حماس نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے نئے سربراہ محمد عودہ اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔
اسرائیل کے مطابق یہ حملہ منگل کے روز غزہ کے علاقے رمال میں ایک رہائشی عمارت میں کیا گیا۔
محمد عودہ نے یہ عہدہ اس وقت سنبھالا تھا جب تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی ان کے پیشرو عزالدین الحداد 15 مئی کو اسرائیلی کارروائی میں قتل کر دیے گئے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق اس حملے میں محمد عودہ کی اہلیہ اور بیٹا بھی جان سے گئے۔
روئٹرز کے مطابق سینکڑوں فلسطینیوں نے بدھ کو غزہ شہر میں محمد عودہ اور ان کے خاندان کے جنازے میں شرکت کی۔
جنازے میں تینوں کی میتیں سفید کفن میں لپٹی ہوئی تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان سے گزاری گئیں، جو گذشتہ دو برسوں سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد عودہ کے ایک رشتہ دار ابو العبد عودہ نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں فلسطینیوں کی مزاحمت کو نہیں روک سکتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جدوجہد جاری رہے گی اور فلسطینی عوام ہر سطح پر اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔‘
غزہ کے طبی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم تین مزید افراد جان سے گئے اور 20 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ غزہ سٹی کے رِمال علاقے میں ایک عمارت کی بالائی منزل اس حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
امدادی کارکن ملبے تلے مزید افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے الزام لگایا تھا کہ محمد عودہ سات اکتوبر 2023 کے حملے کے وقت حماس کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ تھے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ حماس کی عسکری قیادت کے چند باقی ماندہ ارکان میں سے ایک تھے۔