’عمران خان کی سیاست ختم ہونے کا تاثر غلط:‘ سہیل آفریدی کا کراچی جلسے سے خطاب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مطابق عوام عمران خان کی ایک کال پر ڈی چوک جانے کے لیے تیار ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 11 جنوری، 2026 کو کراچی کے باغ جناح میں جلسے سے خطاب کر رہے ہیں (سکرین گریب/پی ٹی آئی یوٹیوب)

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو کہا کہ کراچی کے جلسے نے ثابت کر دیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی سیاست ختم ہونے کا تاثر غلط ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق ’جس دن عمران خان نے قوم کو پیغام دیا، عوام اسی دن گھروں سے باہر نکل آئے گی۔‘

انہوں نے کراچی کے باغ جناح میں جلسے سے خطاب میں شکوہ کیا کہ پنجاب کے بعد سندھ حکومت نے بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔

پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ کا قافلہ جلسے کے لیے آ رہا تھا کہ راستے میں رکاوٹوں اور بڑی تعداد میں کارکنوں کے استقبال کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوا۔

سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دی ہوئی تھی۔

تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اجازت نامہ دیر سے ملنے کے باعث انہوں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اجتماع مزار قائد کے ایک دروازے کے سامنے ہو گا۔

یہ جلسہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے چار روزہ دورہ سندھ کا حصہ ہے، جس کے دوران وہ اپنی جماعت کی ملک گیر سٹریٹ موبلائزیشن مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس موقعے پر سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ کراچی کے بعد جلوس اور جلسوں کا اگلا پڑاؤ خیبرپختونخوا ہو گا اور ’سٹریٹ موومنٹ‘ کے ذریعے عمران خان کا پیغام ملک بھر میں پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے جلسے میں شریک لوگوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا وہ ’سندھ کی عوام کے مشکور ہیں، کراچی والوں نے دل جیت لیا۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ عوام نے باہر نکل کر ثابت کر دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ سندھ پولیس نے وزیرِ اعلیٰ آفریدی کے قافلے کو آگے بڑھنے سے ’روکنے کی کوشش‘ کی، لیکن پارٹی رہنماؤں نے ’کارکنوں کی مدد سے راستہ دوبارہ کھلوا لیا۔‘

سہیل آفریدی نے جلسے میں خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ ’آج لاکھوں کا مجمع اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کی نمائندہ جماعت پی ٹی آئی ہے۔‘

انہوں نے سندھ حکومت کو جمہوریت دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جمہوریت کے دعوے دار تھے، وہ حقیقت میں جمہوریت پسند نہیں نکلے۔

’سندھ حکومت نے سندھی ٹوپی اور اجرک کی بے حرمتی کی‘ اور عوام یہ بات کبھی معاف نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مل کر آئین کے ڈھانچے کو تبدیل کر دیا اور یہ کہ صوبے میں عملاً پارٹی کی ’آمریت‘ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام عمران خان کی ایک کال پر ڈی چوک جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ تیار رہیں اور اسی جذبے کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ قوم کے حقوق ختم کرے یا عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں جو ’فسطائیت‘ دکھائی گئی، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

دوسری جانب صوبہ سندھ کے مقامی حکومت کے وزیر ناصر حسین شاہ نے سندھ کے جاری دورے کے دوران سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے ’ناگوار واقعات‘ پر معذرت کر لی۔

ناصر حسین شاہ نے ایک نجی نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہے تو میں ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘ 

پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید کہا ’وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں اور جو بھی استقبال ہم نے کیا وہ خیبرپختونخوا کے عوام کے احترام میں تھا کیونکہ وہ ان کے منتخب نمائندہ ہیں۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی نے باغ جناح میں جلسے کی اجازت مانگی تھی ’حالانکہ یہ علاقہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔‘

ناصر شاہ کے مطابق پی ٹی آئی نے اجازت نامے (این او سی) کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اپنایا، جس کے باعث کچھ تاخیر بھی ہوئی۔

بعدازاں مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب این او سی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا اور پی ٹی آئی نے اعلان کر دیا کہ وہ روڈ پر جلسہ کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست