پاکستان اور افغانستان میں طوفانی بارشوں سے 45 اموات: اے ایف پی

افغانستان کے محکمۂ قدرتی آفات کے مطابق بارشوں کے باعث 28 افراد جان سے گئے جب کہ پاکستانی این ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا میں 17 اموات کی اطلاع دی ہے۔

افغانستان اور پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے اداروں نے پیر کو خبر دی ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے نتیجے میں کم از کم 45 اموات ہو چکی ہیں۔

جمعرات سے افغانستان بھر میں جاری بارشوں نے متعدد صوبوں میں سیلاب آئے ہیں اور مٹی کے تودے گرے ہیں۔

افغانستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ANDMA) کا کہنا ہے کہ اب تک 28 افراد جان سے گئے ہیں جب کہ 49 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 100 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

پولیس ترجمان صدیق اللہ صدیقی نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان کے شمال مغربی صوبہ بادغیس میں آسمانی بجلی گرنے سےایک 14 سالہ لڑکا جان سے گیا۔

صدیقی نے کہا کہ اسی صوبے میں ’تین افراد اس وقت ڈوب گئے جب وہ ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بہتی ہوئی لکڑیاں نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

افغان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق طوفانی موسم نے کم از کم 130 گھروں کو بھی تباہ کر دیا، جبکہ 430 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

سرحد کی دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ نے پیر کو کہا ہے کہ صوبے میں 25 مارچ سے اب تک بارشوں کے سبب ہونے والے حادثات میں 17 افراد کی جان جا چکی ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بارشیں ہوئیں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اتوار کی شب سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں 26 سے 30 مارچ تک بارش اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری کیا تھا۔

کراچی میں ریسکیو حکام کے مطابق گذشتہ بدھ کو ہونے والی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد حادثات میں 16 افراد جان سے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ڈی ایم اے نے بیان میں کہا کہ ’صوبہ میں ہونے والی بارشوں  کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 17 افراد جان سے گئے جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے۔‘

بیان میں کہا کہ مرنے والوں میں 14، ایک مرد اور دو خواتین جب کہ زخمیوں میں 25 مرد ، 5 خواتین اور 26 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 11گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا۔

یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ،  دیر اپر، باجوڑ،  بٹگرا م اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے۔

صوبائی محکمے نے کہا کہ سب سے زیادہ ضلع بنوں متاثر ہوا اور صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ منگل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کی شدت گذشتہ سال کی نسبت زیادہ شدید ہو گی۔

گذشتہ سال مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے شدید تباہی مچائی تھی جس کے باعث ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان