تہران: ایرانی قدس فورس کے کرنل اپنے گھر کے سامنے قتل

اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے اس رکن کے قتل کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ پر نہیں ڈالی اور اسے صرف ’انقلاب مخالف اور عالمی تکبر سے وابستہ عناصر کا مجرمانہ فعل‘ قرار دیا۔

22 ستمبر 2019 کی اس تصویر میں تہران میں پریڈ کرتے ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار(اے ایف پی)

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کرنل حسن صیاد خدائی کو تہران میں ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حسن صیاد خدائی کا قتل 22 مئی 2022 بروز اتوار مقامی وقت شام چار بجے ہوا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اہلکار ’مزارات کے محافظوں‘ میں سے ایک تھے اور انہوں نے شام میں جنگ لڑی تھی۔ انہیں جنوب مشرقی تہران میں مجاہدین اسلام سٹریٹ پر ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر قتل کیا گیا۔

’مزارات کے محافظ‘ ایک اصطلاح ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ان ملیشیاؤں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو قدس فورس (پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کام کرنے والی شاخ) سے وابستہ ہیں اور جو شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران شامی صدر بشار الاسد کے دفاع میں جنگ لڑے تھے۔

پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی ایک بیان میں تسنیم نیوز ایجنسی کی خبر کی تصدیق کی ہے۔

انڈپینڈنٹ فارسی کے مطابق بیان میں ہلاک ہونے والے شخص کا نام ’کرنل حسن صیاد خدائی‘ بتایا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خدائی کو تہران کے وقت کے مطابق شام چار بجے ’دو موٹر سائیکل سواروں‘ نے پانچ گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے اس رکن کے قتل کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ پر نہیں ڈالی اور اسے صرف ’انقلاب مخالف اور عالمی تکبر سے وابستہ عناصر کا مجرمانہ فعل‘ قرار دیا۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’حملہ آور یا حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ضروری کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور یہ جاری ہے۔‘

تاحال کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کی طرف سے جو تصویر شائع کی گئی اس میں کار کا ڈرائیور اپنے خون آلود دائیں بازو پر سر رکھے نظر آ رہا ہے۔

خبر سامنے آنے کے فوراً بعد تہران کے پراسیکیوٹر علی صالحی کا کہنا ہے کہ وہ اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے اور انہوں نے’اس سلسلے میں خصوصی احکامات‘ جاری کر دیے تھے۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’عدلیہ‘ خدائی کی موت کے مجرموں کو ’سخت سزا‘ دے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان کو دہراتے ہوئے کہا: ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرنے والے ممالک خاموش ہیں اور اس کی حمایت کررہے ہیں۔‘

قدس فورس کیسے کام کرتی ہے؟

حالیہ برسوں میں اسرائیل نے نہ صرف شام میں پاسدران اسلامی انقلاب (آئی آر جی سی) کے ٹھکانوں بلکہ ایران میں بھی آئی آر جی سی کے اہم لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ایران میں بعض شخصیات کو ہٹانے کے لیے اہدافی حملوں کو کامیابی سے انجام دیا ہے۔

 مثال کے طور پر نومبر 2016 میں القاعدہ کے اہم کارکن ابو محمد المصری کو تہران میں قتل کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ وزارت دفاع کی ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ اور اسلامی جمہوریہ کے ایٹمی پروگرام کی اہم شخصیات میں سے ایک محسن فخری زادہ کو جمعہ 28 دسمبر 2016 کو تہران سے تقریباً 80 کلومیٹر مشرق میں سڑک پر قتل کر دیا گیا تھا۔

تاہم پاسداران انقلاب کے ریکارڈ اور اسلامی جمہوریہ ایران سے منسلک سکیورٹی ایجنسیوں نے اس کا الزام غیر ملکی سکیورٹی فورسز پر لگایا ہے۔

سب سے زیادہ بدنام کیسوں میں سے ایک ’ایٹمی سائنسدانوں کا قتل‘ ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران کی سکیورٹی سروسز نے اسرائیلی انٹیلی جنس سروس سے منسوب کیا ہے، جبکہ مزید شواہد بتاتے ہیں کہ اس منصوبے میں اسلامی جمہوریہ کا اپنا اہلکار بھی ملوث تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا