ریڈیو پاکستان جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز: سہیل آفریدی کی شناخت کی فرانزک تصدیق

فرانزک رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ پشاور ریڈیو پاکستان کی عمارت میں 10 مئی، 2023 کو جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما شامل تھے۔

 سہیل آفریدی ایک عوامی احتجاج کے دوران نعرہ لگا رہے ہیں (سہیل آفریدی فیس بک پیج)

پنجاب فرانزک لیبارٹری نے اپنی ایک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کے اندر 10 مئی، 2023 کو جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنما شامل ہیں۔

اس مقدمے میں ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے بتایا کہ پشاور شرقی تھانے کی پولیس نے عدالتی حکم پر کچھ ویڈیوز فرانزک جانچ کے لیے پنجاب فرانزک لیب کو بھیجی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیب کی رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے جسے 10 جنوری کو  عدالت میں بھی پیش کر دیا گیا۔

شبیر گگیانی نے مزید بتایا کہ اس رپورٹ کے علاوہ نادرا کی ایک رپورٹ بھی موصول ہونا باقی ہے۔

فرانزک رپورٹ (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) میں لکھا گیا ہے کہ اسے مختلف یو ایس بیز میں 16 ویڈیو فائلز بھیجی گئیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ویڈیوز جعلی یا ایڈیٹ شدہ تو نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ویڈیوز کی جانچ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں نظر آنے والے لوگوں کی شناخت ہو سکے اور اس مقصد کے لیے ویڈیوز کی ڈیجیٹل انٹیلی جنس ٹیبل کے مدد سے تحقیق کی گئی۔

رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ فائل نمبر ایک سے آٹھ تک کی ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں پائی گئی جبکہ فائل نمبر نو کی ویڈیو میں ایڈیٹنگ نہیں بلکہ مختلف فریمز جوڑے گئے۔

اسی طرح فائل نمبر 10 سے 14 تک کی ویڈیوز میں صرف لوگو کو شامل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فائل نمبر 15 اور 16 میں مختلف ویڈیو کلپس کو ملایا گیا اور ان تمام ویڈیوز میں شخصیات کی فرانزک کی گئی ہے۔

ویڈیوز میں نظر آنے والے ایک شخص کی تصویر عامر خان چمکنی سے میچ کرتی ہے، جو پی ٹی آئی کے رہنما ہیں۔

اسی طرح ایک شخص کے فیشل فیچرز ویڈیوز میں نظر آنے والے ملزم عرفان سلیم جبکہ ایک اور شخص کے فیشل فیچرز ملزم کامران خان بنگش سے میچ کرتے ہیں۔

کامران بنگش پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر بلدیات اور اطلاعات رہ چکے ہیں جبکہ عرفان سلیم پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر ہیں۔

اسی طرح رپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کے فیشل فیچرز  سہیل آفریدی کے ساتھ میچ کرتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی تصویر بھی رپورٹ میں شامل ہے اور ان کی تصاویر ویڈیوز سے لے کر رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر خزانہ اور صحت کی ویڈیوز سے لی گئی تصاویر اور اوریجنل تصویر بھی دی گئی ہے، جن کے چہرے کی ساخت تیمور سلیم جھگڑا کے ساتھ میچ کرتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر گگیانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کیس میں حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے ملزمان کے بطور وکیل پیش ہونے پر اعتراض کر رکھا ہے۔

شبیر گگیانی کہتے ہیں ’اس مقدمے میں حکومتی اراکین بھی ملزمان ہیں تو ہم نے اعتراض کیا ہے کہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل حکومت کی جانب سے پیش نہیں ہو سکتے۔

’ اسی وجہ سے عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کی ہے۔‘

پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر عرفان سلیم نے لیب رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس مقدمے میں ان سمیت سہیل آفریدی، کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کا نام ہی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا ’ویڈیوز میں ہم ضرور ہوں گے اور ہم اس سے انکار بھی نہیں کرتے کہ ہم مظاہرے میں موجود نہیں تھے لیکن مقدمے میں اور ریڈیو پاکستان جلاؤ گھیراؤ سے دور تک ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘

رپورٹ میں موجود ایک اور پی ٹی آئی رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’اس مقدمے میں ہمارا نام نہیں اور نہ ہی ضمنی میں ہمارا نام شامل کیا گیا ہے، لہٰذا فرانزک لیب کی رپورٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔‘

ان کے بقول اس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ اس مقدمے میں وہ، سہیل آفریدی یا دیگر رہنما نامزد نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور جھگڑا نے بھی کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان پشاور حملے سے متعلق ایف آئی آر 221 میں ان کا نام شامل ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسی ضمنی چارج شیٹ میں ان کا ذکر موجود ہے۔ اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کیس کا ٹرائل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور ان کے مطابق نہ وہ اور نہ ہی کامران بنگش، عرفان سلیم یا سہیل آفریدی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 اور 10 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مرکزی کیس پہلے ہی عدالت سے خارج ہو چکا ہے اور عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔ ان کے بقول فیصلے کو پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ استغاثہ کا کیس انتہائی کمزور تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست