پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو وادی تیراہ کے حوالے سے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی ’ناکامیوں‘ کا ملبہ فوج یا کسی ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے ’جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے‘۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے تیراہ سے مقامی لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے بات کی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’اس علاقے کے مکین برف باری شروع ہوتے ہی وہاں سے نکل جاتے ہیں اور تین چار ماہ بعد واپس آ جاتے ہیں۔‘
جمعے کو وادی میں تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان کے باعث پھنس گئے تھے۔
جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 نے ہفتے کو بتایا تھا کہ شدید برف باری سے متاثرہ وادی تیراہ میں پھنسے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے.
اس نقل مکانی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ ’مجوزہ فوجی آپریشن‘ کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔
تاہم منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا جس میں 24 یا 26 کے قریب مشران شامل تھے وہ ٹی ٹی پی کے پاس گئے کہ ہماری نقل مکانی شروع ہونی ہے تو اس سلسلے میں کوئی اتفاق رائے کیا جائے، اور بعد میں وہ مشران صوبائی حکومت سے بھی ملے۔‘
ان کے مطابق ’جرگہ مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے اور چار ارب روپے کا پیکج تیار کیا گیا۔ اس سارے معاملے سے اس علاقے میں تعینات فوجی اہلکاروں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
’اس علاقے میں فوجی آپریشن کئی سال پہلے ہوا تھا اور وقت کے ساتھ سٹریٹیجک فیصلہ لیا گیا کہ آپریشن سے زیادہ آئی بی اوز زیادہ موثر ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں عام شہریوں کا نقصان کم ہوتا ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’فوج نے آئی بی اوز کے مقابلے میں آپریشن کو ترک کر دیا اس لیے آپریشن کا وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ نقل مکانی ایک روٹین ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سارے عرصے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھی جائے تو نہ وہاں سکول ہیں نہ ہسپتال ہیں اور نہ ہی کوئی تھانہ ہے اور صوبائی حکومت کا کچھ عرصہ قبل جرگے کے ساتھ طے پایا تھا کہ وہاں پولیس سٹیشن بچیوں کے سکول بنائے جائیں گے۔‘
وفاقی وزیر دفاع نے سوال کیا کہ ’صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن اور جرگے کی موجودگی میں راڈار پر آپ کو فوج کہاں نظر آ رہی ہے؟
’خیبر پختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا سارے کا سارا ملبہ فوج یا کسی ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔‘
دوسری جانب تیراہ سے نقل مکانی پر وفاقی حکومت کے ایک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے 25 جنوری کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نوٹفکیشن جاری ہوا ہے کہ تیراہ کے متاثرین خود اپنا علاقہ چھوڑ کر آ رہے ہیں تو مجھے یہ بتایا جائے کہ وہ نواز شریف کے پوتے کی شادی میں جارہے تھے؟‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’پاکستانیو جو یہ نوٹفکیشن نکالا گیا ہے یہ صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔ اس سے تھوڑا بہت جو اعتماد ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔
’آج کے بعد میں حکم دیتا ہوں ہماری وفاقی حکومت کے ساتھ جو بھی معاملات ہوں گے وہ ثبوت کے ساتھ ہوں گے تاکہ بعد میں جو یہ گند پھیلاتے ہیں، جو بند کمروں کے فیصلے پہلے مسلط کرتے ہیں نقصان ہونے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں تاکہ پھر کوئی اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اعلان کرتا ہوں کہ آنے والے اتوار کو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا اس جرگے میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ آپ کو نکالا گیا یا آپ خود آئے؟ اگر آپ کی بات جھوٹی ہوئی تو اتوار کے بعد اپنے لوگوں کو میں خود تیراہ چھوڑنے جاوں گا۔‘