پاکستان اور افغانستان کے اورمچی میں مذاکرات: رپورٹ

خبر رساں ایجنسی اے پی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں میں موجودہ کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔

20 اگست، 2025 کو کابل میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، ان کے پاکستانی اور افغان ہم منصبوں اسحاق ڈار  اور امیر خان متقی چھٹے سہ فریقی ڈائیلاگ میں شریک ہیں (بشکریہ شِنہوا نیوز ایجنسی نیوز ایجنسی)

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ کو پاکستانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا ہے، جہاں چین دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے ’ثالثی‘ کر رہا ہے۔

اے پی کے مطابق یہ اطلاعات بدھ کو دو پاکستانی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیں۔ تیسرے شخص نے، جو چین کی ثالثی کی کوششوں سے باخبر ہے، بتایا کہ مذاکرات کا مقصد موجودہ کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔

ان عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے نمائندے شمالی چین میں ارومچی کے شہر میں ملاقات کر رہے ہیں۔

چین نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی تاحال اس تازہ پیش رفت کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی صادق خان سے رابطہ کیا تاہم فی الحال کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ان دنوں چین کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے ایران کی حالیہ صورت حال پر اپنے چینی ہم منصب سے گفتگو کی۔

اسحاق ڈار نے گذشتہ روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بیجنگ میں ملاقات کی تھی، جس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ میں فوری سیز فائر کیا جائے جبکہ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولا اور محفوظ بنایا جائے۔

اطلاعات تھیں کہ پاکستان ترکی، قطر اور دیگر ثالثی کی کوشش کے بعد فریقین کے سخت موقف کی وجہ سے اس وقت تک مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھا جب تک کابل نرمی پر تیار نہ ہو۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے گذشتہ دنوں اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام سے رابطے کی درخواستوں کے باوجود، پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا۔

اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ اور سکیورٹی اہلکار بات چیت میں شریک ہیں لیکن اس رابطے کو زیادہ میڈیا کوریج نہیں دی جائے گی جب تک کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا