’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان

’آفس فراگ‘ کا یہ رجحان ایمپلائرز کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے جو پہلے ہی مہارت کی کمی، ملازمین کو برقرار رکھنے کے دباؤ اور دیگر عوامل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کارپوریٹ اور ہیومن ریسورسز (ایچ آر) حلقوں میں ’آفس فراگ‘ کی ایک نئی اصطلاح تیزی سے مقبول ہو رہی ہے (اینواتو)

کارپوریٹ اور ہیومن ریسورسز (ایچ آر) حلقوں میں ’آفس فراگ‘ کی ایک نئی اصطلاح تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

یہ اصطلاح نوجوان ملازمین، خاص طور پر نئی نسل یا جنریشن زی (جین زی) کے اس رویے کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں بار بار نوکریاں بدلنے کی عادت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی مینڈک ایک پتے سے دوسرے پتے پر چھلانگ لگاتا ہے۔

یہ رجحان ایمپلائرز کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے جو پہلے ہی مہارت کی کمی، ملازمین کو برقرار رکھنے کے دباؤ اور ماحولیاتی، سماجی اور گورننس تقاضوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کمپنیاں نئی نسل کی بدلتی توقعات پر اترتے ہوئے کس طرح وفاداری پیدا کریں، اپنے ملازمین میں سرمایہ کاری کریں اور ادارہ جاتی تجربہ برقرار رکھیں۔

’کک ریزیومے‘ نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی کیریئر ایپ کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی پیٹر ڈورس کے مطابق یہ رویہ لازمی طور پر غیر سنجیدگی یا غیر مستقل مزاجی کی علامت نہیں۔

بلکہ ان کے بقول: ’آفس فراگ وہ ملازمین ہوتے ہیں جو ایک ہی نوکری میں زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ یہ زیادہ تر جنریشن زی کے نوجوان ہوتے ہیں جو نئے مواقع کی طرف چھلانگ لگانے سے نہیں گھبراتے۔ بعض اوقات نوکری بدلنا کسی کے لیے بہترین قدم ثابت ہو سکتا ہے۔‘

ڈورس کے مطابق، بہت سے نوجوان ملازمین اس وقت نوکری چھوڑ دیتے ہیں جب وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں میں کچھ نیا نہیں سیکھ رہے ہوتے یا بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں۔

ان کے بقول: ’کبھی کبھار ملازمین کو نئی مہارتیں سیکھنے یا تنخواہ بڑھانے کا موقع درکار ہوتا ہے اور یہ نیا موقع صرف نوکری بدلنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ متعدد نوکریاں کرنے سے لوگ اپنی مہارت اور آمدنی دونوں بہتر بنا سکتے ہیں، تاہم ایک ہی کمپنی کے ساتھ طویل عرصہ کام کرنے کے بھی اپنے فائدے ہیں، جیسے ’سی وی پر یہ عزم اور وفاداری کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے نوکری بدلنے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات ضرور تولیں۔‘

مگر ایسا سوچ سمجھ کر کریں، جلدبازی میں نہیں

ڈورس کے مطابق نوکری چھوڑنے کا فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت ہونا چاہیے۔

ان کے بقول: ’نوکریاں بدلنے والوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ بات مستقبل کے ایمپلائرز کے سامنے کیسے نظر آئے گی اور انہیں واضح طور پر بتانے کے قابل ہونا چاہیے کہ انہوں نے پچھلی ملازمت کیوں چھوڑی۔‘

اگر موجودہ نوکری میں اب بھی سیکھنے کے مواقع موجود ہیں یا نئی پیشکش میں زیادہ کچھ نیا سیکھنے کو نہیں ملتا، تو موجودہ جگہ پر رہنا بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔

ڈورس خبردار کرتے ہیں: ’صرف نوکری بدلنے کے لیے نوکری نہ بدلیں، یہ ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔‘

ان کے مطابق انٹرویو کے دوران پرانی نوکری یا باس کے بارے میں منفی بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے نیا آجر متاثر ہو سکتا ہے۔

کمپنیوں کے لیے سبق

کمپنیوں کے لیے ’آفس فراگ‘ کا رجحان صرف تنخواہوں کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور گورننس پالیسیوں سے جڑا ایک چیلنج بھی ہے۔

ڈورس کے مطابق: ’زیادہ تر آفس فراگز نوکری بدلنے کے ساتھ ہونے والے تنخواہ میں اضافے سے متحرک ہوتے ہیں لیکن ملازمین کو برقرار رکھنے کے لیے صرف زیادہ پیسے دینا کافی نہیں۔‘

ان کے مطابق اداروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے مطابق مسابقتی تنخواہیں اور بہتر فوائد پیش کریں، جیسے صحت کی سہولتیں، لچکدار اوقات کار اور دیگر مراعات، یہ سب ملازمین کو طویل مدت تک جوڑے رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

ڈورس مزید کہتے ہیں: ’تنخواہوں اور فوائد کے ساتھ ساتھ کمپنی کے کلچر کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ مثبت ماحول، کام اور زندگی کے توازن، سماجی تقریبات اور سپورٹیو ٹیم کلچر سے ملازمین کی وابستگی بڑھائی جا سکتی ہے۔‘

ای ایس جی اور افرادی قت میں استحکام

آج کے دور میں کمپنیوں کے اندرونی نظام پر سرمایہ کار، ریگولیٹرز اور صارفین سب گہری نظر رکھتے ہیں۔

زیادہ عملے کی تبدیلی نہ صرف تنوع کے اہداف کو متاثر کرتی ہے بلکہ بھرتی کے کاربن اخراجات بڑھاتی ہے اور ای ایس جی (سماجی، سوشل اور گورننس) کے سماجی پہلو (ایس) کو کمزور کرتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر کمپنیاں اپنے ملازمین پر سرمایہ کاری کریں، ان کی مہارتوں کو نکھاریں اور ایک انکلوسیو کلچر پروان چڑھائیں تو یہ ان کی ساکھ مضبوط بناتی ہے اور انہیں نئے ملازمین اور سرمایہ کاروں دونوں کے لیے پرکشش بناتی ہے۔

اگرچہ ’آفس فراگ‘ کا لیبل سننے میں دلچسپ لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے آج کے ایمپلائرز کے لیے سنجیدہ چیلنجز چھپے ہیں۔

نوجوان ملازمین نوکریاں کیوں بدل رہے ہیں، اسے سمجھنا اور اس کے مطابق پالیسی بنانا نہ صرف ایچ آر کی کارکردگی بلکہ طویل مدتی پائیداری اور اچھی گورننس کے لیے بھی ضروری ہے۔

جیسا کہ پیٹر ڈورس کہتے ہیں: ’نوکری بدلنے کے فیصلے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات پر غور کرنا ضروری ہے اور یہ نصیحت صرف ملازمین ہی نہیں بلکہ کمپنیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل