پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستانی وفد کے ارومچی بھیجے جانے کی تصدیق کی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ مہینے سرحدی جھڑپے شروع ہوئیں جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فضائی حملے بھی کیے۔
کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ملکوں کے سرحدی راستے بھی بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور عام لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
اس تناظر میں بدھ کو ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ چین کے موقع پر ارومچی میں افغان طالبان کی حکومت سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم اب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ’ورکنگ لیول مذاکرات‘ قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی سے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’جی ہاں، پاکستان نے اپنے مستقل مؤقف کے مطابق ارومچی ایک وفد بھیجا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہمارے خدشات کو دور کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’ارومچی میں ہونے والے مذاکرات ورکنگ لیول کے مذاکرات ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ ’ہم اپنی کارروائیاں نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ شہریوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔‘