کراچی: نقیب اللہ محسود قتل کیس میں 7 پولیس اہلکار بری

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2018 میں نقیب اللہ محسود کے پولیس مقابلے میں قتل کے مقدمے میں سات پولیس اہلکاروں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا۔

کراچی میں 23 جنوری، 2018 کو ہونے والے احتجاج کے دوران ایک شخص نقیب اللہ محسود کی تصویر تھامے ہوئے ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہفتے کو کراچی میں 2018 میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کے پولیس مقابلے میں قتل کے مقدمے میں سات پولیس اہلکاروں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا۔

عدالت کا تفصیلی تحریری حکم تاحال جاری نہیں ہوا۔ نقیب اللہ محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دکان دار اور ماڈل بننے کے خواہش مند نوجوان تھے۔

انہیں تین دیگر افراد کے ساتھ پولیس نے ایک مبینہ مقابلے میں مار دیا تھا اور اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ چاروں افراد عسکریت پسند تھے اور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

بعد ازاں پولیس کی ایک انکوائری میں سامنے آیا کہ نقیب اللہ کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا اور پولیس کی جانب سے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر سوالات اٹھائے گئے۔

اس مقدمے میں کراچی کے علاقے ملیر کے اس وقت کے سینئر پولیس افسر راؤ انوار بھی مرکزی ملزم تھے، جن کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کارروائی کی تھی۔

 عدالت نے جنوری 2023 میں راؤ انوار اور 17 دیگر پولیس اہلکاروں کو بھی یہ قرار دیتے ہوئے بری کردیا تھا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

سات پولیس اہلکاروں کی وکیل فرزانہ معین نے عرب نیوز کو بتایا کہ استغاثہ نے 41 گواہوں کے بیانات قلم بند کرائے، تاہم کسی نے یہ نہیں کہا کہ ان سات اہلکاروں نے نقیب اللہ کو اغوا کیا تھا اور نہ ہی کسی گواہ نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا۔

وکیل کے مطابق نقیب اللہ کے مبینہ اغوا کے دو اہم گواہوں نے بھی ان سات اہلکاروں میں سے کسی کی شناخت یا ان پر الزام عائد نہیں کیا جبکہ پولیس مقابلے سے متعلق گواہی دینے والے اہلکاروں نے بھی اسے جعلی قرار نہیں دیا۔

وکیل دفاع نے جمعے کو عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری حتمی دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ کے شواہد میں تضادات موجود ہیں اور 41 گواہوں میں سے کسی نے بھی سات ملزمان میں سے کسی کو مخصوص کردار کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

بری ہونے والے سات پولیس اہلکار راؤ انوار اور دیگر اہلکاروں کے خلاف پہلے مقدمے کی سماعت کے دوران مفرور رہے تھے۔

تاہم بعد میں انہوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا اور ان کے خلاف الگ مقدمہ چلایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری 2018 کو قتل کیا گیا تھا۔

ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا کہ نقیب اللہ کے عسکریت پسندوں سے روابط تھے۔

راؤ انوار نے ابتدائی طور پر نقیب اللہ کو عسکریت پسند قرار دیا تھا۔

قتل کے چند روز بعد راؤ انوار نے اسلام آباد سے دبئی جانے والی پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی تردید کی تھی۔

بعد ازاں مارچ 2018 میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

نقیب اللہ کے اہل خانہ نے جنوری 2023 میں راؤ انوار اور دیگر 17 پولیس اہلکاروں کی بریت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

 اہل خانہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے عرب نیوز کو بتایا کہ 2023 کے فیصلے کے خلاف اپیل تاحال زیر سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ہفتے کی بریت کے بعد اس مقدمے میں مزید کوئی ملزم ٹرائل کا سامنا نہیں کر رہا۔

عدالت کی جانب سے جاری کیا جانے والا تفصیلی تحریری حکم سات پولیس اہلکاروں کے خلاف استغاثہ کے شواہد اور بریت کی وجوہات واضح کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان