آرٹیمس 2: خاتون خلا باز کرسٹینا کوک کون سے ریکارڈ رکھتی ہیں؟

خلا میں جانے سے پہلے، کرسٹینا کوک کا کیریئر نہایت منفرد اور چیلنجنگ رہا۔

یہ حقیقت ہے کہ امریکی خلا باز کرسٹینا کوک نے مسلسل 328 دن خلا میں گزار کر خواتین کے لیے طویل ترین خلائی سفر کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اور یہی نہیں، وہ تاریخ کی پہلی مکمل خواتین پر مشتمل خلائی چہل قدمی کی ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔

آج کل امریکی خلائی ادارے ناسا کی یہ خلا باز اور انجینئر کرسٹینا ہیموک کوک ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں، کیونکہ وہ ادارے کے اہم ترین مشن آرٹیمس II کے لیے بطور مشن سپیشلسٹ چاند کے گرد چکر لگا رہی ہیں۔ 

یہ مشن انسانوں کو چاند کے گرد بھیجنے کی تیاریوں کا ایک اہم مرحلہ ہے، جو مستقبل میں چاند پر دوبارہ انسانی قدم رکھنے کی راہ ہموار کرے گا۔

کرسٹینا کوک کو 2013 میں ناسا کے خلا باز پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2019 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر تقریباً پورا سال گزارا، جہاں وہ ایک فلائٹ انجینئر کے طور پر Expedition 59، 60 اور 61 کا حصہ رہیں۔

اس دوران انہوں نے روسی سویوز راکٹ کے ذریعے خلا کا سفر کیا اور روس میں سخت تربیت حاصل کی، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی تعاون کی بہترین مثال ہے۔

اپنے 328 دن کے طویل قیام کے دوران، کوک نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سینکڑوں تجربات میں حصہ لیا۔ ان تجربات میں دوا سازی کے لیے پروٹین کرسٹل کی تیاری، مائیکرو گریویٹی میں 3D بایولوجیکل پرنٹنگ، اور خلائی اسٹیشن کے جدید آلات کی اپ گریڈیشن شامل تھی۔

انہوں نے مجموعی طور پر چھ خلائی چہل قدمیاں بھی کیں، جن میں تین مکمل خواتین پر مشتمل تاریخی مشنز شامل ہیں، جن کا دورانیہ 42 گھنٹے سے زائد تھا۔

خلائی مشن کے بعد، کوک نے ناسا کے جانسن سپیس سینٹر میں اہم انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ وہ خلا باز آفس میں سائنڈ کریو برانچ کی سربراہ رہیں اور بعد ازاں سینٹر ڈائریکٹر کے لیے ٹیکنیکل انٹیگریشن کی اسسٹنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خلا میں جانے سے پہلے، کرسٹینا کوک کا کیریئر نہایت منفرد اور چیلنجنگ رہا۔ انہوں نے نہ صرف ناسا کے مختلف سائنسی آلات کی تیاری میں حصہ لیا بلکہ انٹارکٹیکا اور آرکٹک جیسے انتہائی سرد اور دشوار گزار علاقوں میں سائنسی تحقیق بھی کی۔

انہوں نے جنوبی قطب کے سٹیشن پر ایک سال گزارا، جہاں وہ فائر فائٹنگ اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی وہ نمایاں رہیں۔ انہوں نے نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ اور فزکس میں ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ بعد میں اسی ادارے سے اعزازی پی ایچ ڈی بھی حاصل کی۔

کرسٹینا کوک نہ صرف ایک ماہر انجینئر اور خلا باز ہیں بلکہ ایک ہمہ جہت شخصیت کی مالک بھی ہیں۔ ان کے مشاغل میں سرفنگ، راک کلائمبنگ، یوگا، پروگرامنگ، فوٹوگرافی اور دنیا کی سیر شامل ہیں، جو ان کی متحرک اور جستجو بھری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

آرٹیمس II مشن کے ذریعے، کرسٹینا کوک ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی شمولیت نہ صرف خواتین کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ عالمی خلائی تحقیق میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین