’کوئی ماں جگر کا ٹکڑا دفن نہ کرے‘: جنگ نے غزہ کی خواتین کی زندگی کیسے بدلی؟

غزہ کی خواتین گذشتہ دو سال میں ہونے والی تباہی، خاندانی نقصانات اور روزگار کے حالات کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

29 مارچ 2026 کو جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں خواتین اسرائیلی میں مارے جانے والے پیاروں کے غم میں نڈھال ہیں (اے ایف پی)

اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ کی خواتین کی زندگی پہلے ہی ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ فروری میں ان کی زندگی مزید متاثر ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر فروری میں ایران پر حملہ کر دیا۔

یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ گذشتہ ڈھائی سال کی جنگ نے غزہ کے سماجی تانے بانے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب 57000 سے زیادہ گھرانوں کی سربراہ خواتین ہیں، جن میں سے کئی اپنے شوہروں کو کھونے کے بعد سخت غربت اور خطرے کے ماحول میں اچانک اپنے خاندانوں کی واحد کفیل بن چکی ہیں۔

صحت کی سہولتوں تک رسائی ختم ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے طبی سہولیات محدود ہو گئی ہیں، جن میں ہزاروں حاملہ خواتین شامل ہیں جو خطرناک حالات میں بچے کی پیدائش کا سامنا کر رہی ہیں۔

یو این ویمن کے مطابق، 28000 سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ماری جا چکی ہیں جن میں سے کئی مائیں تھیں، جو اپنے پیچھے تباہ حال خاندان اور ماں سے محروم بچے چھوڑ گئیں۔ اس دوران، تقریباً ایک کروڑ خواتین اور لڑکیاں بے گھر ہو چکی ہیں، جو حفاظت کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے، تو اسرائیل نے غزہ جانے والے تمام راستے بند کر دیے۔ اگرچہ کچھ راستے جزوی طور پر کھل گئے ہیں، لیکن امداد محدود اور ناکافی ہے اور خوراک کی قلت اور زیادہ قیمتوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے غزہ کو شدید انسانی بحران کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔

یہ خواتین ان چیلنجوں اور تکالیف کے بارے میں بتاتی ہیں جن کا انہیں اس کے نتیجے میں سامنا کرنا پڑا ہے۔

نئی نویلی دلہنوں کی زندگی

ہالا کی عمر 20 سال تھی جب اس کی ستمبر 2025 میں اپنی زندگی کی محبت، مہند سے منگنی ہوئی۔ اس جوڑے نے مہینوں تک مل کر اپنے مستقبل کا گھر تیار کیا۔

ہالا کہتی ہیں کہ ’ہم نے ہر چیز مل کر پسند کی، اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر توجہ دی۔ صوفہ، قالین، پردے، یہاں تک کہ سجاوٹ کی سب سے چھوٹی چیزیں بھی۔ جنگ کے دوران ہم جن حالات سے گزرے تھے، اس کے بعد ہم ایک پرسکون گھر بنانا چاہتے تھے۔‘

ان کی شادی 26 دسمبر 2025 کو ہوئی، اس امید کے ساتھ کہ جنگ بندی انہیں ایک پرامن زندگی شروع کرنے کا موقع دے گی۔ لیکن صرف دو ہفتے بعد، انہیں ایک کال موصول ہوئی، جس میں انہیں فوراً گھر خالی کرنے کا انتباہ دیا گیا۔

ہالا یاد کرتی ہیں، ’ہم کچھ سوچے سمجھے بغیر گھر سے باہر بھاگے۔ ہمارا تمام نیا سامان ابھی اندر ہی تھا۔‘

ان کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ اپنے گھر لوٹ آئیں گے، لیکن جب وہ واپس آئے تو وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ ان کا گھر چار میزائل لگنے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے ملبہ دیکھا تو مجھے یقین نہیں آیا۔ وہ گھر جو ہم نے اتنی محبت سے بنایا تھا، منٹوں میں غائب ہو گیا۔ میں نے سوچا تھا کہ جنگ بندی کے بعد شادی کرنے سے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ ایک نئی اور محفوظ زندگی ملے گی لیکن میں غلط تھی۔ یہاں کچھ بھی محفوظ محسوس نہیں ہوتا۔‘

جنگ کے دوران حمل

25 سالہ ہنا کی شادی جنگ کے دوران ہوئی اور وہ 2024 میں اپنے پہلے بچے کی ماں بننے والی تھیں، جو غزہ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ اس وقت زیادہ تر آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا تھا، اور حاملہ خواتین کے لیے مناسب خوراک کا حصول انتہائی مشکل تھا۔

ہنا کہتی ہیں کہ ’کھانا ڈھونڈنا سب سے بڑی جدوجہد میں سے ایک تھا اور بعض اوقات میں بھوکی ہی سو جاتی تھی۔ یہاں تک کہ وٹامنز بھی دستیاب نہیں تھے، اور مجھ جیسی بہت سی خواتین خون کی کمی کا شکار ہوئیں کیوں کہ ہمیں وہ غذائیت نہیں مل سکی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔‘

بچے کے لیے تیاری کرنا مشکل تھا۔ وہ کہتی ہیں: ’میں بچے کے کپڑے تلاش کرنے بازار گئی، لیکن وہاں تقریباً کچھ نہیں تھا۔ جو چند چیزیں موجود تھیں وہ اتنی مہنگی تھیں کہ میں انہیں خرید نہیں سکتی تھی۔‘

جب انہیں صبح ہونے سے پہلے درد زہ شروع ہوا تو ایک اور چیلنج سامنے آ گیا۔ ہنا یاد کرتی ہیں کہ ’وہاں ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت نہیں تھی، اور سکیورٹی کی صورت حال بہت خطرناک تھی۔ ہمیں ایمبولینس بلانی پڑی، لیکن ایمبولینسیں بم دھماکوں میں مصروف تھیں۔‘

جب وہ کسی طرح ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، تو حالات انتہائی خراب تھے۔ وہ کہتی ہیں: ’وارڈز زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے اور انہوں نے بچے کی پیدائش کے چند گھنٹے بعد ہی مجھے وہاں سے جانے کا کہہ دیا کیوں کہ وہاں کوئی بستر خالی نہیں تھا۔‘

خاندان کی تنہا کفالت

33 سالہ دالیہ کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی دانا 12 سال کی ہے۔ اس کا سب سے چھوٹا بیٹا ادھم ایک سال کا ہے۔ ان کی زندگیاں راتوں رات اس وقت بدل گئیں جب اسرائیلی فوج کی جانب سے مغربی رفح کے علاقے تل السلطان پر حملے کے بعد اس خاندان کو بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس حملے نے علاقے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور دالیہ کے شوہر محمد سمیت درجنوں فلسطینی مردوں کو بغیر کسی الزام کے گرفتار کر لیا گیا۔

دالیہ یاد کرتی ہیں کہ ’سب کچھ بہت جلدی ہوا۔ ہمیں کچھ بھی لیے بغیر اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ میرے بچے رو رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ انہیں کیا بتاؤں۔‘

اس لمحے سے، دالیہ نے خود کو اکیلے ہی خاندان کا بوجھ اٹھاتے ہوئے پایا۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہی، اور آخر کار ایک چھوٹے سے خیمے میں بس گئی جہاں انہوں نے مہینوں تک بے گھری اور شدید غربت میں زندگی گزاری جب اس کا سب سے چھوٹا بیٹا ابھی صرف چند ماہ کا تھا۔ 

خیمے کی زندگی مشکل تھی، اور دالیہ شاذ و نادر ہی اسے چھوڑتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں اپنے اردگرد کی تلخ حقیقتوں سے بچانے پر مرکوز رکھی۔

وہ کہتی ہیں: ’اچانک، میں ہر چیز کی ذمہ دار بن گئی۔ مجھے ایک ہی وقت میں عورت اور مرد کا کردار ادا کرنا پڑا۔ ہمارے رہنے کے حالات اتنے خوفناک تھے کہ بعض دنوں میں ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میرے بچے بار بار پوچھتے تھے کہ ان کے والد کب واپس آئیں گے۔ میں نے مضبوط رہنے کی کوشش کی، لیکن میں اندر سے بہت خوفزدہ تھی۔‘

جنگ بندی کے بعد، مہینوں کے انتظار کے بعد، محمد کو رہا کر دیا گیا۔ دالیہ اور اس کے بچوں کے لیے یہ خوف کے ایک طویل سال کا اختتام تھا۔ ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں رہا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب بالآخر جنگ بندی کے بعد اسے رہا کیا گیا، تو ایسا لگا جیسے زندگی ہمارے پاس دوبارہ لوٹ رہی ہے۔ میرے بچے بھاگ کر اس کے گلے لگ گئے، اور مہینوں میں پہلی بار، مجھے لگا کہ ہم دوبارہ سانس لے سکتے ہیں۔‘

دالیہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے اپنے خوف کی وضاحت کرتی ہے۔

دالیہ کے بقول: ’جب بھی میں خبروں میں اس کے بارے میں سنتی ہوں تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ یہ مجھے اس خوفناک ماضی کی طرف لے جاتا ہے جس میں، میں نے زندگی گزاری تھی۔ مجھے ڈر ہے کہ میرے بچوں کو دوبارہ اسی خوف سے گزرنا پڑے گا جس کے بارے میں ہم نے سوچا تھا کہ ہم اس سے بچ نکلے ہیں۔‘

شوہر کو کھونا

28 سالہ حنین کی شادی 35 سالہ محمد سے ہوئے کئی سال گزر چکے تھے جب اسے 2025 میں پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے۔

حنین کا کہنا ہے کہ ’ہم پانچ سال سے بچے کے لیے کوشش کر رہے تھے اور ایسا نہیں ہو رہا تھا۔ جب میں نے محمد کو بتایا کہ میں حاملہ ہوں، تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ اس دن کے بارے میں مسلسل بات کرتا رہا جب ہمارا بچہ اسے بابا کہہ کر بلائے گا۔‘

لڑائی کے عارضی خاتمے کے ساتھ ہی، حنین اور محمد نے اپنے بچے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ یاد کرتی ہیں کہ ’محمد اس وقت بہت خوش تھا جب ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارا بچہ ایک لڑکا ہے۔ اس نے بچے کا نام حسن رکھا اور اس کے لیے کپڑے بھی خریدے۔‘

انہوں نے گھر کو سجایا، بچے کا سامان خریدا، اور ایک ایسے مستقبل کا تصور کیا جو خاندان، محبت، اور سکیورٹی سے بھرا ہو۔

پھر ایک دن قیامت ٹوٹ پڑی جب محمد کام پر جا رہا تھے اور قریبی علاقے میں ایک حملہ ہوا۔ حالیہ جنگ بندی اور اس سے پیدا ہونے والے تحفظ کے احساس کے باوجود، یہ ہونے والا باپ موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

حنین اکیلی رہ گئی تھیں، اور ان کے پیٹ میں بچہ تھا۔ بچے کی توقع کی خوشی غم میں بدل گئی کیوں کہ اسے اپنے بچے کے باپ کے بغیر ماں بننے کا سامنا تھا۔

حنین کے بقول: ’اب میں اپنے بچے کے باپ کے بغیر اس کے پیدا ہونے کا انتظار کر رہی ہوں۔' 'میرا بیٹا دنیا میں آنے سے پہلے ہی یتیم ہو گیا تھا۔‘

ایک ماں کا نقصان

50 سالہ رغدہ چار بیٹوں اور چار بیٹیوں کی ماں ہے۔ 2024 میں، اس کے گھر پر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بمباری کی گئی۔

رغدہ نے کہا کہ ’ایک ہی لمحے میں، میں نے اپنے دو بیٹوں کو کھو دیا۔ ہم سب گھر میں جمع تھے، اپنی بیٹیوں کی شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جن کی نئی نئی منگنی ہوئی تھی، کہ اچانک ایک میزائل گھر سے ٹکرا گیا۔‘

رغدہ بچ گئیں، لیکن اس کے بیٹے ابراہیم اور احمد زندہ نہ بچ سکے۔ اس حملے میں اس کی دو بیٹیوں کے منگیتر بھی مارے گئے۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی دیکھنے، اور اپنے پوتوں اور نواسوں کو گود میں لینے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ وہ تمام خواب ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے۔ کسی بھی ماں کو کبھی اپنے دل کے ٹکڑے کو اس طرح دفن نہ کرنا پڑے۔‘

بزرگ ماں

67 سالہ اکتمال ایک بیوہ ہے جو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دمہ کی بیماریوں سے لڑ رہی ہے اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مشکلات میں گزارا ہے۔ سات بیٹیوں کی ماں، جو سب شادی شدہ اور اپنے بچوں والی ہیں، اکتمال کو کبھی اپنے گھر میں خوشی اور طاقت ملتی تھی، جہاں وہ اپنے خاندان کو جمع کرتی، یادیں شیئر کرتی، اور اپنے نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

جب اسرائیلی قبضے نے رفح کا کنٹرول سنبھال لیا، تو اکتمال کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اب وہ المواسی کے قصبے میں ایک چھوٹے سے خیمے میں رہتی ہے۔

اکتمال کہتی ہیں کہ ’میرے گھر میں میری تمام یادیں محفوظ تھیں۔ میں نے وہاں اپنی سات بیٹیوں کی پرورش کی۔ میں نے اس گھر میں انہیں بڑے ہوتے، سیکھتے، اور ان کی شادیاں ہوتے دیکھا۔‘

اب ان کی بیٹیاں الگ خیموں میں رہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اب انہیں شاذ و نادر ہی دیکھ پاتی ہوں کیوں کہ ہر ایک کو ہر روز اپنی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات میں اکیلی بیٹھتی ہوں اور ان دنوں کو یاد کرتی ہوں جب ہمارا گھر میری بیٹیوں اور نواسے نواسیوں کی آوازوں سے گونجتا تھا۔

’میں ان سب کو ایک ساتھ دوپہر کے کھانے پر بلاتی تھی تاکہ ان کی ہنسی کی آواز سے لطف اندوز ہو سکوں۔ میں اس گھر میں 30 سال سے زیادہ عرصے تک رہی؛ اس نے میری جوانی سے لے کر اب تک کے تمام لمحات اور یادوں کو دیکھا تھا۔ اسے ملبے کے ڈھیر میں دیکھ کر میرے دل میں درد ہوتا ہے۔‘

ان کی روزمرہ زندگی اب ایک جدوجہد ہے۔ اس کی صحت کی حالت معمولی کاموں کو بھی تھکا دینے والا بنا دیتی ہے، اور مناسب دیکھ بھال اور مدد کی کمی اس کی تکلیف میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اس گھر کے لیے ترستی ہیں جس نے کبھی ان کے خاندان کو جوڑے رکھا تھا اور وہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی یادوں کا غم مناتی ہیں بلکہ ان پرسکون محفلوں کا بھی سوگ مناتی ہے جو کبھی اس کے خاندانی گھر میں ہوا کرتی تھیں۔

تعلیم اور خود مختاری کو تھامے رکھنا

30 سالہ ختام دو چھوٹے بچوں، نو سالہ احمد اور سات سالہ یوسف، کی طلاق یافتہ ماں ہیں۔ وہ ایک چھوٹے سے خیمے میں اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہیں۔

اپنے اردگرد موجود خطرات کے باوجود، وہ روزانہ مختلف تنظیموں کے ساتھ ایک نفسیاتی مشیر کے طور پر کام کرنے کے لیے باہر نکلتی ہے، تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کر سکے اور ساتھ ہی اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔

ختام کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے بچوں کو جنگ سے شکست خوردہ محسوس کرنے دینے سے انکار کر دیا۔ میں چاہتی ہوں کہ ان کا ایک مستقبل ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ دیکھیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی ہمیں آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ میں اپنے بچوں کی کفالت کرنے اور انہیں دوبارہ خوش کرنے کے لیے دن رات محنت کرنے کو تیار ہوں۔‘

ختام نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بیرون ملک سکالرشپس کے لیے درخواست دی اور اسے آن لائن ماسٹرز ڈگری کرنے کے لیے مکمل سکالرشپ سے نوازا گیا۔ وہ اب کام، مطالعہ اور اکیلے اپنے بچوں کی پرورش کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے، جو غزہ کی خواتین کی لچک اور ہمت کی زندہ مثال ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سکالرشپ میرے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ جنگ کی وجہ سے ہماری زندگیاں ختم نہیں ہوتیں۔ میں اب بھی سیکھ سکتی ہوں، کام کر سکتی ہوں اور ایک متاثر کن ماں بن سکتی ہوں؛ وہ جو کچھ بھی کریں، میں کوشش کرنا کبھی نہیں چھوڑوں گی۔‘

اس کے ساتھ ہی، ختام ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ صورت حال سے اپنے بڑھتے ہوئے خوف کی وضاحت کرتی ہے۔

ختام کے مطابق: ’ایک ماں کی حیثیت سے، مجھے اس بات کی فکر ہے کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔ جب میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بارے میں سنتی ہوں، تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ غزہ کی صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ 

’میں اپنے بچوں کے لیے پچھلے دو سالوں میں گزری ہوئی چیزوں کا ازالہ کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں، لیکن اگر یہاں صورتحال مزید بگڑتی ہے، تو مجھے نہیں معلوم کہ میں دوبارہ زندہ رہنے کے لیے کیا کروں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صفر سے دوبارہ شروعات

36 سالہ نور انگریزی تعلیم کی گریجویٹ اور جڑواں بچوں سارہ اور بسام کی ماں ہیں۔ جنگ کے دوران، اس نے ایک صحافی کے طور پر چھ ماہ تک غزہ کی صورت حال کی کوریج کی۔

نور کہتی ہیں کہ ’وہ چھ مہینے میری زندگی کے مشکل ترین مہینوں میں سے تھے۔ غزہ میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے مجھے اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنا پڑا۔ ایک ماں کی حیثیت سے، یہ بے حد تکلیف دہ تھا۔‘

جنگ سے پہلے، نور نے روح کے نام سے کاسمیٹکس کا کاروبار کھڑا کیا تھا، جسے انہوں نے 2015 میں آن لائن شروع کیا تھا۔ جیسے جیسے اس کے گاہکوں میں اضافہ ہوا، اس نے غزہ میں ایک چھوٹا سا سٹور کھولا اور آخر کار 2022 میں الرمال کے علاقے میں ایک مرکز قائم کر کے اسے مزید وسعت دی۔

نور بتاتی ہیں: ’روح میرے لیے کبھی بھی صرف ایک سٹور نہیں تھا۔ یہ غزہ میں خواتین کے لیے ایک چھوٹی سی کمیونٹی کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ مجھے اس کی ہر ایک تفصیل کا بہت خیال تھا۔‘

افسوس کہ جنگ کے دوران ان کے سٹور پر بمباری کی گئی اور اسے جلا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے دیکھا کہ سٹور کے ساتھ کیا ہوا، تو میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں نے اسے اپنی محنت سے قدم بہ قدم کھڑا کیا تھا، اور اسے کھونے سے مجھ پر گہرا اثر پڑا۔‘

اس تباہی کے باوجود نور اسے دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ دوبارہ روح کو آن لائن چلانے کی طرف لوٹ آئی ہے، اور ان مصنوعات کی فراہمی جاری رکھنے کی ذمہ داری محسوس کرتی ہے جن پر اس کے گاہک بھروسہ کرتے ہیں اور وہ اپنے خواب سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے معلوم ہے کہ دوبارہ شروع کرنا مشکل ہوگا لیکن میں نے محسوس کیا کہ واپس آنا میری ذمہ داری ہے، اور میں اپنے خواب سے دستبردار نہیں ہوں گی، چاہے مجھے صفر سے سب کچھ دوبارہ تعمیر کرنا پڑے۔ چاہے کچھ بھی ہو، ہمیں اپنے خوابوں سے جڑے رہنا چاہیے، چیزوں کے بکھرنے پر انہیں دوبارہ بنانا چاہیے، اور آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا