پاکستانیوں میں ’قدرتی طور پر بعض جین غائب‘: اس دریافت کا کیا مطلب ہے؟

پاکستانی ماہر جینیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیسن اینڈ جینومکس فیکلٹی کے ڈائریکٹر دانش صالحین کی سربراہی میں نیچر نامی جریدے میں شائع تحقیق کے لیے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جین کا مطالعہ کیا گیا۔

پاکستان میں خاندانوں یا قبیلوں کے درمیان شادیاں عام ہیں اور ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان روایات کی وجہ سے بعض پاکستانیوں میں قدرتی طور پر کچھ جین ’غائب یا غیر فعال‘ پائے گئے ہیں جس سے طب کی دنیا میں دوائیں بنانے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔

پاکستانی ماہر جینیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیسن اینڈ جینومکس فیکلٹی کے ڈائریکٹر دانش صالحین کی سربراہی میں نیچر نامی جریدے میں شائع اس تحقیق کے لیے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جین کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

تحقیق میں پاکستان میں بسنے والی مختلف نسلوں جیسے پٹھان، پنجابی، سندھی اور کشمیریوں کو شامل کیا گیا ہے اور تحقیق میں یہ پتہ لگا کہ ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں میں کم از کم ایک جین غائب یا نان فنکشنل ہے۔

مجموعی طور پر تحقیق کے مطابق ان 34 ہزار افراد میں چھ ہزار سے زائد مختلف قسم کے جینز غائب پائے گئے ہیں جس سے مستقبل میں پارکنسن، امراض قلب، جگر کی بیماریوں سمیت مختلف دیگر بیماریوں کے لیے موثر دوا بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے مطابق یہ دنیا میں اب تک جنوبی ایشیا کی آبادی کے حوالے سے سب سے بڑی جینوم ڈیٹا بیس ہے جس سے طب کے شعبے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ دانش صالحین نے بتایا ہے کہ ’جینوم مطالعے میں دنیا میں جنوبی ایشیا کی نمائندگی صرف دو فیصد ہے جبکہ جنوبی ایشیا دنیا کی آبادی کا 25 فیصد ہے اور اس تحقیق اور جینوم ڈیٹا بیس سے مختلف امراض کے لیے دوا اور علاج میں مریضوں کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘

جینوم کیا ہے؟

ڈاکٹر یاسر یوسفزئی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں جینیات کے ماہر ہیں اور ان کے مطابق جس طرح کسی مشین کے ساتھ ایک کتابچہ یا مینول دیا جاتا ہے جس میں اس مشین کی ساخت اور طریقہ کار لکھا ہوا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اسی طرح انسانی جسم کے ساتھ بھی اللہ نے ایک مینول بھیجا ہے کہ فلاں بندے کا رنگ کیسا ہوگا، آنکھیں، چہرہ اور دیگر ساخت کیسے ہوں گے۔‘

اسی ساخت کو بنانے کے لیے ڈاکٹر یاسر کے مطابق سائنسی اصطلاح میں اے سی جی ٹی استعمال کیا جاتا ہے اور انہی حروف سے مختلف جین کے کمبینیشن بنتے ہیں جس سے انسانی ساخت بنتی ہے۔

تحقیقی مقالے کے حوالے سے ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے کہ پاکستان میں اب جینوم کا ایک ڈیٹا بیس سامنے آیا ہے اور اس سے کچھ حد تک یہ پتہ بھی چلا ہے کہ پاکستانیوں میں کس قسم کی بیماریاں زیادہ ہیں۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا: ’تحقیق میں بعض جین پاکستانیوں میں غائب پائے گئے اور اس سے مختلف امراض کے لیے دوا بنانے میں مدد بھی ملے گی اور یہ پتہ بھی لگے گا کہ دوا کتنا اثر کرتی ہے اور کتنا نہیں کرتی۔‘

اس سے پہلے ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ دنیا میں مختلف امراض کے لیے برطانیہ یا امریکہ کے جینوم ڈیٹا بیس کو دیکھ کر دوا بنائی جاتی تھی جس میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یعنی کچھ برٹش پاکستانی اور امریکہ نژاد پاکستانی اس میں شامل ہوتے تھے جو پاکستان کی آبادی اور ان کے جین میں بہت زیادہ فرق ہوتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اب اس تحقیق میں ایک ڈیٹا بیس ہمارے پاس آگیا ہے اور اس سے ہمیں یہ پتہ لگے گا کہ ان ممالک کے جینوم کے مطابق بنائی گئی دوا پاکستانی آبادی پر کتنی پراثر ہے یا اثر نہیں کرتی۔‘

غائب جینز کا فائدہ کیا ہے؟

جینز کے مطالعے نے دنیا میں مختلف امراض کے لیے دوائیں بنانے کا کام آسان کر دیا ہے جیسے PCSK9 نامی جین کے بارے میں پتہ لگایا گیا تھا کہ یہ جسم میں کولیسٹرول کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

جب یہ پتہ لگایا گیا تو اس تحقیق کے مطابق چوہوں کے اوپر تجربات کے دوران ان سے یہ جین ختم کر دیا گیا تاکہ دوا کو استعمال میں لایا جا سکے اور جین کے ختم ہونے کے اثرات کو بھی دیکھا جا سکے، تاہم دانش صالحین کے مطابق چوہوں کے بعد انسانوں پر اس کا تجربہ کرنا مشکل ہوتا تھا۔

دانش کے مطابق ’اب اس (پاکستانی جینوم ڈیٹابیس) میں آسانی یہ ہو سکتی ہے کہ ہم تحقیق کے لیے ایسے افراد کو ڈھونڈ سکتے ہیں جن میں قدرتی طور پر یہ جینز غائب ہیں اور غائب ہونے کے صحت پر اثرات دیکھ سکتے ہیں جبکہ برطانیہ یا امریکہ کے جینوم ڈیٹابیس میں ایسے افراد بہت کم ملتے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس