ڈیجیٹل کرنسی اور کاروبار کی بڑی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل نے بدھ کو پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں امریکی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا: ’حکومت پاکستان اور فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ فنانشل ٹیکنالوجیز ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے اور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنانا ہے۔
امریکی وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا، جس کا مقصد شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم نے کہا: ’ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔‘
شہباز شریف نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی وفد کے سربراہ نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے گذشتہ ماہ انڈپینڈنٹ اردو سے انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت پاکستان کو کرپٹو کرنسی اپنانے اور بنانے والے ممالک کی صف اول میں لانا چاہتی ہیں اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کے ایک نئے اور تاریخی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو باقاعدہ، محفوظ اور منظم انداز میں اپنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
کرپٹوکرنسی کیا ہے؟
روپیہ، ڈالر، ریال اور دوسری کرنسیوں کی ڈیجیٹل شکلیں موجود ہوتی ہیں، جیسے آن لائن ٹرانسفر کی صورت میں، لیکن آپ انہیں نوٹوں کی شکل میں نکلوا بھی سکتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں کرپٹو کرنسی مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنسی ہے، یعنی ایسی رقم جو صرف انٹرنیٹ پر موجود ہوتی ہے اور اس کے کوئی پرنٹ شدہ نوٹ یا سکے نہیں ہوتے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ روپیہ ڈالر اور ریال کو مختلف ملک کنٹرول کرتے ہیں اور اپنی ضمانت سے اسے جاری کرتے ہیں، لیکن کرپٹو کو کوئی بینک یا کوئی حکومت کنٹرول نہیں کرتی، نہ اس کی کوئی سرکاری ضمانت ہوتی ہے۔
یہ کام کیسے کرتی ہے؟
کرپٹو کرنسی ایک خاص قسم کی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے، جسے بلاک چین کہتے ہیں۔ جیسے بینکوں کے کھاتے کا رجسٹر ہوتا ہے، ایسے ہی بلاک چین ایک قسم کا انکرپٹڈ یا خفیہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے جو صرف آن لائن ہوتا ہے اور اسی میں ہر لین دین یا ٹرانزیکشن کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔
یہ ریکارڈ دنیا بھر کے کمپیوٹروں پر موجود ہوتا ہے اور ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے، لیکن کوئی اس میں ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔
مختلف کرپٹو کرنسیاں مختلف بلاک چینز پر بنی ہوتی ہیں۔ بٹ کوائن، بٹ کوائن بلاک چین پر بنی ہے، جبکہ ایتھر، ایتھریم بلاک چین پر۔ کچھ نئی کرنسیاں پرانی کرپٹو کرنسیوں کی بلاک چینز پر بھی بنائی جا رہی ہیں، لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر کرپٹو کرنسی کا ڈیٹا کسی نہ کسی بلاک چین پر محفوظ ہوتا ہے۔
بلاک چین چونکہ بےحد محفوظ ٹیکنالوجی ہے، اس لیے اسے صرف کرنسی ریکارڈ کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ جائیداد کے کاغذات، یا کھانے پینے کی اشیا کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔