بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان کو جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی رائے شماری میں رکن ممالک نے جنسی بدسلوکی کے الزامات پر برطرف کر دیا۔
کریم خان مئی 2024 میں اس وقت معروف ترین عالمی پراسیکیوٹرز میں سے ایک بن گئے تھے، جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے اعلان نے آئی سی سی کو امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی میں لا کھڑا کیا۔
کریم خان کو طویل عرصے سے تنقید کا سامنا رہا ہے اور انہوں نے سیاسی کشمکش برداشت کی۔
وہ پہلی بار بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز اس وقت بنے جب انہوں نے لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کے جنگی جرائم کے مقدمے کے دوران وکیل صفائی کی حیثیت سے کام کیا۔
2007 میں مقدمے کے پہلے دن، کریم خان نے یہ اعلان کرنے کے بعد کہ ٹیلر نے انہیں ہٹا دیا ہے، ججوں کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کمرہ عدالت سے واک آؤٹ کیا۔
ایڈنبرا میں ایک پاکستانی ماہرِ امراضِ جلد اور ایک برطانوی نرس کے ہاں پیدا ہونے والے 56 سالہ کریم خان نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔
1997 اور 2001 کے درمیان سابق یوگوسلاویہ اور روانڈا دونوں کے لیے اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے عارضی ٹربیونلز کے پراسیکیوٹر کے دفتر میں قانونی مشیر بننے سے قبل، انہوں نے اپنا ابتدائی کیریئر برطانیہ کی پراسیکیوشن سروس میں گزارا۔
اس کے بعد کریم خان نے کینیا، سوڈان اور لیبیا سے متعلق آئی سی سی کے مقدمات پر کام کیا۔ انہوں نے کینیا کے صدر ولیم روٹو کے خلاف انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد کے مقدمے کو خارج کروانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عراق میں داعش کے جرائم کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ایک ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے کریم خان نے آئی سی سی پراسیکیوٹر بننے کے لیے درخواست دی۔
شارٹ لسٹ میں جگہ نہ بنا پانے والے ایک بیرونی امیدوار ہونے کے باوجود، انہوں نے 2021 میں برطانیہ اور افریقی ریاستوں کی جانب سے کی جانے والی شدید سیاسی لابنگ کی مہم کے بعد یہ عہدہ حاصل کیا۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد، انہوں نے کثرت سے ان ممالک کا سفر کیا، جہاں آئی سی سی تحقیقات کر رہی تھی، جن میں یوکرین، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے شامل ہیں۔
2023 میں، عدالت نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، جس کے نتیجے میں کریم خان کو 2025 میں روس میں ان کی غیر موجودگی میں چلائے گئے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔
احمدیہ برادری سے تعلق رکھنے والے کریم خان نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کے طور پر اپنے دور میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور بچوں کے حقوق کے دفاع کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔
نتن یاہو کے وارنٹ پر شدید ردعمل
مئی 2024 میں کریم خان نے اعلان کیا کہ وہ نتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر وارنٹ کا اعلان کرنے والی ایک ویڈیو میں خان نے کہا کہ ’کوئی بھی سزا سے بچ کر من مانی نہیں کر سکتا۔‘
ان وارنٹس کی، جن کی آئی سی سی کے ججوں نے اسی سال کے آخر میں تصدیق کی تھی، نہ صرف اسرائیل اور امریکہ بلکہ اٹلی اور ہنگری جیسے آئی سی سی کے کچھ رکن ممالک کی جانب سے بھی مخالفت کی گئی۔
اس کے بعد سے امریکہ نے کریم خان سمیت عدالت کے 11 اہلکاروں اور غزہ کیس پر عدالت کے ساتھ کام کرنے والی کئی غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دیں۔
وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کے فیصلے پر عدالت اور کریم خان پر دباؤ کے ماحول میں، اکتوبر 2024 میں یہ خبر سامنے آئی کہ کریم خان کے دفتر کی ایک جونیئر وکیل نے ان پر جنسی بدسلوکی کا الزام لگایا۔
کریم خان نے ان الزامات کی تردید کی لیکن وہ مئی 2025 میں چھٹی پر چلے گئے کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی کڑی نظر نے ان کے لیے اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق، آٹھ جون کو آئی سی سی کی گورننگ باڈی کے ایگزیکٹیو بیورو نے، جو رکن ممالک کے سفارت کاروں پر مشتمل ہے، ایک فیصلہ جاری کیا جس میں پتہ چلا کہ کریم خان ایک جونیئر وکیل کے ساتھ نامناسب جنسی تعلق میں ملوث تھے اور انہیں برطرف کیا جانا چاہیے۔
حالیہ انٹرویوز میں، کریم خان اور ان کے وکلا نے یہ اشارہ دیا ہے کہ بدسلوکی کے الزامات اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سیاسی دباؤ کی مہم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ’انہوں نے اپنی بدسلوکی سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں اسرائیل کو قربانی کا بکرا بنانا چاہا۔ آج عالمی برادری نے اس مذموم کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔‘
آئی سی سی کی دستاویزات کے مطابق، اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ان باتوں کو مسترد کر دیا کہ متاثرہ خاتون کا غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعلق تھا۔
آئی سی سی کے رکن ممالک نے جمعے کو انہیں برطرف کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس سے نئے پراسیکیوٹر کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
فرانس، نیدرلینڈز اور ناروے نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ انہوں نے ان کی برطرفی کی حمایت کی ہے۔