اوزیمپک کی طرح کی کم قیمت، دوسری کمپنیوں کی متبادل دوائیں جلد دنیا بھر کی مارکیٹس میں آنے والی ہیں، جس سے موٹاپے کے علاج کی دواؤں کے شعبے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
اوزیمپک ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے نوو نورڈسک کی مشہور دوا ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی اس وقت سامنے آ رہی ہے جب اوزیمپک اور اس سے متعلقہ ادویات جیسے ویگووی میں استعمال ہونے والے فعال جزو سیمیگلوٹائیڈ کے پیٹنٹس کینیڈا، انڈیا، چین اور برازیل میں ختم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
پیٹنٹس کے خاتمے سے متعدد جینرک دوا ساز کمپنیوں کے لیے اس دوا کے کم قیمت متبادل تیار کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور مہنگی برانڈڈ ادویات سے آگے بڑھ کر زیادہ مریضوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جینرک ادویات کی یہ لہر جی ایل پی-1 وزن کم کرنے والی ادویات کے شعبے میں نوو نورڈسک کی بالادستی کو چیلنج کر سکتی ہے اور مسابقتی ماحول کو نئی شکل دے سکتی ہے کیونکہ عالمی اور علاقائی سطح کے پروڈیوسرز پیٹنٹ کی مدت ختم ہوتے ہی تیزی سے لانچ کی تیاری کر رہے ہیں۔
کینیڈا میں اس ماہ سیمیگلوٹائیڈ کی پیٹنٹ تحفظ کی مدت باضابطہ طور پر ختم ہو گئی، جس کے بعد مقامی سطح پر جینرک دوا کی تیاری اور فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔
جینرک ورژنز کی اجازت کے بعد قیمتوں میں خاطر خواہ کمی متوقع ہے، جس سے ان مریضوں کے لیے دوا زیادہ قابلِ برداشت ہو جائے گی جو پہلے اس تک رسائی میں مشکلات کا شکار تھے۔
تاہم، پیٹنٹس کے خاتمے کے ساتھ پالیسی اور عوامی صحت سے متعلق سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔
پیٹنٹس کا مقصد دواساز کمپنیوں کو تحقیق اور ترقی پر آنے والی لاگت کی واپسی کا موقع دینا ہوتا ہے مگر جینرک ادویات صحت کے نظام پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ یہ طے کیا جائے کن لوگوں کو رسائی دی جائے، قیمتیں کیسے مقرر ہوں اور حکومتی کوریج کا کردار کیا ہو۔
نوو نورڈسک نے گذشتہ سال تصدیق کی تھی کہ کینیڈا میں سیمیگلوٹائیڈ کے پیٹنٹ کا ختم ہونا دانستہ تھا، کسی فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جس پر ممکنہ طور پر قیمتوں کے کنٹرول یا دیگر سٹریٹجک عوامل کا اثر ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اوزیمپک کو امریکہ میں 2018 میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔
بعد ازاں ہالی وڈ میں وزن کم کرنے کے لیے یہ دوا مقبول ہو گئی۔
2021 میں ویگووی کے اجرا کے بعد اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔
زبردست طلب کے باعث نوو نورڈسک کی پیداواری صلاحیت پر دباؤ پڑا، بین الاقوامی لانچز میں تاخیر ہوئی، یہاں تک کہ دنیا کے مختلف شہروں میں بلیک مارکیٹ سرگرمیاں اور ڈکیتیاں بھی سامنے آئیں، جن میں ڈیٹرائٹ اور برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں ڈکیتی کی کوششیں شامل ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیمیگلوٹائیڈ کی سستی دستیابی تجویز علاج کے رجحانات، انشورنس کوریج اور عوامی صحت کی حکمتِ عملیوں کو یکسر بدل سکتی ہے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب جی ایل پی-1 ادویات کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور انہیں طبی کے ساتھ ساتھ جمالیاتی وزن میں کمی کے لیے استعمال کرنے پر بھی شدید بحث جاری ہے۔
سیمیگلوٹائیڈ پر امریکہ میں تاحال پیٹنٹس موجود ہیں، جس کے باعث تقریباً 2031 اور 2035 تک (ثانوی تحفظات پر منحصر) جینرک ورژنز کی مارکیٹ میں آمد ممکن نہیں۔
ان پیٹنٹس کے ختم ہونے اور ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد ہی جینرک ادویات دستیاب ہو سکیں گی، تاہم فی الحال نوو نورڈسک کو خصوصی حقوق اور بلند قیمتوں کا فائدہ حاصل ہے۔
گذشتہ ہفتے ایمزون فارمیسی نے اعلان کیا کہ وہ اب نوو نورڈسک کی پہلی اورل جی ایل پی-1 وزن کم کرنے والی دوا ویگووی کو آن لائن پیش کر رہی ہے، جو بیمہ شدہ اور بغیر بیمہ دونوں طرح کے مریضوں کے لیے دستیاب ہے۔
بیمہ شدہ صارفین کے لیے اس کی ماہانہ قیمت کم ہو کر 25 ڈالر تک آ سکتی ہے جبکہ بغیر بیمہ مریضوں کو تقریباً 149 ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
ایمزون ملک بھر میں ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے اور خودکار طور پر کوپن لاگو کر کے قیمتوں کا موازنہ کرنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔
© The Independent