پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے میں تین پاکستانی جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔
یمن کے کوسٹ گارڈ نے منگل کو بتایا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے داخلی راستے آبنائے باب المندب کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز پر کیے گئے حملوں میں تین پاکستانیوں سمیت کم از کم چھ افراد جان سے گئے۔
یہ حملے گذشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد بحیرہ احمر کے داخلی راستے اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر ہونے والے متعدد مہلک حملوں میں تازہ ترین ہیں۔
اس بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ ایک بیان میں کہا کہ ’ہم واقعے کی مزید تفصیلات اور اس سے متعلق حالات کا تعین کرنے کے لیے سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک دستیاب معلومات کے مطابق، اس واقعے میں تین پاکستانی شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ ہم مرنے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
ساتھ ہی اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری طور پر رابطہ کرے اور مرنے والے پاکستانی شہریوں کی میتوں کی واپسی اور پاکستان منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات بھرپور طریقے سے یقینی بنائے، جبکہ زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کے حملے معصوم انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی، بحری سلامتی اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
اس سے قبل 7 اگست کو بھی یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی زیرقیادت اتحاد نے بتایا تھا کہ جنوبی سرحدی علاقے نجران پر حوثیوں کے حملے میں 11 شہری زخمی ہو گئے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل تھا۔