حوثیوں کا بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملہ، تین پاکستانیوں سمیت چھ اموات

یمن کے کوسٹ گارڈ کے مطابق جان سے جانے والوں میں چار ملاح شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد ان فورسز کے ارکان تھے جنہیں جہاز کو خالی کروانے کے لیے امدادی کارروائی کے دوران تعینات کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیرِ انتظام شہر مخا پر حوثیوں کے حملے کے ایک روز بعد 11 اگست 2026 کو مخا کی بندرگاہ میں ڈوبے ہوئے ایک بحری جہاز کا ایک پل پانی کی سطح پر نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

یمن کے کوسٹ گارڈ نے منگل کو کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے داخلی راستے آبنائے باب المندب کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز پر کیے گئے حملوں میں تین پاکستانیوں سمیت کم از کم چھ افراد جان سے چلے گئے۔

یہ حملے گذشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد بحیرہ احمر کے داخلی راستے اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر ہونے والے متعدد مہلک حملوں میں تازہ ترین ہیں۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے کوسٹ گارڈ نے کہا کہ مال بردار بحری جہاز، جس کی شناخت ’تہامہ‘ کے نام سے کی گئی ہے، پر سوار چار ملاح بھی جان سے جانے والوں میں شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد ان فورسز کے ارکان تھے جنہیں جہاز کو خالی کروانے کے لیے امدادی کارروائی کے دوران تعینات کیا گیا تھا۔

کوسٹ گارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ جہاز کو نشانہ بنانے والے ابتدائی حملے کے نتیجے میں ’بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جبکہ عملے کے ارکان جان سے گئے اور زخمی بھی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری جان سے گئے۔‘

امدادی کارکنوں کی جانب سے جہاز کو خالی کروانے کی کارروائی کے دوران ایک دوسرے حملے میں بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوسٹ گارڈ نے مزید کہا: ’حملے میں امدادی کارروائی کے مقام کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کے ارکان جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔‘

کوسٹ گارڈ کے مطابق حملوں کے دوران مجموعی طور پر 10 افراد زخمی ہوئے۔

بعد ازاں حوثیوں کے ایک ذرائع ابلاغ کے ادارے نے رپورٹ کیا کہ گروپ کی مسلح افواج نے منگل کو آبنائے باب المندب میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ سعودی فوجی سازوسامان لے جا رہا تھا۔

یہ بیان یمنی حکومت کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے حوثیوں پر بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے متعدد حملے کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔

وزارت نے اموات کی تعداد قدرے کم بتاتے ہوئے کہا کہ چار افراد جان سے گئے ہیں۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ’تجارتی بحری جہاز ’تہامہ‘ کو پہنچنے والے جانی نقصان، زخمیوں اور تباہی کے ساتھ ساتھ ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین نتائج کا مکمل ذمہ دار حوثی دہشت گرد ملیشیا کو قرار دیا ہے۔‘

حوثیوں کی جانب سے مبینہ حملے کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ یمن کی خانہ جنگی میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی کے گذشتہ ماہ خاتمے کے بعد پیش آیا ہے، جب ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 2022 کی مفاہمت کے خاتمے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار بحری جہازوں اور مملکت کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ کی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا