پاکستان بحریہ میں شامل کی گئی نئی آبدوز ’ہنگور‘ نے بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں اپنے پہلے عملی ہتھیاروں کے تجربے کے دوران بحری جہاز شکن کروز میزائل کامیابی سے فائر کیا ہے۔
پاکستان فوج نے اتوار کو بتایا کہ اس مشق کا مقصد آبدوز کی جنگی تیاری اور آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
رواں سال جون میں پاکستان بحریہ نے پی این ایس/ایم ’ہنگور‘ کی آمد کا اعلان کیا تھا۔
یہ چین کے ساتھ بڑے دفاعی تعاون کے تحت حاصل کی جانے والی نئی طرز کی آبدوزوں میں شامل ہونے والی پہلی آبدوز ہے۔
توقع ہے اس سے پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت اور زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشنل تیاری کے ایک بڑے مظاہرے کے طور پر آبدوز نے اتوار کو بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں بحری جہاز شکن کروز میزائل کے ذریعے مقررہ طویل فاصلے کے ہدف کو درستگی سے نشانہ بنایا۔
چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے میزائل فائر کیے جانے کا مشاہدہ کیا اور آبدوز کی جنگی صلاحیت کو سراہتے ہوئے قابلِ اعتماد بحری دفاع کے لیے بحریہ کی زیرِ آب صلاحیتوں کو بڑھانے کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان بحریہ نے ایک الگ بیان میں کہا ’ہنگور نے مقررہ ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا، جس سے اس کے ہتھیاروں کے نظام، جنگی تیاری اور آپریشنل مؤثریت کی تصدیق ہوئی۔‘
بیان میں کہا گیا ’کامیاب میزائل فائر پی این ایس/ایم ہنگور کو آپریشنل بنانے کے عمل میں ایک اہم سنگ میل ہے اور اس سے پاکستان بحریہ کی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں میں بڑھتی ہوئی قوت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔‘
یہ مظاہرہ بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں پاکستانی اور انڈین بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے تقریباً دو ہفتے بعد کیا گیا۔
اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارت کاروں کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ تصادم 15 ستمبر کو اس وقت ہوا جب پاکستان بحریہ اپنی دو سالہ مشق ’سی سپارک-26‘ میں مصروف تھی اور ایک انڈین جہاز نے ’پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب خطرناک انداز میں جارحانہ حربی نقل و حرکت‘ کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔
انڈین وزارت خارجہ کے مطابق انڈیا نے بھی اس تصادم پر پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا نے واقعے کو ’ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی فوجی یونٹس احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
یہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گذشتہ سال ہونے والی چار روزہ شدید فوجی جھڑپوں کے بعد پہلی کھلی فوجی کشیدگی تھی۔
گذشتہ سال کی لڑائی نے وسیع جنگ کے خدشات پیدا کر دیے تھے، تاہم بعد میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا تھا۔
پاکستان بحریہ کے مطابق ہنگور آبدوز جدید جنگی نظام، جدید سینسرز، ایئر انڈپینڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی اور بہتر سٹیلتھ خصوصیات سے لیس ہے۔
توقع ہے اس کی شمولیت سے بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ بحریہ سمندری راستوں اور تزویراتی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے۔
پاکستانی بحریہ نے اتوار کے عملی ہتھیاروں کے تجربے کے بعد کہا ’یہ سنگِ میل قومی بحری سرحدوں اور علاقائی امن کے تحفظ کے لیے جدید اور جنگی طور پر تیار فورس برقرار رکھنے کے پاکستانی بحریہ کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔‘