صنفی تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح تقریباً ’پانچ فیصد‘، وجہ کیا؟

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں نومبر 2025 میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق صنفی تشدد کے تقریباً 70 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

پاکستان میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ ریپ کا واقعہ ہو، عمرے کی آڑ میں مبینہ جنسی استحصال میں ملوث نیٹ ورک یا کم سن بچیوں کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات، ایسے مقدمات میں گرفتاریوں کے بعد سزاؤں کی شرح تقریباً ’پانچ فیصد‘ ہے۔

یہ انکشاف سینیٹر شیری رحمان نے  27 نومبر 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کیا، جن کا کہنا تھا کہ ملک میں رپورٹ ہونے والے صنفی تشدد کے مقدمات میں قومی سطح پر سزا کی شرح تقریباً پانچ فیصد ہے، جبکہ تقریباً 70 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق بعض کیٹیگریز میں سزا کی شرح 0.5 فیصد تک گر جاتی ہے جبکہ گھریلو تشدد کے مقدمات میں یہ شرح 1.3 فیصد ہے۔

اجلاس میں پیش کیے گئے 2024 کے صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں ریپ کے 176 مقدمات میں سے صرف سات میں سزا ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں 258 مقدمات میں سے ایک میں سزا ہوئی جبکہ سندھ کے 243 اور بلوچستان کے 21 مقدمات میں کسی کو سزا نہیں ہوئی۔

قانون اور عملی صورت حال

2025  میں سینیٹ کو پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار اینٹی ریپ (تفتیش و مقدمہ) ایکٹ 2021 کے نفاذ کے تقریباً پانچ سال بعد سامنے آئے ہیں۔

یہ قانون پورے ملک میں نافذ ہے۔ اس کے تحت خصوصی تحقیقاتی یونٹس، فرانزک اور طبی معائنے کے لیے کرائسس سیلز اور خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور مقدمے کی تکمیل کے لیے چار ماہ کی قانونی حد مقرر کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح متنازع ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ بھی ختم کیا گیا۔ تاہم یہ عدالتیں صرف صنفی تشدد کے مقدمات تک محدود نہیں۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) کی ڈپٹی چیف ڈاکٹر زہرہ حیدر نے اس صورت حال کو پورے نظام کی ناکامی قرار دیا۔ ان کے مطابق ’یہ تھانے سے عدالت تک پورے نظام کی ناکامی ہے۔‘

انہوں نے سزاؤں کی کم شرح کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’عمل تھانے میں رپورٹ اور تحقیقات سے شروع ہوتا ہے، فرانزک شواہد اور استغاثہ سے گزرتا ہے اور عدالتی فیصلے پر ختم ہوتا ہے۔ کمزور تحقیقات، فرانزک شواہد میں خلا، مقدمے کی ناقص تیاری، گواہوں کا پیچھے ہٹنا اور تاخیر، یہ سب بریت کا باعث بنتے ہیں۔‘

ڈاکٹر زہرہ حیدر نے ملک بھر میں قائم 174 خصوصی عدالتوں کے بارے میں بتایا کہ ان تمام میں صرف صنفی تشدد کے مقدمات نہیں سنے جاتے۔

ان کے مطابق کمیشن کے پاس فی الحال تصدیق شدہ اعدادوشمار موجود نہیں کہ ان میں سے کتنی عدالتیں مکمل طور پر اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب خصوصی عدالتوں کو دیگر مقدمات بھی سونپے جاتے ہیں تو ’صنفی تشدد کے مقدمات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں اور انہیں وہ خصوصی توجہ نہیں مل پاتی جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔‘

فرانزک نظام اور وسائل کی کمی

کراچی کے فوجداری مقدمات کے وکیل بیرسٹر عزیر غوری نے مسئلے کی جڑ وسائل کی کمی کو قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اصل مسئلہ فنڈز، آلات اور عملے کی کمی ہے۔ حکومت نے نئے قوانین اور یونٹس تو بنا دیے، مگر انہیں چلانے کے لیے نہ مناسب فنڈز دیے، نہ آلات، نہ عملہ۔‘

بیرسٹر غوری کے مطابق سندھ میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کی سہولت محدود ہے اور بعض اضلاع سے نمونے دوسرے شہروں کو بھیجنے پڑتے ہیں۔ صوبے میں یہ سہولت کراچی کی لیبارٹریوں میں دستیاب ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق ڈی این اے کے نمونے 24 گھنٹوں میں لیبارٹری پہنچنے چاہییں، جبکہ ان کے بقول واقعے کی نوعیت کے لحاظ سے ڈی این اے شواہد کی عمر صرف 48 گھنٹے سے تین دن تک ہوتی ہے۔

2023  کی ترمیم کے تحت ہسپتال ریپ متاثرہ کو مفت طبی علاج اور بلا تاخیر میڈیکو لیگل رپورٹ فراہم کرنے کے پابند ہیں، تاہم بیرسٹر غوری کے مطابق بعض خاندانوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے تقریباً 20 ہزار روپے تک اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں، جو غریب خاندانوں کو مقدمہ آگے بڑھانے سے روک دیتا ہے۔

انہوں نے نمونوں کو کھانے یا نماز کے وقفے کے دوران گرم گاڑیوں میں رکھے جانے کی شکایات کا بھی ذکر کیا، جس سے نمونے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ان کے مطابق کرائسس سیلز اکثر دستیاب نہیں ہوتے، عدالتی معاوضے پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور محفوظ پناہ گاہوں کی کمی متاثرین اور گواہوں کو دباؤ کے سامنے بے سہارا چھوڑ دیتی ہے۔

عدالتوں میں تاخیر کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’جب عدالت میں مقدمہ تاخیر کا شکار نظر آتا ہے تو اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ مقدمہ پہلے ہی تاخیر یا نامکمل حالت میں عدالت پہنچا۔ عدالت اکثر پہلے سے موجود خرابیاں وراثت میں لیتی ہے، خود پیدا نہیں کرتی۔‘

ماہرین کی رائے

دونوں ماہرین نے نظام کے ٹوٹنے کی مختلف وجوہات بتائیں۔ بیرسٹر غوری کے مطابق سلسلہ سب سے پہلے کمزور فرانزک نظام اور غیر فعال کرائسس سیلز کی سطح پر ٹوٹتا ہے، جبکہ ڈاکٹر حیدر کے نزدیک یہ عدالتی سطح پر دوبارہ ٹوٹتا ہے، جہاں خصوصی عدالتیں مکمل طور پر صنفی تشدد کے مقدمات کے لیے مختص نہیں۔

ان مسائل کے حل کے لیے فرانزک لیبارٹریوں اور شواہد کے تحفظ کے نظام کی فنڈنگ اور  174 خصوصی عدالتوں میں سے مکمل طور پر صنفی تشدد کے مقدمات کے لیے مختص عدالتوں کا ضلع وار ڈیٹا عوامی سطح پر جاری کرنے کی ضرورت بیان کی گئی۔ کمیشن کے پاس فی الحال اس بارے میں تصدیق شدہ اعداد و شمار موجود نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین