عمران خان کا اسلام آباد کے ہسپتال میں آنکھ کا تیسرا پروسیجر

پمز ہسپتال نے ایک بیان میں بتایا کہ پروسیجر سے پہلے اور بعد میں سابق وزیر اعظم کی حالت مستحکم رہی۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان لاہور میں 2021 میں ایک جلسے کے دوران سٹیج پر موجود ہیں (پی ٹی آئی فیس بک)

اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ہسپتال) نے ایک بیان میں بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو پیر کے روز تیسری بار ہسپتال لا کر ان کی آنکھ کا پروسیجر کیا گیا۔

بیان کے مطابق عمران خان کی حالت پروسیجر سے پہلے اور بعد میں مستحکم رہی۔

حالیہ مہینوں میں عمران خان کی صحت ایک انتہائی حساس سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنوری میں جب ایک وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اڈیالہ جیل میں قید کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بینائی کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق عمران خان ریٹینل وین اوکلوژن کا علاج کرا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آنکھ کے پردے (ریٹینا) سے خون لے جانے والی رگیں بند ہو جاتی ہیں جس سے بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم کو گذشتہ ماہ پمز میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں اینٹی وی ای جی ایف کے انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی تھی۔ 

ہسپتال نے اپنی تازہ ترین پریس ریلیز میں بتایا کہ انہیں 23 مارچ کو تیسری مرتبہ ہسپتال لایا گیا اور پروسیجر سے پہلے ماہرین امراض چشم نے ان کی حالت کو ’مکمل طور پر مستحکم‘ قرار دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق ’باقاعدہ رضامندی حاصل کرنے کے بعد اور معمول کی نگرانی میں آپریشن تھیٹر میں تمام مروجہ احتیاطی تدابیر اور پروٹوکولز کو اپناتے ہوئے، سرجنز نے مائیکروسکوپ کی مدد سے انہیں اینٹی وی ای جی ایف کے انٹرا وٹریل انجیکشن کی تیسری خوراک لگائی۔‘

اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن عام طور پر آنکھ کے اندر سوجن اور خون کی نالیوں کی غیر معمولی افزائش کو کم کر کے ریٹینل وین اوکلوژن اور آنکھ کے پردے کی دیگر رگوں کی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ہسپتال کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ ’ہسپتال میں قیام کے دوران پروسیجر سے قبل، اس کے دوران اور بعد میں ان کی حالت بالکل مستحکم رہی، جس کے بعد انہیں مزید دیکھ بھال کی ہدایات، آئندہ چیک اپ کے مشورے اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کے اہل خانہ ماضی میں سرکاری ہسپتال میں ان کے علاج کو مسترد کر چکے ہیں۔

دونوں جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ان کے ذاتی معالج اور اہل خانہ تک رسائی دی جائے۔ 

حکومت کا اصرار ہے کہ عمران خان کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس نے ان کے اہل خانہ اور پارٹی پر ان کی بیماری کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

74 سالہ عمران خان اگست 2023 سے راول پنڈی کی سینٹرل جیل میں ان مقدمات میں قید ہیں جن کے بارے میں ان کا اور پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

ان کی قید نے پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مسلسل سیاسی محاذ آرائی کو جنم دیا ہے، جس میں ان کی رہائی کے لیے بار بار احتجاج کیے گئے ہیں اور ان میں سے کئی مظاہرے پرتشدد شکل بھی اختیار کر گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست