ممکنہ تیراہ آپریشن: نقل مکانی کے لیے تیار 5000 خاندانوں کا اندراج

ضلع خیبر انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کے پیندی چینہ کے علاقے میں کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں امن و امان کی کشیدہ صورت حال اور ممکنہ سکیورٹی آپریشن کے پیش نظر نقل مکانی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے مطابق 5000 سے زائد متاثرہ خاندانوں کا اندراج مکمل ہو گیا ہے۔

تیراہ میں آفریدی قبائل کے 24 رکنی نمائندہ جرگے اور انتظامیہ کے درمیان گذشتہ ماہ ہونے والی نشست میں آپریشن کی مشروط اجازت کے بعد عارضی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

‎نمائندہ جرگے کی جانب سے حکومت کے سامنے شرائط رکھی گئی ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تمام تر ذمہ داری جس میں خوراک، نقل مکانی کے لیے گاڑیوں کی فراہمی اور دیگر انتظامات شامل ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

ضلع خیبر کی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تیراہ کے علاقے پیندی چینہ میں انتظامیہ کی جانب سے کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

اس کیمپ میں عہدےدار کے مطابق پانچ جنوری تک تقریباً 5000 خاندانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے اور مجموعی طور نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہے۔

عہدےدار نے بتایا کہ ’رجسٹرڈ متاثرین میں 5000 ہزار سے زائد مرد، تقریباً 5000 ہزار خواتین اور 13 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔‘

ان متاثرین کے لیے کیمپ میں کھانے پینے کا بندوبست کیا گیا ہے جب کہ گاڑیوں کا انتظام حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور ان کا کرایہ حکومت ادا کرے گی۔

گذشتہ روز ضلع خیبر سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے کیمپ کا دورہ بھی کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران کھانا لیٹ ہونے کی وجہ سے عبدالغنی نے انتظامیہ کو سخت تنبیہ بھی کی کہ آئندہ اگر ایسا کیا گیا تو ان کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا جائے گا۔

کیا متاثرین کیمپ میں رہتے ہیں؟

وادی تیراہ خیبر کا ٹھنڈا علاقہ ہے اور سردی میں زیادہ تر وہاں برف باری بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہاں بہت کم لوگ زندگی گزارتے ہیں۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی عبدالقیوم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تیراہ کے رہائشیوں میں سے اکثر کے جمرود یا تحصیل باڑہ میں بھی مکانات ہیں اور سردی میں وہ تیراہ سے انہی مکانات میں منتقل ہو جاتے تھے۔

عبدالقیوم نے بتایا، ’چوں کہ جمرود اور تحصیل باڑہ میں تیراہ کے مقابلے میں سردی کم پڑتی ہے تو تیراہ کے مقامی لوگ جمرود یا باڑہ کے مکانات میں آباد ہوتے ہیں اور اب بھی ممکنہ آپریشن کی وجہ سے زیادہ لوگ اپنے مکانات میں مقیم رہیں گے۔‘

تاہم عبدالقیوم کے مطابق جن کے مکانات نہیں ہیں تو وہ جمرود یا باڑہ میں مقامی لوگوں کے حجروں میں قیام پذیر ہوتے ہیں اور یا کچھ لوگ کیمپ میں رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ تیراہ کے نمائندے جرگے نے آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے دو مہینے کا وقت حکومت کو دیا ہے اور اس کے بعد متاثرین کی باعزت واپسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وادی تیراہ اور شدت پسندی

وادی تیراہ میں حکومت کی جانب سے ابھی باقاعدہ کسی بڑے آپریشن کا اعلان تو نہیں کیا گیا، تاہم عسکری حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں جہاں بھی شدت پسند ہوں گے، ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کریں گے۔

وادی تیراہ تقریباً 100 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کا کچھ حصہ ضلع اورکزئی میں بھی شامل ہے اور یہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد ضم ہونے والے دیگر اضلاع کی طرح خیبر اور وادی تیراہ میں بھی شدت پسندی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور اس کی وجہ وادی تیراہ کا افغانستان کے ساتھ ملحقہ بارڈر ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق شدت پسند افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں اور یہاں پر کارروائی کر کے واپس افغانستان جا کر چھپ جاتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تاہم افغان طالبان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ارکان ان کے ملک میں موجود نہیں ہیں۔

ماضی میں ضلع خیبر اور خاص طور پر وادی تیراہ میں لشکر اسلام نامی شدت پسند گروپ سرگرم رہا، جس کی سربراہی منگل باغ کر رہے تھے، جو 2021 میں افغانستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔

اس سے پہلے تیراہ سمیت ضلع خیبر میں 2014 سے 2017 تک خیبرایک، خیبردو، خیبرتین اور خیبرچار کے نام سے فوجی کارروائیاں کر کے شدت پسندوں کا صفایا کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان