اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یواین ایچ سی آر) نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ فنڈنگ کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث رواں سال تقریباً 83 لاکھ پناہ گزین اور جبری طور پر بے گھر افراد امداد سے محروم ہو سکتے ہیں جبکہ بعض ممالک میں تحفظ فراہم کرنے کے نظام کے مکمل طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی اور دیگر ممالک کی جانب سے امداد میں کمی کے بعد یواین ایچ سی آر کو اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔
ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق اسے 5.789 ارب ڈالر کے فنڈنگ گیپ کا سامنا ہے جبکہ 2024 سے 2025 کے دوران ادارے کو دستیاب فنڈز میں 24 فیصد کمی ہوئی۔
جولائی تک یو این ایچ سی آر کو 2026 کے لیے درکار 8.505 ارب ڈالر میں سے صرف 32 فیصد فنڈز موصول ہوئے تھے، جبکہ دنیا بھر میں جبری طور پر بے گھر اور بے وطن افراد کی تعداد اب بھی ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔
یواین ایچ سی آر کے مطابق رواں سال کے اختتام تک اس کے دائرہ کار میں آنے والے افراد کی تعداد 13 کروڑ 12 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو گذشتہ سال کے اختتام پر 12 کروڑ 94 لاکھ تھی۔
ادارے نے اپنی 26 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا کہ ’ایک خاص حد سے نیچے نظام سکڑتا نہیں بلکہ ناکام ہو جاتا ہے۔‘
رپورٹ میں بجٹ میں کٹوتیوں کے نتیجے میں پناہ گزینوں کی رجسٹریشن، بچوں کے تحفظ کے پروگراموں اور صنفی بنیاد پر تشدد کے شکار افراد کے لیے خدمات پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رپورٹ میں بڑی تعداد میں بے گھر افراد کی میزبانی کرنے والے ممالک میں سنگین صورت حال کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چاڈ میں، جہاں پڑوسی ملک سوڈان کے تنازعے سے فرار ہونے والے پناہ گزین موجود ہیں، تقریباً 3 لاکھ 19 ہزار افراد کو رجسٹریشن میں تاخیر کا سامنا ہے، جبکہ 2 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو محفوظ مقامات اور تشدد کی روک تھام کے پروگراموں تک رسائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
سوڈان میں، جسے اقوام متحدہ نے خانہ جنگی کے باعث دنیا کا بدترین نقل مکانی کا بحران قرار دیا ہے، 2026 کے وسط تک تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی افراد رجسٹر نہیں ہو سکے تھے، کیونکہ سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران رجسٹریشن کی سرگرمیاں معطل رہی تھیں۔
افغانستان میں اپنے ملک واپس جانے والے افراد کے لیے یو این ایچ سی آر کی مالی امداد 375 ڈالر سے کم کرکے 170 ڈالر فی فرد کر دی گئی ہے۔ رواں سال اب تک ایران اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے جبری یا رضاکارانہ طور پر 10 لاکھ سے زائد افراد افغانستان واپس پہنچ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے کہا کہ مزید اخراجات میں کمی کے اقدامات بھی فنڈنگ کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ ادارہ 2025 میں پہلے ہی اپنی افرادی قوت میں 33 فیصد کمی کر چکا ہے جبکہ 2024 کے مقابلے میں 140 مقامات پر دفاتر بند اور 15 ممالک میں سرگرمیاں ختم کی جا چکی ہیں۔
ادارے نے مزید بتایا کہ عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کی جانے والی فنڈنگ کا بڑھتا ہوا حصہ مخصوص مقاصد کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ 2026 میں ایسی فنڈنگ کا حصہ بڑھ کر 51 فیصد ہو گیا ہے، جو پانچ سال قبل صرف 19 فیصد تھا۔ اس صورت حال سے ادارے کی فوری ضرورت کے مطابق وسائل منتقل کرنے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔
یو این ایچ سی آر نے خبردار کیا کہ فنڈنگ میں کمی سے پناہ گزینوں کے تحفظ کا نظام بتدریج کمزور ہو رہا ہے، جس سے یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ پناہ گزین بغیر دستاویزات کے رہ جائیں گے اور صنفی بنیاد پر تشدد کا شکار افراد کو ضروری مدد فراہم نہیں ہو سکے گی۔