گھریلو تشدد کا نیا قانون محض خانہ پری؟

دو ایک روز پہلے پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی جو اسلام آباد ہی میں لاگو ہو گا۔ قانون کی زبان اور اس میں استعمال کی گئی اصطلاحات سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ بس کسی فائل کی خانہ پری کے لیے بنایا گیا ہے۔

25 نومبر، 2009 کو کراچی میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقعے پر نعرے لگائے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

اس معاشرے میں رہتے، اس معاشرے کو سہتے چار دہائیاں گزر گئیں۔ ہاتھ یہ آیا کہ منٹو کی کہانیاں اور فیض کی نظمیں آج بھی اتنی ہی معنویت رکھتی ہیں جتنی پہلے رکھتی تھیں۔

دو ایک روز پہلے پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی جو اسلام آباد ہی میں لاگو ہو گا۔ قانون کی زبان اور اس میں استعمال کی گئی اصطلاحات سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ بس کسی فائل کی خانہ پری کے لیے بنایا گیا ہے۔

وہ فائل جسے کسی درخواست کے ساتھ لف کر کے جانے کس کو پیش کیا جانا ہے۔ قانون کے چند چیدہ چیدہ نکات سن لیجیے:

- بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

- ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔

- قانون میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہو گا اور اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

- بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔

اب آتے ہیں اس قانون کی سماجی تشریح پر، بیوی کو گھورنا، طلاق کی دھمکی اور دوسری شادی کی دھمکی، اسلام آباد ہی نہیں پورے ملک کے مرد اپنی بیویوں، بہنوں، ماؤں، خالاؤں اور بھی جتنی خواتین ان کے ارد گرد ہوتی ہیں انہیں گھور کر ہی دیکھتے ہیں تو شاید شاعر اس سطر میں ’ٹھہر تیری تو میں۔۔۔۔۔‘ والی گھوری کا ذکر کر رہا ہے۔

چلیں اس گھوری پہ ہم شوہر کو عدالت میں لے گئے تو ثابت کیسے کریں گے کہ اس نے مجھے گھورا؟

طلاق کی دھمکی بھی شوہر ایک شادی شدہ زندگی میں کوئی ہزار بار تو دیتے ہیں اور یہ خیر سے وہ شوہر ہوتے ہیں جنہیں عوام پیار سے ’زن مرید‘ پکارتے ہیں۔ ظالم شوہروں کی تو بات ہی چھوڑیے۔

رہی بات دوسری شادی کی تو جناب ہمارے ہاں کے لطیفے اور سماجی تقاریب کا بہترین موضوع دوسری شادی کی حسرت کا اظہار کرنا ہے۔

اس پہ کیس کرنے جائیں گے تو آپ کی عدالتیں بھر جائیں گی اور ہماری درخواستیں ختم نہیں ہوں گی۔ مرضی کے بغیر دوسرے افراد کے ساتھ رکھنا، یہ دوسرے افراد کون ہیں؟ دیور، جیٹھ، ساس، سسر، نندیں، وغیرہ وغیرہ۔
 
کوئی ایک عورت بھی ان سب کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، ایک لمحہ بھی۔ لیکن کیا آپ کی فلاحی ریاست ہر شادی شدہ جوڑے کو کم سے کم ایک بیڈروم کا گھر دے سکتی ہے؟
 
اگر نہیں تو جس گھر میں ہم سسرال نامی سرکس کے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں اور روز ایک تنی ہوئی رسی پہ شوہر اور بچوں کی ذمہ داریاں کندھے پہ لادے، ادھر سے ادھر جاتے ہیں، وہ سسر ہی کا ہوتا ہے جو ترس کھا کر بہو بیٹے کو ساتھ رکھتا ہے۔

اس گھر کا کرایہ بہو کی عزت نفس کو بار بار پامال کر کے وصول کیا جاتا ہے۔ آپ کا قانون ان چار دیواریوں کے اندر نہیں پہنچ سکتا۔

گھر میں رہنے والوں کو گالی دینا، وہ معاشرہ جہاں گھر کے افراد ہی نہیں، راستے میں آنے والی میز کرسی، پنکھا، روٹی، اخبار ہر چیز کو گالی دے کر مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ گالی تقریباً آدھے پاکستانی مردوں کا تکیہ کلام ہے، وہاں اسے جرم قرار دینے کے بعد اپنی جیلوں میں ہنگامی توسیع کرا لیں۔

آدھا پاکستان تین سال سرکاری مہمان بن کے جیل کے اندر گالیاں دیتے ہوئے رہنے آ رہا ہے۔

اب رہ گیا، نفسیاتی اور جذباتی طور پہ پریشان کرنا اور تعاقب کرنا، تو ہماری 90 فیصد عورتوں کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آئے گی؟ نفسیاتی اور جذباتی پریشانی کیا ہوتی ہے؟ اس کی قانونی تشریح کیا ہو گی؟

فرض کریں مجھے لگتا ہے کہ جب میرے مدیر کی کال آتی ہے تو میرا میاں ایک خاص انداز میں کھانستا ہے، جس سے میں جذباتی اور نفسیاتی طور پہ پریشان ہوتی ہوں تو میں اس جرم کو عدالت میں کیسے ثابت کروں گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب یہ تعاقب والی بات تو کسی کو بھی سمجھ نہیں آئے گی۔ تعاقب کیسے ہوتا ہے؟ یہ غالباً، stalking کا فٹافٹ کیا گیا ترجمہ ہے۔ ہم جسے تعاقب سمجھتے ہیں وہ کچھ اور ہوتا ہے۔

یہ وہ stalking ہے جس میں ’الفا میل‘ گھر کے کمزور افراد کو اپنا غلام ہی رکھنا چاہتا ہے اور جب وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی راستے تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ان کے سوشل میڈیا، فون اور دیگر راستوں پہ نظر رکھتے ہیں۔

گھر میں کیمرے لگاتے ہیں، فون میں ٹریکر، آتے جاتوں سے پتہ رکھتے ہیں کہ گھر والے کہاں گئے، کہاں سے آئے؟ یہ جرم عدالت میں ثابت کریں گے تو ثبوت کیا ہو گا؟

لب لباب یہ رہا کہ یہ بالکل علامتی قانون ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ بات تو سامنے آئی کہ یہ سب کرنا جرم ہے اور کچھ ہو نہ ہو آبادی کا ایک بڑا حصہ مجرم مجرم سا تو محسوس کرے گا۔

بقول شخصے ’فیلنگ مجرم ود بھائی شفیق اینڈ فورٹی نائن ادرز۔‘ سنجیدہ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عورت کے حقوق کی حالت ابتر ہے، اسلام نے عورت کو ہر حق دے رکھا ہے مگر مسلمانوں نے نہیں دیے۔

اسی طرح اب ریاست ہمارے حقوق کو تسلیم تو کر رہی ہے مگر بات تب ہے جب اس ریاست کے شہری یہ حقوق دیں گے۔

نیا قانون بنتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور یہ دھیان آتا ہے کہ ہماری تو گزر گئی، دھمکیاں سنتے، گھوریاں سہتے، ساس نندوں کے طعنے سنتے، دیوروں کی گندی نظریں اور جیٹھوں کے کنگھورے سنتے، سسر کی ٹانگیں دباتے اور اپنے فون پہ آئی کالوں کو فون لاگ سے ڈیلیٹ کرتے، گڈ مارننگ کے میسج مٹاتے، اوبر کی لوکیشن غائب کرتے اور جانے کس کس جرم کی اگنی پرکشا دیتے، اب اگلی نسل کو ہی سہی مگر کم سے کم جینے کا حق ہی مل جائے۔

مگر اگلی نسل بھی یہ سن لے کہ حق جب دیے نہیں جاتے تو چھین لیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو آپ کے حقوق نہیں مل رہے تو چھین لیں، ہم تو مانگتے مانگتے فقیر ہو گئے۔

تجربے کی بات یہی ہے کہ فقیروں کو دھکے ہی کھانے پڑتے ہیں، بڑھ کر جو اٹھا لے مینا اس کا ہے۔ آگے بڑھیں، کم سے کم علامتی طور پہ ہی سہی، ریاست آپ کے ساتھ ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر