پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر نامی سول سوسائٹی تنظیم کی جانب سے منگل کو ہونے والے جرگے نے دونوں ممالک سے فائر بندی اور بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا ہے۔
جرگے کا انعقاد پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سنٹر میں ہوا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، وکلا اور صحافیوں کے نمائندے موجود تھے۔
جرگے کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں دونوں ملکوں سے فوری جنگ بندی اور اپنی اپنی سرزمینیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں کو یاد دلایا گیا کہ کوئی گروہ، گروہی مفاد اور اس کا تحفظ اتنا اہم نہیں کہ اس کی خاطر پاکستان اور افغانستان کے وسیع مفاد اور عوام کی سلامتی اور صدیوں پر محیط تاریخی و ثقافتی رشتوں کی قربانی دی جائے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ مہینے سرحدی جھڑپے شروع ہوئیں جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فضائی حملے بھی کیے۔ کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ملکوں کے سرحدی راستے بھی بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور عام لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
جرگے کے میزبان اور ایسپائر خیبر پختونخوا کے سربراہ ارباب شہزاد نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جرگے کے بعد بلوچستان کے مشران اور پھر افغانستان کے مشران کے ساتھ بھی نشستیں کریں گے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مشاورت ہو سکے۔
جرگے کے شرکا میں شامل ایسپائر کے پی کے عہدیدار اور سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے بتایا کہ ’ہم کوئی سیاسی نہیں ہیں بلکہ ایک شہری تنظیم ہیں اور پاکستان و افغانستان کی کشیدگی کے دیرپا حل کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملکوں کی ایک دوسرے سے شکایتیں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے علما، تاجر اور پراثر لوگوں سے رابطہ کر سکیں اور دونوں سول سوسائٹی مل کر اس کا حل نکالیں تاکہ پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا نور الحق قادری نے جرگے سے خطاب میں بتایا کہ جنگ اور تشدد سے امن اور محبت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ ہر عمل کا ردعمل اور ہر تشدد کا جواب نفرت سے ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد قانونی طور پر ہمیں جدا تو کر سکتی ہے لیکن مذہبی، لسانی اور مختلف مشترکہ رشتوں سے دونوں ممالک جڑے ہیں اور یہ سرحد ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔
انہوں نےکہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کی جنگ فساد ہے جس سے تجارت کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ طورخم بالکل خالی پڑا ہے جس سے صنعت کاروں کا نقصان ہو رہا ہے۔ ‘
جرگے میں سابق گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے کہا کہ پہلے تو فائر بندی کی ضرورت ہے اور کم از کم تین مہینے فائر بندی ہونا چاہیے تاکہ بات چیت کے لیے وقت مل جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی رہنما ارباب خضر حیات نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دونوں ممالک میں بامقصد شہری سفارت کاری کے ذریعے امن کے لیے کوششیں جاری ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس پلیٹ فارم کے تحت ہونے والے مشاورت کا دائرہ قومی سطح کی سیاسی، مذہبی، اور سماجی قیادت تک وسیع کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہاں ہم سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان آئے ہیں لیکن افغانستان میں سول سوسائٹی کا وجود ختم ہو چکا ہے تو ہماری کوشش یہی ہونا چاہیے کہ وہاں بھی اس طرح کی ایک تنظیم بنائی جائے اور مشترکہ کاوشیں کر سکیں۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی ماحول میں سول سوسائٹی کا اس طرح اکٹھا ہونا ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں بات چیت کرنے والے اب سامنے نہیں آ رہے ہیں تاکہ وہ تعلقات کی بہتری کی بات کریں۔
افغان امور کے ماہر اور صحافی طاہر خان نے بتایا کہ ’میں سمجھتا ہوں اس جرگے کا انعقاد، ان لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت دینا اور منع نہ کرنا بھی اہم پیش رفت ہے۔‘
طاہر خان کا کہنا تھا کہ ’جرگے میں پالیسیوں پر تنقید بھی کی گئی اور کھل کر بات کی گئی ہے جبکہ جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا تو اس ماحول میں یہ جرگہ مسائل کے حل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘
جرگے میں جماعت اسلامی کی نمائندگی کرنے والے سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس جرگے کے بہتر نتائج آ سکتے ہیں اگر مقتدرہ حلقے اس کے نکات پر عمل درآمد کریں۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ممکن ہے کیونکہ افغان لوگوں میں پاکستان کے خلاف دشمن قوتوں نے نفرتیں پھیلائی ہیں اور یہ مسائل سفارت کاری اور اس طرح کے جرگوں کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔