عمران خان کو فالو اپ علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا، طبی طور پر مستحکم: پمز انتظامیہ

پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے پیر کو کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو 15 جون 2026 کو آنکھوں کے فالو اَپ علاج، یعنی پانچویں اِنٹرا ویٹریئل انجیکشن کے لیے پمزلایا گیا۔

4 نومبر، 2022 کی اس تصویر میں سابق وزیراعظم عمران خان کو لاہور میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے پیر کو کہا ہے کہ 74 سالہ سابق وزیراعظم عمران خان کو 15 جون 2026 کو آنکھوں کے فالو اَپ علاج، یعنی پانچویں اِنٹرا ویٹریئل انجیکشن کے لیے پمز لایا گیا۔

بیان کے مطابق طریقہ کار سے قبل ماہر امراضِ چشم نے معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا گیا۔ ان کا آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی ٹیسٹ کیا گیا جس میں طبی بہتری ظاہر ہوئی۔

ہسپتال انتظامیہ نہ بتایا کہ ’رضامندی حاصل کرنے کے بعد اور معیاری نگرانی میں، آپریشن تھیٹر میں تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے سرجنز نے مائیکروسکوپی کی رہنمائی میں انہیں اِنٹرا ویٹریئل انجیکشن کی پانچویں ڈوز دی۔‘

پمز انتظامیہ کے مطابق ’یہ طریقہ کار ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا۔ قیام کے دوران، طریقہ کار سے پہلے، دوران اور بعد میں ان کی حالت مستحکم رہی۔ بعد ازاں انہیں مزید علاج اور فالو اَپ کے لیے ضروری ہدایات اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔‘

عمران خان 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں متعدد مقدمات میں قید ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل عمران خان کے رواں سال اپریل میں اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں آنکھ کے چوتھے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم کی صحت اور جیل کی صورت حال پر ان کی جماعت، حامیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بارہا ان کو دی جانے والی طبی سہولیات اور دورانِ قید علاج تک رسائی پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔

رواں سال 23 مارچ کو بھی عمران خان کو تیسرا اینٹی وی ای جی ایف انٹراویٹریئل انجیکشن دیا گیا تھا۔

ان کی آنکھ کی بیماری دائیں مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔ ان کا پہلا طبی معائنہ 24 جنوری کو کیا گیا تھا، جبکہ دوسری بار انہیں 24 فروری کو ہسپتال لے جایا گیا۔

پہلے انجیکشن کے بعد اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ: ’طبی کارروائی کے دوران بھی وہ بالکل ٹھیک تھے۔‘

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’تمام قیدیوں کو جب کوئی ایسا مسئلہ ہو تو ڈاکٹرز تک رسائی دستیاب ہوتی ہے اور یہ بالکل قواعد کے مطابق ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان