موبائل سکرین کو چھوڑ کر گھروں سے باہر نکلیں، جین زی رنر کا مشورہ

عمر زمان نے حال ہی میں افریقہ میں ہونے والی ٹریل ہاف میراتھن میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے جین زی سے متعلق کئی غلط فہمیوں کو دور کیا۔

اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں پر سورج کی پہلی کرنیں پڑتے ہی شہر کی سڑکوں پر ایک خاموش سی ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں کسی کے جوتوں کی ٹک ٹک سنائی دیتی ہے، تو کہیں سانسوں کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ 

یہ وہ نوجوان ہیں جو موبائل سکرینوں سے نکل کر تارکول پر اپنے خواب دوڑا رہے ہیں۔

انہی نوجوانوں میں ایک نام ہے عمر زمان ہے۔ 23 سالہ عمر کا حوصلہ کسی تجربہ کار ایتھلیٹ سے کم نہیں ہے۔

عمر نے حال ہی میں افریقہ میں ہونے والی ٹریل ہاف میراتھن میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف پاکستان کا پرچم بلند کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ جین زی صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں، بلکہ میدان میں بھی اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔  

عمر کے لیے رننگ محض ایک شوق نہیں، ایک جذبہ ہے۔ 

چار برس پہلے جب وہ کالج کے طالب علم تھے، زندگی کی پہلی ریس میں 120 نوجوانوں کے درمیان وہ 70ویں نمبر پر آئے تھے۔ وہ دن ان کے لیے ہار کا نہیں، آغاز کا دن تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگلے ہی سال وہی لڑکا نئے عزم کے ساتھ دوڑا اور ساتویں پوزیشن پر پہنچ گیا۔

یہی وہ موڑ تھا جہاں عمر نے فیصلہ کیا کہ ’یہ صرف دوڑ نہیں، میرا راستہ ہے۔‘

نوجوان کھلاڑی عمر زمان تین فل میراتھن مکمل کر چکے ہیں۔ 42.2 کلومیٹر کا وہ فاصلہ جسے دنیا کی صرف ایک فیصد آبادی ہی طے کر پاتی ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ جین زی آسان راستے پسند کرتی، کم محنت، زیادہ چمک۔ لیکن عمر اور ان جیسے نوجوان اس تاثر کو روزانہ سڑکوں پر غلط ثابت کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف دوڑ رہے ہیں بلکہ نئی نسل کو یہ سکھا رہے ہیں کہ کامیابی فلٹر سے نہیں، پسینے سے بنتی ہے۔ 

عمر کا خواب ابھی ختم نہیں ہوا۔ وہ پرعزم ہیں کہ ایک دن کسی بڑے عالمی سٹیڈیم میں پاکستان کے لیے میڈل جیتیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل