کریٹین سے لے کر میگنیشیم تک، ہر موسم میں کوئی نہ کوئی سپلیمنٹ مقبول ہو جاتا ہے اور اس سال صحت و تندرستی کے شوقین افراد اور آنتوں کی صحت کے ماہرین اسپغول کے چھلکے کے بارے میں کچھ زیادہ ہی بات کر رہے ہیں۔
فائبر سے بھرپور یہ سپلیمنٹ ’پلانٹاگو اواٹا‘ نامی پودے کے بیجوں سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کی زیادہ تر پیداوار جنوبی ایشیا، بالخصوص انڈیا کی ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ہوتی ہے۔
اس کے بتائے گئے فوائد میں نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانا، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح کم کرنا اور وزن گھٹانا شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر بعض افراد نے تو اسے ’قدرتی اوزیمپک‘ (اوزیمپک شوگر اور وزن کم کرنے میں مدد دینے والی دوا ہے) کا نام بھی دے دیا ہے۔
اسپغول کا چھلکا طویل عرصے سے آنتوں کی صحت کے ماہرین کی جانب سے ان مریضوں کے لیے تجویز کیا جاتا رہا ہے جنہیں نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا سامنا ہو۔
تاہم فائبر اب ایک مقبول موضوع بن چکا ہے، خاص طور پر اس تشویش کے بعد کہ برطانیہ کی 96 فیصد آبادی روزانہ 30 گرام فائبر استعمال کرنے کے ہدف کو پورا نہیں کرتی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک پر اسپغول کے چھلکے کے ہیش ٹیگ کے تحت 26 ہزار 500 سے زیادہ پوسٹس موجود ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر بھی اس پراڈکٹ کے بارے میں 63 ہزار 300 سے زائد پوسٹس کی جا چکی ہیں۔
اس سپلیمنٹ میں میوکیلیج (mucilage) کی بڑی مقدار ہوتی ہے جو حل پذیر فائبر کی ایک قسم ہے اور مائع کے ساتھ ملنے پر جیل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
جب یہ معدے اور آنتوں سے گزرتا ہے تو پانی جذب کرکے جیل بناتا ہے، جو فضلے کو نرم اور اس کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔
اس طرح قبض اور پیٹ پھولنے میں کمی لائی جا سکتی ہے، جس میں آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome) یعنی آنتوں کی حساسیت میں مبتلا افراد بھی شامل ہیں۔
غذائی ماہر اور آنتوں کی صحت کی ماہر ماریلیا شامون کہتی ہیں: میں اپنے کلائنٹس، خصوصاً آئی بی ایس کے شکار افراد، کے لیے بہت عرصے سے اسپغول کا چھلکا استعمال کروا رہی ہوں۔ یہ انتہائی مؤثر ہے، خاص طور پر اس مخصوص گروپ کے لیے، جس کے بارے میں اتنی بات نہیں کی جاتی جتنی ہونی چاہیے۔‘
اسپغول کا چھلکا مکمل شکل میں، پیس کر پاؤڈر کی صورت میں یا کیپسول میں دستیاب ہوتا ہے، تاہم شامون پاؤڈر استعمال کرنے کی تجویز دیتی ہیں کیونکہ اس میں مقدار کو قابو میں رکھتے ہوئے فائبر کی خوراک بتدریج بڑھائی جا سکتی ہے، بجائے اس کے کہ ایک ہی بار 10 گرام کی گولی لے کر آنتوں پر زیادہ بوجھ ڈال دیا جائے۔
ان کے مطابق: ’اس سے ممکنہ طور پر آپ کا پیٹ پھول سکتا ہے اور ایک دو دن کے لیے آپ کی آنتوں کی حرکت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاؤڈر کے ساتھ آپ صرف 3 گرام سے آغاز کر سکتے ہیں اور پھر اپنی برداشت کے مطابق مقدار بڑھا سکتے ہیں۔‘
اسپغول کا چھلکا استعمال کرتے وقت مناسب مقدار میں پانی پینا انتہائی اہم ہے۔ تقریباً ہر 20 گرام فائبر کے لیے 500 ملی لیٹر پانی پینے کی تجویز دی جاتی ہے۔
شامون کہتی ہیں: ’اگر آپ ایسا نہ کریں تو ممکنہ طور پر آپ کا دم گھٹ سکتا ہے۔‘ مناسب مقدار میں پانی نہ پینے کی صورت میں معدے یا آنتوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے بعض افراد اسپغول سے بننے والے جیل کو منجمد بیریز، دہی، شہد اور دودھ کے ساتھ سموتھی میں شامل کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے انار کے جوس کے ساتھ ملا کر جام جیسی شکل دے لیتے ہیں اور کچھ اسے ناشتے میں دہی، گرینولا اور تازہ پھلوں کے پیالے میں شامل کر لیتے ہیں۔‘
نظام ہاضمہ کے علاوہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپغول کا چھلکا زیادہ کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
2018 میں 28 ٹرائلز کے تجزیے میں، جن میں زیادہ تر ایسے افراد شامل تھے جن کا کولیسٹرول بلند تھا، محققین نے پایا کہ وہ افراد جنہوں نے کم از کم تین ہفتوں تک روزانہ 10 گرام اسپغول استعمال کیا، ان میں لو ڈینسٹی لیپوپروٹین (LDL) جیسے خراب کولیسٹرول کہا جاتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار مطلوب نہیں ہوتی، کی سطح میں کمی آئی۔
اسی طرح 2024 میں ہونے والے مطالعات کے ایک جائزے میں، جس میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ذیابیطس یا اس سے متعلقہ مسائل کے شکار افراد پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ سامنے آیا کہ اسپغول کے استعمال سے خون میں شوگر کی سطح کم ہوئی۔
اسپغول کے چھلکے سے متعلق سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے دعووں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ’قدرتی اوزیمپک‘ ہے۔
شامون اس تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’اسپغول اور جی ایل پی ون ادویات دونوں آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرا ہوا محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن ان کا طریقہ کار مختلف ہے۔ فائبر آپ کے ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے، جبکہ جی ایل پی ون دوا ایک ایسی دوا ہے جو آپ کے بھوک سے متعلق ہارمونز کو دوبارہ ترتیب دیتی ہے۔‘
تاہم 2020 میں زیادہ وزن اور موٹاپے کے شکار بالغ افراد پر کی جانے والے مختلف ٹرائلز کے جائزے میں محققین نے پایا کہ اسپغول کے استعمال کا جسمانی وزن، باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) یا کمر کے سائز پر اتنا اثر نہیں دیکھا گیا جتنا فرضی دوا (Placebo) لینے والوں میں ہوا۔
یہ سپلیمنٹ ہر شخص کے لیے موزوں بھی نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر کروہن کی بیماری (Crohn’s disease) میں مبتلا افراد یا پہلے سے ادویات استعمال کرنے والے لوگوں کو اسپغول استعمال کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ اسپغول بعض گولیوں کے جسم میں جذب ہونے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شامون کہتی ہیں: ’اگر آپ میں ایسی علامات ہیں جن کے لیے سپلیمنٹ کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے تو ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیں۔‘
ان کے مطابق خطرے کی علامات میں آنتوں کی حرکت میں تبدیلی، پاخانے میں خون اور مقعد سے خون آنا شامل ہیں۔ تاہم ان کے علاوہ اسپغول عام طور پر زیادہ تر افراد برداشت کر لیتے ہیں اور اسے وسیع پیمانے پر تجویز کیا جاتا ہے۔
اسپغول کی ایک اچھی بات اس کی سادگی ہے۔ دیگر مقبول سپلیمنٹس کے برعکس اس کی زیادہ تر اقسام خالص ہوتی ہیں۔ اس لیے پیکٹ کے پچھلے حصے پر درج اجزا دیکھتے وقت اگر اس پر 100 فیصد اسپغول کے چھلکے کا پاؤڈر لکھا ہو تو آپ کا انتخاب درست ہے۔
فی الحال اس آنتوں کے لیے مفید سمجھے جانے والے سپلیمنٹ کی کم قیمت بھی اس کی کشش کا باعث ہے، جہاں 100 گرام اسپغول کی قیمت صرف 4 پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔
تاہم، صحت سے متعلق زیادہ تر مقبول دعووں کی طرح، شامون خبردار کرتی ہیں کہ ہر صبح دہی میں تھوڑا سا اسپغول شامل کرنے سے پیٹ کے تمام مسائل اچانک ختم نہیں ہو جائیں گے جب تک آپ کی مجموعی خوراک آنتوں کی صحت کے خلاف کام کر رہی ہو۔
وہ کہتی ہیں: ’اگرچہ یہ ایک بہترین سپلیمنٹ ہے، لیکن یہ صرف ایک قسم کا فائبر ہے۔ ہماری آنتوں میں موجود بیکٹیریا مختلف اقسام کی غذاؤں سے پھلتے پھولتے ہیں، اور یہ تنوع فائبر سے بھرپور متنوع خوراک سے حاصل ہوتا ہے۔‘
’لہٰذا میرا طریقہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے خوراک کو ترجیح دی جائے، سوائے اس صورت کے جب آپ کسی مخصوص مسئلے مثلاً زیادہ کولیسٹرول یا آئی بی ایس میں مبتلا ہوں۔ خوراک کے بعد آپ سپلیمنٹ آزما سکتے ہیں، جو ایک اضافی چیز ہے، بالکل جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے۔‘
© The Independent