیڈی خلائی مرکز، کیپ کیناورل، فلوریڈا سے روانہ ہوگا۔ اس کا منصوبہ طے شدہ راستہ نہایت درستگی کا حامل ہے اور صرف مخصوص اوقات میں ہی اس پر سفر ممکن ہے۔
روٹ
روانگی کے فوراً بعد عملہ چاند کی طرف نہیں بڑھے گا بلکہ پہلے زمین کے گرد مدار میں داخل ہوگا۔
اس دوران خلا نورد مختلف جانچ پڑتال کریں گے تاکہ خلائی جہاز پر بھروسہ اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے — کیونکہ اس نے پہلے کبھی انسانوں کو نہیں لے جایا۔
وہ جڑنے کی مشقوں کے دوران دستی کنٹرول کی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیں گے۔
اگر تمام آزمائشیں کامیاب رہیں تو اورین زور فراہم کرے گا تاکہ زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب سفر کیا جا سکے۔
چند دنوں تک خلا نورد راستے میں مزید تجربات اور جانچ کریں گے۔
چاند تک پہنچنے کے بعد وہ اس کے دور والے حصے کے اوپر سے گزریں گے۔
اس مرحلے پر زمین سے رابطہ منقطع ہو جائے گا: یہ چاروں خلا نورد وہ انسان بن جائیں گے جو اپالو کا ریکارڈ توڑتے ہوئے زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک گئے ہوں گے۔
ان کے مشاہدات ناسا کو آرٹیمس فور کے لیے اترنے کی جگہ منتخب کرنے میں مدد دیں گے، جو چاند کے جنوبی قطب پر جائے گا، جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچا۔
واپسی
آرٹیمس 2 پھر ایک نام نہاد 'آزاد واپسی' والا راستہ اختیار کرے گا، جو چاند کی کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے بغیر اضافی طاقت کے اسے زمین کی طرف واپس لے آئے گا۔
سفر کا یہ حصہ تقریباً تین یا چار دن پر مشتمل ہوگا، جس میں فضا میں دوبارہ داخلہ شامل ہوگا — جو مشن کے نہایت نازک مراحل میں سے ایک ہے۔
جیسا کہ ناسا کی ایک فنی رپورٹ میں بتایا گیا آرٹیمس ون کی پرواز کے دوران خلائی جہاز کو محفوظ رکھنے والی حرارتی ڈھال غیر متوقع انداز میں متاثر ہوئی تھی۔
ادارے نے خلائی جہاز کے راستے میں تبدیلی کی ہے تاکہ فضا میں داخلے کا زاویہ کچھ کم شدید ہو اور ڈھال پر دباؤ کم پڑے۔
جب یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا تو پیراشوٹ خلائی جہاز کی رفتار کم کریں گے، جس کے بعد یہ کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترے گا۔