چاند کی تسخیر کی نئی داستان

چاند سے جڑی رومانوی کہانیوں سے لے کر جدید خلائی مشنز تک، انسان کی جستجو کا سفر جاری ہے جہاں اپالو مشن کی تاریخی کامیابی سے لے کر آرٹیمس 2 کے حالیہ سفر تک چاند ہی مرکز نگاہ ہے۔

آسٹریا کے شہر ویانا میں 11 اکتوبر، 2024 کو لی گئی اس تصویر میں ایک مسافر بردار طیارے سے نکلتے ہوئے دھوئیں کے عقب میں چاند کا نظارہ (اے ایف پی)

چاند کے ساتھ انسان کا ایک رومانوی رشتہ ہے، شاعری، لوک داستانوں اور افسانوں میں اس کا ذکر خوب ملتا ہے۔ بچوں کو سنائی جانے والی کہانیوں اور لوریوں میں بھی چاند کا ذکر ہوتا ہے۔ چاند کتنے ہی غم کے ماروں کا رازدان بھی ہے۔

کہا جاتا تھا کہ چندا ماما پر ایک بڑھیا چرخہ کات رہی ہے۔ چاند جب گھٹ جاتا تھا تو کہا جاتا کہ یہ دیو کی کارستانی ہے۔ دیو پری کی کہانیوں کو بھی چاند سے منسلک کیا جاتا تھا۔ اب بھی خوبصورت لوگوں کو چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے اور چاندنی راتوں پر بہت سے قصیدے لکھے گئے ہیں۔

بہت سے گانوں میں چاند چاندنی کو ہیروئن اور محبت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چاند ہی برج سرطان کا حاکم سیارہ ہے اور علمِ نجوم کے مطابق اس میں چاند کا گھٹنا اور پورا ہونا انسانی جذبات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

پر جب پہلا مشن 16 جولائی 1969 کو چاند پر گیا تو چاند ہماری لوک کہانیوں سے مختلف تھا۔ وہاں کوئی بڑھیا نہیں تھی، نہ کوئی دیو اور پری تھے۔ ہم میں سے تو بیشتر لوگ اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب چاند کو تسخیر کر لیا گیا۔ اپالو مشن میں شامل نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن وہ واحد انسان بن گئے جنہوں نے چاند پر قدم رکھا۔

دنیا بھر نے یہ منظر ٹی وی پر دیکھا۔ 20 جولائی وہ تاریخی دن تھا جب نیل آرمسٹرانگ چاند پر پاؤں رکھنے والے پہلے انسان بنے اور ان کے 20 منٹ بعد بز ایلڈرن نے چاند پر قدم رکھا۔ نیل آرمسٹرانگ کے یہ الفاظ تاریخ میں لکھے گئے: ’ایک شخص کا یہ چھوٹا قدم انسانیت کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔‘

یہ مشن کامیابی کے ساتھ واپس آیا اور اس کے بعد بھی بہت سے مشن خلا میں جاتے رہے۔ پر جو شہرت اپالو مشن کے حصے میں آئی وہ شاید ہی کسی کو ملی ہو۔ چاند پر انسان کا پہلا قدم ایک نئے سفر کی طرف پہلا سنگِ میل تھا۔

مجھے چاند، ستارے، سیارے اور خلا بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں بچپن میں ستارے اور چاند بہت شوق سے دیکھا کرتی تھی۔ فلکیات کے حوالے سے کتابیں سائنس فیئر سے خریدا کرتی تھی۔ نظامِ شمسی کے حوالے سے خصوصی طور پر پڑھا کرتی تھی۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میں خلاباز نہیں بن سکتی، سو میں نے چاند کی فوٹوگرافی شروع کر دی۔ میرے پاس چاند کی نایاب تصاویر اور ٹیلی سکوپ لینز موجود ہیں۔ کبھی کبھی سوشل میڈیا پر بھی شیئر کرتی ہوں۔

کچھ عرصہ قبل میں نے چاند گرہن کور کیا، وہ ایک منفرد تجربہ تھا۔ میرا دل کرتا ہے کہ اب میرے پاس ایسا بھی لینز ہو جس سے میں خلا اور سیارے بھی دیکھ سکوں۔ ایک دنیا الگ ہی آباد ہے جو خلا میں موجود ہے۔ شاید ایک زندگی کائنات کے ان رازوں کو تسخیر کرنے کو کافی نہیں۔ انسان پوری رات بھی دیکھتا رہے تو آسمان پر چمکتے تاروں اور سیاروں سے دل نہیں بھرتا۔ نئے نئے ستارے اور سیارے نظر آتے ہیں۔ میرے پاس موبائل میں ایک ایپ بھی ہے جس سے ہم خلا میں موجود انسانی فرضی خطوط کی مدد سے مختلف سیاروں اور ستاروں کی شناخت کر سکتے ہیں۔ اس طرح فوٹوگرافی کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

اب جب نیا مشن آرٹیمس 2 روانہ ہوا تو میرے تجسس کی انتہا عروج پر پہنچ گئی۔ میں ناسا سے منسلک تمام پیجز کو فالو کرتی ہوں اور اس مشن کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر مانیٹر کرتی رہی۔ ساتھ یہ بھی دعا کرتی رہی کہ خلاباز خیریت سے مشن مکمل کر کے زمین پر واپس آئیں آرٹیمس 2 پر 4.1 ارب ڈالر کے قریب لاگت آئی اور یہ 10 روزہ مشن تھا۔ اس مشن میں چاند کے قریب ترین جانا تھا، لیکن عملے کا چاند پر اترنا اس مشن کا حصہ نہیں تھا۔

اس مشن میں خلاباز ریڈ وائزمین، کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ خلابازوں نے جہاں مدار کا چکر لگایا، دوسری طرف انہوں نے وہاں چاند کی طرف سے زمین کی تاریخی تصاویر لیں، جس میں زمین کو چاند کے افق کے پیچھے غروب ہوتا دیکھا گیا۔ اس مشن میں جو ریکارڈ قائم ہوا وہ کسی بھی انسان کا زمین سے سب سے دوری کے سفر کا نیا ریکارڈ ہے۔ جس وقت خلاباز چاند کے عقبی حصے سے گزرے تب یہ ریکارڈ قائم ہوا، اس وقت ان کا فاصلہ زمین سے دو لاکھ 52 ہزار 756 میل تھا۔

خلابازوں نے جزوی سورج گرہن دیکھا۔ خلاباز کرسٹینا ایک ایسی امریکی خلاباز ہیں جو خلا میں مسلسل 328 دن رہ کر ریکارڈ قائم کر چکی ہیں۔ وہ ان خواتین میں شامل ہیں جو خلا میں چہل قدمی بھی کر چکی ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ریڈ وائزمین نیوی کے کپتان اور ایک ماہر خلاباز ہیں، وہ خلا میں 165 دن رہ چکے ہیں۔ وکٹر ناسا کے پائلٹ ہیں اور جیریمی کا تعلق کینیڈا سے ہے۔ اس مشن کا مقصد سپیس میں ایس ایل ایس راکٹ کو لانچ کرنا، قمری مشن کے دوران عملے کی سیفٹی کو یقینی بنانا، قمری کھوج، قمری جغرافیے کا جائزہ، وہاں موجود معدنیات کی کھوج اور مستقبل کے مشن کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مشن نے بہت سی کامیابیاں سمیٹیں، اپالو کا ریکارڈ توڑا اور زمین سے دوری کا ریکارڈ قائم کیا۔ 50 سال بعد چاند کے اطراف میں چکر مکمل کیا گیا، سپیس کرافٹ سسٹم کی ٹیسٹنگ کی گئی اور قمری ریسرچ کی گئی۔ اس کے ساتھ یہ مشن مریخ پر جانے کی راہ ہموار کرے گا۔

اس مشن سے زمین کا غروب اور طلوع ہونا دیکھا گیا۔

عملے میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شہری شامل تھا۔ یہ عملہ کامیابی سے اپنا مشن مکمل کر کے 11 اپریل کو بحرالکاہل میں اتر گیا، جہاں سے ان کو بحفاظت منتقل کر دیا گیا۔

مشن کے بعد کی تصاویر میں ان کے چہرے دمک رہے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی پر نازاں ہیں اور ان کی کھینچی گئی تصاویر کو لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ چاند کے مدار سے لی گئی زمین کی تصاویر بہت تاریخی ہیں۔ کاش کہ دنیا بھر میں ایسی تحقیق کو فروغ دیا جائے، لوگ خلا کے بارے میں پڑھیں، سیاروں اور ستاروں کے بارے میں پڑھیں۔ یہ علم حاصل کر کے نئی دنیا کو تسخیر کریں، پر یہ مہنگا شوق ہے اور ترقی پذیر ممالک اس کو افورڈ نہیں کر سکتے۔ اس وقت امریکہ کا خلا میں مدمقابل صرف چین ہے، باقی ممالک اس میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔

چاند اور زمین کو سائنسی نظر اور کیمرے کے لینز سے دیکھ کر اچھا لگا، امید ہے جلد مریخ پر پیر جمائے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ