آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے پیر کو پاکستان کے ضلع چکوال میں سی سی ڈی فائرنگ میں جان سے جانے والی آسٹریلوی بچی کی موت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
جبکہ سی سی ڈی راولپنڈی کے ریجنل افسر حسن جہانگیر وٹو نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، 'یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے، جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ ایک نہایت بدقسمت واقعہ ہے۔‘
سی سی ڈی کے مطابق ’پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کی رات اس وقت یہ واقعہ پیش آیا جب متاثرہ خاندان کے سربراہ عدیل احمد، جو آسٹریلیا میں مقیم ہیں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر نوگزہ دربار کے قریب پہنچے جہاں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر دو مسلح افراد نے روکا اور اسلحہ کے زور پر زیورات اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔‘
عدیل احمد نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ ’مسلح افراد نے ان کی اہلیہ سے زیورات چھینے اور اسی دوران ان پر ایک فائر ہوا اور زیورات چھیننے والے مسلح شخص نے گاڑی کی اوٹ لے کر جوابی فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی مختلف سمتوں سے گولیوں کا نشانہ بنی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عدیل احمد، ان کا 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ احمد زخمی ہوئے جبکہ اہلیہ محفوظ رہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے پیر کو اس واقعے پر کہا کہ ’جان سے جانے والی بچی نو سال کی تھی‘۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت ’ان حالات میں شفافیت اور مکمل تحقیقات کی توقع رکھتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق نہ صرف ایک کم عمر بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے بلکہ اسی واقعے میں خاندان کے دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں، اور یہ حالات واقعی نہایت سنگین ہیں۔‘
آسٹریلیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا کہ وہ ایک آسٹریلوی شہری کے اہلِ خانہ کی مدد فراہم کر رہی ہے جو اس واقعے میں جان سے گیا، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل صوبہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کو بتایا تھا کہ ضلع چکوال میں سی سی ڈی کے ایک پولیس کانسٹیبل کو نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلین بچی کی موت کے بعد حراست میں لیا گیا ہے جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گاڑی پر جاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ میں جان سے چلی گئی تھی۔
سی سی ڈی نے اس واقعے پر اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ ’اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ یہ سمجھ کر کی کہ وہ مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی گاڑی ہے، اور غلط شناخت کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق: عدیل احمد نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے تیزی سے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن گاڑی پر پیچھے سے گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی جس سے وہ اور دونوں بچے زخمی ہو گئے۔ اہل خانہ کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں نو سالہ بچی کو مردہ قرار دے دیا گیا۔‘
دوسری جانب سی سی ڈی نے اپنی باضابطہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 10 جون کی رات ایک مسلح ڈکیتی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی جہاں ڈاکوؤں نے پہلے فائرنگ کی اور بعد ازاں مبینہ مقابلہ شروع ہوا۔
پریس ریلیز کے مطابق ’ایک اہلکار نے صورت حال کو غلط طور پر سمجھا اور فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔‘ ادارے نے اہلکار کو فوری طور پر معطل اور گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔
سی سی ڈی نے کہا ہے کہ ’ادارہ انسانی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات جاری ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔‘
ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ اصل ڈکیتی میں ملوث دو ملزمان بعد ازاں مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 394 اور 440 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
ترجمان کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب عبدالواحد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ چکوال واقعہ پر رنجیدہ ہیں اور متاثرہ فیملی سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ’واقعے کی تحقیقات میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔‘
ان کے مطابق فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور گرفتار اہلکار کی رائفل اور استعمال شدہ گولیوں کے خول ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سی سی ڈی پر اکثر تنقید کی جاتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔‘
جب ان اس پوچھا گیا کہ ادراہ اس واقعے کے بعد کیا کارروائی کر رہا ہے تو اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’فائرنگ کرنے والے اہلکار نے محکمانہ ایس او پیز کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور اہلکار کا یہ غیر قانونی اقدام کسی بھی صورت میں ادارے کی پالیسی، تربیت اور اقدار کا عکاس نہیں ہے۔‘
ترجمان کے مطابق: ’واقعہ کے حقائق جاننے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو کہ شفاف تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ فیملی کو تحقیقات میں ہونے والی ہر پیشرفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ہسپتال میں چکوال سی سی ڈی فائرنگ میں جان سے جانے والی نو سالہ ہانیہ کے والد اور بھائی کا علاج جاری ہے۔
ایم ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال ڈاکٹر شرجیل کے مطابق ہانیہ کے والد مکمل صحت یاب ہیں اور فی الحال زیر نگرانی ہیں۔
ڈاکٹر شرجیل کے مطابق ہانیہ کے 12 سالہ بھائی عافان کے پیٹ کی سرجری کی گئی ہے جبکہ ان کی ٹانگ بھی فریکچر ہے اور عافان آرتھوپیڈک ڈاکٹروں کی مکمل نگرانی میں ہیں۔
ڈاکٹر شرجیل نے بتایا کہ چند روز بعد والد اور بیٹے کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں۔
تاہم سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔